मेरे सरकार आए
- 9 مہینے پہلے fiber_manual_record 719 بار دیکھا گیا
,
عنوان: مورے خواجہ مہاراجا کرو کرپا
زمرہ: قوّالی کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: عبید اشرفی
نعت خوان/ فنکار: عبید اشرفی
شامل کیا گیا: 19 Feb, 2023 11:07 AM IST
دیکھا گیا: 4.9K
Time to read: 4 min read
خواجہ جی، خواجہ جی، یا خواجہ جی، یا خواجہ جی
دلوں پہ حضرتِ خواجہ پیا کی حکمرانی ہے،
عجب طرزِ تکلم ہے، عجب موجِ روانی ہے
خُدا نے اس لیے خواجہ پیا کی بات مانی ہے،
میرا خواجہ، میرے پیارے محمد ﷺ کی نشانی ہے
خواجہ ہمارے درد کا درماں تم ہی تو ہو،
ہم جس میں بس رہے ہیں وہ دنیا تم ہی تو ہو
مالا تمہارے نام کی کیوں کر نہ ہم جپیں،
ہم چشتیوں کا حاصلِ ایمان تم ہی تو ہو
صاحب جی، سلطان جی، تم بڑے غریب نواز
صاحب جی، سلطان جی، تم بڑے غریب نواز
مورے خواجہ مہاراجا کرو کرپا،
مورے خواجہ مہاراجا کرو کرپا
مجھ پہ کرپا کرو، مجھ پہ کرپا کرو، مجھ پہ کرپا کرو،
مورے خواجہ مہاراجا کرو کرپا،
خواجہ عثمان کے لال کرو کرپا
آپ کا میلہ جب جب آیا، سب نے آس لگائی،
سب لائے پھولوں کی چادر، میں ٹوٹا دل لائی
مورے خواجہ مہاراجا کرو کرپا،
خواجہ عثمان کے لال کرو کرپا
کرپا کیجیے، درشن دیجیے، سوئے بھاگ جگائیے،
مولا علی کے صدقے میں، کبھی مورے گھر بھی آئیے
مورے خواجہ مہاراجا کرو کرپا،
خواجہ عثمان کے لال کرو کرپا
تمرا دوار چھوڑ کتھ جاؤں،
تم ہو غریب نواز بلما
چاہے بناؤ، چاہے بگاڑو،
لاج ہے تمھارے ہاتھ بلما
سب بھولے، مجھے تم نہیں بھولو،
تم سے لگی میری آس بلما
اب تم میرے بنو نہ بنو، تم کو اختیار،
تقدیر نے مجھے تو تمہارا بنا دیا
مورے خواجہ مہاراجا کرو کرپا،
خواجہ عثمان کے لال کرو کرپا
نہ ہم تقدیر لائے ہیں، نہ ہم تدبیر لائے ہیں،
گلے میں طوق ہے اور پاؤں میں زنجیر لائے ہیں،
ہم اپنے دل میں پیر کی تصویر لائے ہیں
مورے خواجہ مہاراجا کرو کرپا،
خواجہ عثمان کے لال کرو کرپا
جُگ جُگ جیو، چندا مانگے تُو جا مانیا،
سانوں یاد رکھے، تیری بڑی مہربانیاں
تیرے تو بغیر میرا دل نہیں لگنا،
تُوں سانوں لبھن کے ایسا نئیں لبھنا
فکر نہ کر، میں تو چھت مورے آؤں گا،
خواجہ یاد رکھو، تیرا پیار نہ بھلاؤں گا
مورے خواجہ مہاراجا کرو کرپا،
خواجہ عثمان کے لال کرو کرپا
ایسی رنگ دو، رنگ نہیں چھوٹے،
ایسی رنگ دو، رنگ دو
رنگ وہ رنگ جس میں خوشبو پھوٹے
زلفِ محمد ﷺ کی خوشبو بسا دے،
بُوئے علیؓ سے چنری مہکا دے
خوشبو ہو کہر النشا کے چمن کی،
شبیر و شبّار کے مشک دہن کی
خواجہ قطب کو بھی یہ رنگ بھائے،
بابا فرید خوش ہو ہو جائے
اپنے کرم کی کر دو نظریہ،
خواجہ پیا! میری رنگ دو چنریا
مورے خواجہ مہاراجا کرو کرپا،
خواجہ عثمان کے لال کرو کرپا
تم کو رسولِ پاک ﷺ کی عظمت کا واسطہ،
خواجہ کرم کرو، تمہیں نسبت کا واسطہ
مورے خواجہ مہاراجا کرو کرپا،
خواجہ عثمان کے لال کرو کرپا
محمد ﷺ پر جو اترا ہے، اُسی قرآن کا صدقہ،
اپنے پیر و مرشد خواجہ عثمان کا صدقہ
مورے خواجہ مہاراجا کرو کرپا،
خواجہ عثمان کے لال کرو کرپا
دنیا سمجھ رہی ہے میرا کوئی بھی نہیں،
میں مطمئن ہوں، میرے طرف چشمِ یار ہے
نہ دیکھو خامیاں میری، دکھاؤ شانِ رحمت کی،
تمہارے ہوں، تمہیں رکھنی پڑے گی لاج نسبت کی
مورے خواجہ مہاراجا کرو کرپا،
خواجہ عثمان کے لال کرو کرپا
یہ دوپہر کا عالم اور دھوپ چمچماتی،
جاتی ہے ایک دکھیاری خواجہ سے لو لگاتی
جا تو رہی ہے لیکن منزل سے بے خبر ہے،
یہ اُس کے عشقِ کامل کا دیکھیے اثر ہے
خود اُس کا عشق، اُس کو منزل پہ لے چلا ہے،
دریائے معرفت کے ساحل پہ لے چلا ہے
جلتی ہوئی زمین ہے اور ننگے پاؤں چلنا،
خواجہ کا نام لینا، پھر گر کے پھر سنبھلنا
اُس در پہ پہنچی جس دم، بے کس وہ غم کی ماری،
دیکھا جو درِ خواجہ، رو رو کے یہ پکاری:
"میں اپنے وقتِ خُفتہ کو تیرے در سے جگاؤں گی،
ابھاگن بن کے آئی تھی، سہاگن بن کے جاؤں گی!"
