मेरे सरकार आए
- 9 مہینے پہلے fiber_manual_record 720 بار دیکھا گیا
,
عنوان: مورے آنگنا معین الدین آیو ری
زمرہ: قوّالی کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: امجد صابری صابری برادران
نعت خوان/ فنکار: امجد صابری صابری برادران
شامل کیا گیا: 19 May, 2023 08:07 AM IST
دیکھا گیا: 1.1K
Time to read: 1 min read
مورے آنگنا معین الدین آیو ری،
مورے آنگنا معین الدین آیو ری
خواجہ پیا ہیں جگ اُجیارے،
آلِ نبی، زہرا کے دلارے،
جانِ علی ہیں خواجہ، ابنِ سخی ہیں
مورے آنگنا معین الدین آیو ری،
مورے آنگنا معین الدین آیو ری
آج مورے گھر دھوم مچی ہے،
خواجہ پیا کی شادی رچی ہے،
دُولہا بنے ہیں خواجہ عثمان کے پیارے
مورے آنگنا معین الدین آیو ری،
مورے آنگنا معین الدین آیو ری
خواجہ قطب ہیں آج یہاں پر،
جھوم رہے ہیں سارے قلندر،
بابا فرید بھی آئے ہوئے ہیں
مورے آنگنا معین الدین آیو ری،
مورے آنگنا معین الدین آیو ری
من میں خوشی کے پھول کھلے ہیں،
آج موہے مورے خواجہ ملے ہیں،
خوشیاں مناؤ، سکھیو! جھوم کے گاؤ
مورے آنگنا معین الدین آیو ری،
مورے آنگنا معین الدین آیو ری
سونے کا دیارا میں چومُکھ باروں،
اپنے خواجہ کے میں تن من واروں،
آیو ری آیو، مورے بھاگ جگایو
مورے آنگنا معین الدین آیو ری،
مورے آنگنا معین الدین آیو ری
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ ایک نہایت ہی مقبول اور روایتی صوفیانہ کلام ہے جس میں سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی سنجری (خواجہ غریب نواز) کی شان اور ان کے عرس مبارک (روحانی ملاپ/شادی) کی بے پناہ خوشی کو ہندوی اور اردو کے خوبصورت امتزاج میں بیان کیا گیا ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ مرید اپنے دل کے آنگن میں خواجہ غریب نواز کی روحانی آمد پر نہال ہے، جو پورے جہان کے لیے روشنی (جگ اجیارے) ہیں اور جگر گوشۂ رسول ﷺ و اولادِ علی و فاطمہ (زہرا) ہیں۔ مرید کہتا ہے کہ آج میرے گھر میں خوشی کی دھوم ہے کیونکہ میرے خواجہ کا عرس ہے، جہاں وہ اپنے پیر و مرشد حضرت خواجہ عثمان ہارونی کے دلارے بن کر جلوہ گر ہوئے ہیں۔
| لفظ (Word) | معنی (Meaning) |
|---|---|
| مورے آنگنا | میرے آنگن میں |
| جگ اُجیارے | دنیا کو روشن کرنے والے / کائنات کا نور |
| آلِ نبی | حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی اولاد / نسل |
| ابنِ سخی | سخی کے بیٹے / سخاوت والے کی اولاد |
| عثمان کے پیارے | مراد حضرت خواجہ عثمان ہارونی کے مریدِ خاص |
| چومُکھ باروں | چومکھی (چار منہ والا) چراغ روشن کرنا |
| تن من واروں | اپنی جان اور دل قربان کرنا |
اس صوفیانہ کلام کا بنیادی لبِ لباب یہ ہے کہ خواجہ غریب نواز کے روحانی جشنِ ملاپ (عرس) کی خوشی میں نہ صرف زمینی بلکہ پورا روحانی نظام مگن ہے، جہاں چشتیہ سلسلے کے عظیم بزرگ جیسے خواجہ قطب الدین بختیار کاکی اور بابا فرید الدین گنج شکر بھی روحانی طور پر موجود ہیں۔ مرید اس بابرکت موقع پر اپنے نصیب (بھاگ) کے جاگنے پر خوش ہے اور سونے کا چومکھی دیا جلا کر اپنے مرشد پر اپنا سب کچھ نچھاور کرنے کے لیے تیار ہے۔
لیرکس کے مطابق، دولہا بنے خواجہ معین الدین کس کے پیارے مرید ہیں (ان کے پیر کا نام کیا ہے)؟