मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 3 دن پہلے fiber_manual_record 136 بار دیکھا گیا
,
عنوان: محمّد مصطفیٰ آئے
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: حافظ فیض الحسن
نعت خوان/ فنکار: حافظ فیض الحسن
شامل کیا گیا: 16 Sep, 2024 08:33 AM IST
دیکھا گیا: 434
Time to read: 2 min read
مرحبا مرحبا مرحبا مرحبا،
مرحبا مرحبا مرحبا مرحبا
میرے مصطفیٰ آگئے، مرتضیٰ آگئے،
میرے آقا میرے پیشوا آگئے،
جھلملانے لگی نور سے کائنات،
ختم ہوگا اب ظلم و تسدّد کا باب،
سارے عالم کے مشکل کشا آگئے۔
یا نبی یا نبی یا نبی
صلٰی اللہ سلامُ اللہ علیک یا رسول اللہ، علیک یا حبیب اللہ
حبیبِ خالقِ داور محمد مصطفیٰ آئے،
نبوت کی سند لے کر محمد مصطفیٰ آئے۔
صلٰی اللہ سلامُ اللہ علیک یا رسول اللہ، علیک یا حبیب اللہ
ہیں رخشاں نور سے جن کے ستارے عرشِ اعظم پر،
وہ نورِ دو جہاں بن کر محمد مصطفیٰ آئے۔
صلٰی اللہ سلامُ اللہ علیک یا رسول اللہ، علیک یا حبیب اللہ
فرشتے صدیانے صدمَنی کے بجاتے ہیں،
عجب انداز سے سرور محمد مصطفیٰ آئے۔
صلٰی اللہ سلامُ اللہ علیک یا رسول اللہ، علیک یا حبیب اللہ
نہ چمکے دہر میں کیوں مشعلِ نورِ اَزَل ہر سُو،
تجمّل سے ماہِ اَنور محمد مصطفیٰ آئے۔
صلٰی اللہ سلامُ اللہ علیک یا رسول اللہ، علیک یا حبیب اللہ
جو بی بی آمنہ اور خواجہ عبداللہ کے پیارے ہیں،
وہ محبوبِ خدا بن کر محمد مصطفیٰ آئے۔
صلٰی اللہ سلامُ اللہ علیک یا رسول اللہ، علیک یا حبیب اللہ
دیا آئے تاجِ مُژدہ جن کا موسیٰ اور عیسیٰ نے،
وہی سلطانِ بحر و بَر محمد مصطفیٰ آئے۔
صلٰی اللہ سلامُ اللہ علیک یا رسول اللہ، علیک یا حبیب اللہ
مرحبا مرحبا مرحبا مرحبا،
مرحبا مرحبا مرحبا مرحبا
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلام حضورِ اکرم ﷺ کی ولادتِ با سعادت کے موقع پر کائنات میں ہونے والے جشن اور آپ ﷺ کی عظمتِ شان کو بیان کرتا ہے۔ اس میں آپ ﷺ کی آمد کو انسانیت کے لیے ظلم سے نجات اور ہدایت کا پیغام قرار دیا گیا ہے۔
شاعر کہتا ہے کہ جب محمد مصطفیٰ ﷺ تشریف لائے تو پوری کائنات نور سے منور ہوگئی اور فرشتے بھی خوشی کے شادیانے بجانے لگے۔ آپ ﷺ وہ عظیم ہستی ہیں جن کی آمد کی خوشخبری سابقہ انبیاء (موسیٰ و عیسیٰ علیہ السلام) نے بھی دی تھی اور آپ ﷺ اللہ کے وہ محبوب ہیں جو پوری دنیا کی مشکل کشائی کے لیے تشریف لائے ہیں۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| پیشوا | رہنما / سردار |
| تسدّد (تشدّد) | سختی / ظلم و ستم |
| خالقِ داور | کائنات کا پیدا کرنے والا (اللہ تعالیٰ) |
| رخشاں | چمکتا ہوا / روشن |
| مشعلِ نورِ ازل | ہمیشہ رہنے والی روشنی |
| مژدہ | خوشخبری |
| سلطانِ بحر و بر | زمین اور سمندر کے بادشاہ |
اس نعت کا خلاصہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ولادت انسانیت پر اللہ کا سب سے بڑا احسان ہے جس نے کفر اور ظلم کے اندھیروں کو مٹا کر حق کی روشنی پھیلائی۔ شاعر آپ ﷺ کو "نورِ دو جہاں" اور "محبوبِ خدا" قرار دے کر آپ ﷺ کی آمد پر "مرحبا" کے نعروں سے اپنی والہانہ عقیدت کا اظہار کر رہا ہے۔
نعت کے آخری بند کے مطابق، وہ کون سے دو انبیاء ہیں جنہوں نے سلطانِ بحر و بر (حضور ﷺ) کے آنے کی خوشخبری (مژدہ) دی تھی؟