मेरे सरकार आए
- 9 مہینے پہلے fiber_manual_record 719 بار دیکھا گیا
,
عنوان: میرے بھارت جیسا کوئی دیش نہیں ہے
زمرہ: قوّالی کے بول (لیرکس)
شامل کیا گیا: 10 Nov, 2022 01:19 PM IST
دیکھا گیا: 1.8K
Time to read: 3 min read
چراگون کے سفر میں دبدبہ ہو آندھیوں کا،
انجام ظلمت کے سوا کچھ بھی نہیں،
یہ دنیا نفرتوں کے آخری اسٹیج پے ہے،
علاج اسکا محبّت کے سوا کچھ بھی نہیں
پرندہ پہلے خود کو تولتا ہے،
اُڈانوں کے لئے پر کھولتا ہے،
اکیلا مت سمجھ سرحد پے مجھکو،
میری وردی میں بھارت بولتا ہے
ایک اشارہ بھی کیا تو انگلی اُڈ جاۓ گی،
سب تیرے نام و مذہب کی تختیا اُڈ جاۓ گی،
ہم وفاداریں وطن ہیں آزما کے دیکھلے،
ہم سے الجھا تو تیری دھججیا اُڈ جاۓ گی
ہم لوگ دکھانے کی سیاست نہیں کرتے،
ہو جسمے ملاوٹ وہ محبّت نہیں کرتے،
ایک بار لگا لیتے ہیں جسکو گلے سے،
تا عمر عداوت نہیں کرتے
میری باتوں میں ہے سچّائ،
یہ جھوٹا میرا عُد٘یش نہیں ہے
میرے بھارت جیسا کوئی دیش نہیں،
میرے بھارت جیسا کوئی دیش نہیں
سب ہندوں مسلمان آپس میں،
مل مل کے گلے یوں کہتے ہیں،
اس دیش کی کیا تعریف کروں،
جس دیش میں خواجہ رہتے ہیں
میرے بھارت جیسا کوئی دیش نہیں،
میرے بھارت جیسا کوئی دیش نہیں
ہم سے نہ ٹکرانا کوئی چین ہو یا جاپان،
امریکا ہو روس یا چاہے ترکستان،
بھارت سے ٹکرانا کوئی کھیل نہیں آسان،
یہ خواجہ کا دیش ہے اسے کہتے ہیں ہندوستان
میرے بھارت جیسا کوئی دیش نہیں،
میرے بھارت جیسا کوئی دیش نہیں
پہن کے ریشمی کپڑے اداکاری نہیں کرتے،
ہم اپنی مفلسی کے ساتھ گدداری نہیں کرتے،
اٹھا لیتے ہیں وقت آنے پر اپنے ہاتھ میں نیزے،
کبھی ہم جنگ کی پہلے سے تیّری نہہی کرتے
یہ دیش ہے صوفی سنتوں کا،
ولیوں کے فیض بھی جاری ہے،
سب دنیا بھر کے جھنڈو پر،
میرا ایک ترنگا بھاری ہے
میرے بھارت جیسا کوئی دیش نہیں،
میرے بھارت جیسا کوئی دیش نہیں
خود کو بچینگے مگر تجھکو نہ بکنے دینگے،
ہم زمانے میں تیری شان نہ روکنے دینگے،
بچّا بچّا بھی کٹا دینگے تیرے نام پر ہم،
جان دے دینگے ترنگا نہیں جھکنے دینگے
باغِ جنّت کی یہ تصویر نہیں دے سکتے،
ہم کسی حال میں کشمیر نہیں دے سکتے،
ہم یہ نہ دیکھے کے ہندوں مسلمان کون ہے،
اسکا پتا لگاۓ کے انسان کون ہے،
یہ مسجد و مندر کے مسائل میں نہ الجھنا،
گھر گھر تو جائے دیکھے پریشان کون ہے
زندگی اس نے اتا کی محبّت کے لئے،
یہ نہ نفرت کے لئے ہے نہ بغاوت لئے ہے،
جنگ کی گرم ہواؤں سے بچاؤں اس کو،
یہ تو جنّت ہے جہنّم نہ بناؤ اس کو،
زندگی وہ ہے جو ماں باپ کے ساۓ میں رہے،
زندگی وہ ہے محبّت کے اجالے میں رہے،
رام والے ہو تو ونواس نظر میں رکھو،
کربلا والے ہو تو پیاس نظر میں رکھو
قووالی کی محفل سجتی ہے،
یہاں بھجن بھی گئے جاتے ہے،
یہاں گلی گلی میں ولیوں کے کے عرس مناۓ جاتے ہے،
یہاں دیوالی کی جگمگ سے بھارت کی شان چمکتی ہے،
یہاں عید میں آکر دشمن بھی دشمن کے گلے لگ جاتے ہے
میرے بھارت جیسا کوئی دیش نہیں،
میرے بھارت جیسا کوئی دیش نہیں
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ دیش کی مٹی، امن و امان، اور حب الوطنی کا بیاں ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ اس پوری کائنات میں بھارت جیسا کوئی دوسرا ملک نہیں ہے، جہاں سبھی مذاہب کے لوگ مل جل کر محبت سے رہتے ہیں اور وطن پر جان نثار کرنے کو تیار رہتے ہیں۔
ان لائنوں کا مطلب ہے کہ بھارت صوفی سنتوں اور ولیوں کی وہ پاک سرزمین ہے جہاں نفرتوں کا واحد علاج صرف اور صرف محبت ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ ہم امن پسند لوگ ہیں جو کبھی خود جنگ کی شروعات نہیں کرتے، لیکن اگر کوئی ہمارے ملک یا ترنگے کی شان کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کرے گا تو وطن کا بچہ بچہ اپنی جان قربان کر کے بھی ملک کی حفاظت کرے گا۔
| لفظ | معنی (Meaning) |
|---|---|
| ظلمت | اندھیرا / تاریکی (Darkness) |
| عداوت | دشمنی / بیر (Enmity) |
| مفلسی | غریبی / تنگی (Poverty) |
| نیزے | بھالے / ہتھیار (Spears) |
| مسائل | مسئلے / مشکلیں (Issues / Problems) |
| عطا کی | تحفے میں دی / بخش دی (Gifted) |
بھارت دیش کی عظمت پوری دنیا میں سب سے نرالی ہے کیونکہ یہاں مندر مسجد کے جھگڑوں سے اوپر اٹھ کر انسانیت اور ایک دوسرے کے دکھ درد کو اولیت دی جاتی ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ صبر و شکر اور قربانی سیکھنے کے لیے رام کا بن باس اور کربلا کی پیاس کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے۔ یہاں دیوالی کی جگمگاہٹ اور عید کا بھائی چارہ مل کر اس ملک کو پوری دنیا میں سب سے عظیم بناتا ہے۔
شاعر کے مطابق، "رام والے" اور "کربلا والے" کو دیش میں محبت بنائے رکھنے کے لیے اپنی نظر میں کیا رکھنے کو کہا گیا ہے؟