مورے خواجہ مہاراجا کرو کرپا،
خواجہ عثمان کے لال کرو کرپا
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ صوفیانہ کلام، برج بھاشا، پنجابی اور اردو زبان کا ایک ایسا حسین اور دلکش امتزاج ہے جو سننے والے کو وجد میں لے آتا ہے۔ اس منقبت میں خواجہ غریب نواز حضرت معین الدین چشتی اجمیریؒ کی بارگاہِ عالیہ میں ایک عقیدت مند کے عشق، عاجزی اور کامل یقین کو بڑی خوبصورتی سے پرویا گیا ہے۔
ان پُر اثر اشعار کا مطلب ہے کہ "سلطان الہند خواجہ غریب نواز کروڑوں دلوں کے بادشاہ ہیں کیونکہ وہ حضورِ اکرم ﷺ کی سچی نشانی اور ان کی رحمت کا عکس ہیں۔" جب عرس کے مبارک موقع پر ساری دنیا ان کے آستانے پر منتوں اور مرادوں کے پھولوں کی چادر چڑھاتی ہے، تب ایک ٹوٹا ہوا، مایوس اور دکھی دل ان کے حضور حاضر ہو کر اپنی قسمت کو آلِ رسول ﷺ کے روحانی رنگ میں رنگنے کی التجا کرتا ہے۔
| الفاظ | معنی (Meanings) |
|---|---|
| طرزِ تکلم / موجِ روانی | بات کرنے کا خوبصورت انداز / گفتگو کی روانی اور تاثیر |
| درماں / حاصلِ ایمان | مرض کا علاج یا دوا / ایمان کی اصل پونجی یا نچوڑ |
| کرپا / دوار | مہربانی، نظرِ کرم یا دَیا / چوکھٹ یا آستانہ |
| طوق / نسبت | غلامی کا پٹہ (یہاں مراد مریدی ہے) / روحانی تعلق یا جُڑاؤ |
| چشمِ یار / مشکِ دہن | محبوب (پیر) کی محبت بھری نگاہ / مبارک منہ کی خوشبو |
| عشقِ کامل / دریائے معرفت | سچی اور سرفروشانہ محبت / الٰہی سچائی اور باطنی علم کا سمندر |
| وقتِ خُفتہ / ابھاگن | سوئی ہوئی قسمت / بدقسمت یا بد نصیب عورت |
اس کلامِ بلاغت نظام کا لبِ لباب یہ ہے کہ سلسلہ چشتیہ کے بزرگ اپنے مریدوں کے لیے ہر دکھ کا مداوا اور کائنات کا سب سے بڑا سہارا ہیں۔ ایک دکھیاری عورت چلچلاتی دھوپ میں، ننگے پاؤں، جلتی زمین پر گرتی سنبھلتی صرف خواجہ پیا کا نام لے کر ان کے در پر پہنچتی ہے؛ کیونکہ اسے اپنی تمام تر خامیوں کے باوجود خواجہ کی 'شانِ رحمت' اور غریب نوازی پر پورا بھروسا ہے۔ مرید کا یہ پختہ یقین آخر کار رنگ لاتا ہے اور وہ روتے ہوئے کہتی ہے کہ بھلے ہی وہ اس در پر ابھاگن (بدنصیب) بن کر آئی تھی، لیکن خواجہ کی کرپا اور نسبت کی برکت سے اب وہ یہاں سے سہاگن (خوش نصیب) بن کر لوٹے گی۔
لیرکس کے مطابق، جب سب لوگ خواجہ کے دربار پر پھولوں کی چادر لاتے ہیں، تو شاعر ان کے در پر کیا لے کر جاتا ہے؟