मेरे सरकार आए
- 9 مہینے پہلے fiber_manual_record 719 بار دیکھا گیا
,
عنوان: جیسا ہے میرا پیر کوئی پیر نہیں ہے
زمرہ: قوّالی کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: سلیم صابری
نعت خوان/ فنکار: سلیم صابری
شامل کیا گیا: 29 May, 2023 06:30 AM IST
دیکھا گیا: 1.7K
Time to read: 2 min read
ساری جاگیر لے کے بیٹھا ہے،
دل میں تصویر لیے بیٹھا ہے،
مجھ کو کیا گردشیں ستائیں گی،
سامنے میرا پیر بیٹھا ہے۔
ایسا کوئی دلکش، کوئی دلگیر نہیں ہے،
جیسا ہے میرا پیر، کوئی پیر نہیں ہے۔
پُر کیف ہے، پُر لُطف ہے، سُندر ہے میرا پیر،
یہ سچ ہے مقدر کا سکندر ہے میرا پیر،
کیا پوچھتے ہو مجھ سے میرے پیر کی تعریف؟
اللہ کی رحمت کا سمندر ہے میرا پیر۔
جیسا ہے میرا پیر، کوئی پیر نہیں ہے،
جیسا ہے میرا پیر، کوئی پیر نہیں ہے۔
وہ مہ جو میرے پیر کے دامن سے چھَنی ہے،
میں نے اُسے پی ہے، میری تقدیر بنی ہے،
بِن مانگے ہی بھر دیتا ہے اب وہ میرا دامن،
دل دار ہے، دل والا ہے، وہ دل کا دَھنی ہے۔
جیسا ہے میرا پیر، کوئی پیر نہیں ہے،
جیسا ہے میرا پیر، کوئی پیر نہیں ہے۔
سرکارِ دو عالم کا وہ ہے چاہنے والا،
انداز میرے پیر کا ہے سب سے نرالا،
ہندو ہو، مسلمان ہو یا سِکھ ہو عیسائی،
وہ سب کو پلا دیتا ہے محبت کا پیالا۔
جیسا ہے میرا پیر، کوئی پیر نہیں ہے،
جیسا ہے میرا پیر، کوئی پیر نہیں ہے۔
ہر دُکھ سے، مصیبت سے بچاتا ہے میرا پیر،
پھولوں کی ہنسی دیتا ہے مجھ کو میرا پیر،
وہ ایسا سخی، ایسا سخی ہے،
جو مانگتا ہوں، مجھ کو دلاتا ہے میرا پیر۔
جیسا ہے میرا پیر، کوئی پیر نہیں ہے،
جیسا ہے میرا پیر، کوئی پیر نہیں ہے۔
دھڑکن میں، دل میں، جگر میں ہے میرا پیر،
ہر لمحہ بسا میری نظر میں ہے میرا پیر،
میں حرم میں اُسے تلاش کروں کیوں؟
موجود میرے گھر میں ہے میرا پیر۔
جیسا ہے میرا پیر، کوئی پیر نہیں ہے،
جیسا ہے میرا پیر، کوئی پیر نہیں ہے۔
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ ایک نہایت خوبصورت اور پُر اثر صوفیانہ کلام ہے جس میں ایک مرید اپنے پیر (روحانی استاد) کے مَربتہِ عالیہ، ان کی سخاوت اور ان کے ساتھ اپنی سچی عقیدت و محبت کا والہانہ اظہار کر رہا ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ جس مرید کا پیر اس کے سامنے اس کا محافظ بن کر بیٹھا ہو، اسے زمانے کی گردشیں (مشکلات) کبھی نقصان نہیں پہنچا سکتیں۔ وہ پیر ایسا سخی اور بے مثل رہنما ہے جو مذہب و ملت کی تفریق کے بغیر سب کو انسانیت اور محبت کا درس دیتا ہے اور اپنے مرید کی بگڑی تقدیر سنوار دیتا ہے۔
| لفظ (Word) | معنی (Meaning) |
|---|---|
| گردشیں | مصائب / برا وقت یا مشکلات |
| دلگیر | دل کو موہ لینے والا / غم خوار |
| پُر کیف / پُر لُطف | سرور سے بھرا ہوا / لطف اندوز |
| مَہ | روحانی مَے / عشقِ الٰہی کی شراب |
| سخی | دل کھول کر دینے والا / فیاض |
| حرم | مقدس مذہبی مقام (جیسے کعبہ یا مدینہ شریف) |
اس صوفیانہ کلام کا بنیادی لبِ لباب یہ ہے کہ ایک سچا کامل پیر اللہ کی رحمت کا وہ سمندر ہوتا ہے جو اپنے چاہنے والوں کو ہر مصیبت سے بچا کر ان کی جھولیاں خوشیوں سے بھر دیتا ہے۔ وہ ہندو، مسلم، سکھ اور عیسائی کے فرق سے بالاتر ہو کر سب کو امن و محبت کا پیالہ پلاتا ہے۔ مرید کے لیے اس کے مرشد کا نور کسی دور دراز کے حرم میں نہیں، بلکہ خود اس کے دل، دھڑکن، نظر اور گھر میں ہی موجود ہے۔
لیرکس کے مطابق، پیر صاحب بغیر کسی بھید بھاؤ کے سبھی دھرموں (ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی) کے لوگوں کو کون سا پیالہ پلاتے ہیں؟