मेरे सरकार आए
- 9 مہینے پہلے fiber_manual_record 719 بار دیکھا گیا
,
عنوان: محمد ﷺ نہ ہوتے تو کچھ بھی نہ ہوتا
زمرہ: قوّالی کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: انور گجراتی
نعت خوان/ فنکار: چاند افضل قادری
شامل کیا گیا: 05 Dec, 2022 07:46 AM IST
دیکھا گیا: 13.2K
Time to read: 3 min read
اسلام کا اصول کوئی مانتا نہیں،
روزہ نماز حج زکوٰۃ جانتا نہیں۔
روئے زمیں پہ آتے نہ جو آمنہ کے لال،
کوئی خُدائے پاک کو پہچانتا نہیں۔
نہ کلیاں ہی کھلتی نہ گل مسکراتے،
اگر باغِ ہستی کا مالی نہ ہوتا،
یہ سب ہے میرے کملی والے کا صدقہ،
محمد ﷺ نہ ہوتے تو کچھ بھی نہ ہوتا۔
زمیں آسماں چاند تارے نہ ہوتے،
یہ دنیا کے رنگین نظارے نہ ہوتے،
نہ غنچے چھٹکتے نہ گل مسکراتے،
نہ پنچھی ہی وحدت کے نغمے سناتے،
نہ گلشن میں آتی یہ رنگین بہاریں،
برستی نہ رحمت کی رم جھم پھواریں،
گلوں میں یہ رنگِ جمالی نہ ہوتا،
محمد ﷺ نہ ہوتے تو کچھ بھی نہ ہوتا۔
یہ سب ہے میرے کملی والے کا صدقہ،
محمد ﷺ نہ ہوتے تو کچھ بھی نہ ہوتا۔
طفیلِ محمد ﷺ یہ دنیا بنی ہے،
انہی کے قدموں سے یہ دھرتی سجی ہے،
پہاڑوں، سمندر، یہ گلشن، یہ صحرا،
یہ دن رات، یہ صبح و شام و سویرا،
نہ آغاز ہوتا نہ انجام ہوتا،
نہ قرآن کا جاری فرمان ہوتا،
نشان تک بھی دنیا کا باقی نہ ہوتا،
محمد ﷺ نہ ہوتے تو کچھ بھی نہ ہوتا۔
کہاں پھر یہ خلقت کی تخلیق ہوتی،
کہاں پھر صداقت کی تصدیق ہوتی،
یہ آدم کا پتلا بنایا نہ ہوتا،
نبی کوئی دنیا میں آیا نہ ہوتا،
نہ یعقوب، یوسف، نہ عیسیٰ، نہ موسیٰ،
نہ داؤد، یحییٰ، نہ نوح، نہ زکریا،
نبوت کا یہ سلسلہ نہ ہوتا،
محمد ﷺ نہ ہوتے تو کچھ بھی نہ ہوتا۔
نہ "اللہ ہو اکبر" کی آتی صدائیں،
کبھی ختم ہوتا نہ دورِ جہالت،
بدلتی نہ ہرگز زمانے کی حالت،
نہ کعبہ میں ہوتی اذانِ بلالی،
بُتوں سے کبھی کعبہ ہوتا نہ خالی۔
اگر نورِ حق کا وہ ساتھی نہ ہوتا،
خُدا کا کوئی بھی پجاری نہ ہوتا،
نہ "اللہ ہو اکبر" کی آتی صدائیں،
نہ بندوں کی مقبول ہوتی دعائیں،
نہ آئیں آتے، نہ قرآن آتا،
نہ اُمت کی بخشش کا سامان آتا،
نہ گھر گھر میں قرآن کی ہوتی تلاوت،
نہ اللہ کی کوئی کرتا عبادت،
کہیں پر بھی ذکرِ الٰہی نہ ہوتا،
محمد ﷺ نہ ہوتے تو کچھ بھی نہ ہوتا۔
خُدا جانے کیا ہوتا محشر میں انور،
نہ آتے جہاں میں جو مولا کے دلبر،
گناہگار دیتے تب کس کی دہائی،
نہ ملتی کبھی عاصیوں کو رہائی،
خطاؤں پہ عاصی بہت گڑگڑاتے،
عذابِ الٰہی سے پر بچ نہ پاتے،
خُدا بخش دینے پہ راضی نہ ہوتا،
محمد ﷺ نہ ہوتے تو کچھ بھی نہ ہوتا۔
نبی کی جو جلوہ نمائی نہ ہوتی،
خُدا کی قسم یہ خُدائی نہ ہوتی۔
زمانے میں ہر سمت رہتا اندھیرا،
سدا رہتا تاریکیوں کا بسیرا،
یہ سب ہے میرے کملی والے کا صدقہ۔
اگر پیدا مولا کے دلبر نہ ہوتے،
یہ محراب و منبر منور نہ ہوتے۔
یہ سب ہے میرے کملی والے کا صدقہ
محمد ﷺ نہ ہوتے تو کچھ بھی نہ ہوتا۔
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ نعتِ پاک نبی کریم ﷺ کی عظمت، مرتبے اور ان کی سلطنت کا بیان ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ اس پوری کائنات کا نظام اور ہر نعمت انہی کے صدقے میں ہے۔
اس کلام کا مطلب ہے کہ اگر دنیا میں حضور ﷺ تشریف نہ لاتے، تو نہ تو کوئی خدا کو پہچانتا اور نہ ہی اس کائنات کا وجود ہوتا۔ زمین، آسمان، چاند تارے، پچھلے سارے انبیاء، اور یہاں تک کہ نماز، اذان اور قرآن کی تلاوت سب انہی کے نور کا صدقہ ہیں۔
| الفاظ (Word) | معانی (Meaning) |
|---|---|
| باغِ ہستی | کائنات کا باغ / دنیا کا وجود |
| وحدت | اللہ کی ایکتا / توحید کا بیان |
| طفیلِ محمد | محمد ﷺ کے وسیلے سے / ان کے صدقے میں |
| صحرا | ریگستان (Desert) |
| خلقت کی تخلیق | انسانوں کی پیدائش / کائنات کی تخلیق |
| صداقت کی تصدیق | سچائی کی گواہی / سچ کا ثابت ہونا |
| دورِ جہالت | گمراہی اور اندھیرے کا زمانہ |
| عاصیوں | گناہگاروں / خطا کاروں (Sinners) |
کائنات کا ہر ایک ذرہ اور ہر نعمت حضور ﷺ کی عطا ہے۔ شاعر 'انور' کہتے ہیں کہ نظامِ کائنات سے لے کر قیامت کے دن گناہگاروں کی بخشش تک، سب انہی سے جڑا ہے۔ اگر کملی والے ﷺ نہ ہوتے، تو خدا کی عبادت کرنے والا اور اس کی رحمت پانے والا کوئی نہ ہوتا۔
شاعر کے مطابق اگر "آمنہ کے لال" دنیا میں نہ آتے تو لوگ کس چیز کو نہیں پہچانتے، اور قیامت (محشر) میں گنہگاروں کا کیا انجام ہوتا؟