मेरे सरकार आए
- 9 مہینے پہلے fiber_manual_record 719 بار دیکھا گیا
,
عنوان: میرا پیر بادشاہ ہے میرا پیر شہنشاہ ہے
زمرہ: قوّالی کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: انور گجراتی
نعت خوان/ فنکار: مختلف/نامعلوم
شامل کیا گیا: 20 Feb, 2023 10:32 AM IST
دیکھا گیا: 1.7K
Time to read: 4 min read
مجھے آئینہ جو بنا دیا
جو چھپا تھا مجھ میں دکھا دیا
نہ بوجھا نہ کوئی بوجھا سکا
جو چراغ تُو نے جگا دیا
پتھر کو ہیرا کردے میرے پیر کی نگاہ
نہ جانے کیا بنا دے میرے پیر کی نگاہ
میرا پیر بادشاہ ہے، میرا پیر شہنشاہ ہے
میرا پیر، میرا پیر، میرا پیر، میرا پیر
میرا پیر بادشاہ ہے، میرا پیر شہنشاہ ہے
مُجھ کو مٹانے والے تو بس سوچتے رہے
ایسا نوازا پیر نے سب، دیکھتے رہے
میرا پیر بادشاہ ہے، میرا پیر شہنشاہ ہے
کیا خوف مجھ کو قبر میں منکر نکیر کا
ہے سرِ پہ میرے دستِ کرم میرے پیر کا
میرا پیر بادشاہ ہے، میرا پیر شہنشاہ ہے
پیر کے رنگ میں جو رنگ جائے، دُوجا رنگ نہ بھائے
سچے پیر کی نسبت والا دھوکہ کبھی نہ کھائے
ہیِرے، موتی، لال، جواہر، دولت، سہولت کیا ہے
پیر اشارہ کرے تو سب قدموں میں آجائے
میرا پیر بادشاہ ہے، میرا پیر شہنشاہ ہے
میرا پیر، میرا پیر، میرا پیر، میرا پیر
میرا پیر بادشاہ ہے، میرا پیر شہنشاہ ہے
ہم ہیں سنی عقیدے والے، خواجہ کا گُنا گاتے ہیں
خواجہ ہمارے انداتا ہیں، ان کا صدقہ کھاتے ہیں
کسی بادشاہ کی چلتی ہے، نہ مہاراجا کی چلتی ہے
حکومت ہند میں تو بس میرے خواجہ کی چلتی ہے
میرا پیر بادشاہ ہے، میرا پیر شہنشاہ ہے
ایسا فقیر جانے کرم کوئی نہیں ہے
تیری طرح خدا کی قسم کوئی نہیں ہے
میں نے کھنگالا ڈالا سمندرِ حیات کا
میرے صنم جیسا صنم کوئی نہیں ہے
میرا پیر بادشاہ ہے، میرا پیر شہنشاہ ہے
پہچانتے ہیں لوگ اِسی در کے نام سے
دشمن سلام کرنے لگے اِحترام سے
آئینہ بن گیا ہوں میں تصویر کے لیے
قربان ہے میری جان میرے پیر کے لیے
میرا پیر بادشاہ ہے، میرا پیر شہنشاہ ہے
میرا پیر، میرا پیر، میرا پیر، میرا پیر
میرا پیر بادشاہ ہے، میرا پیر شہنشاہ ہے
جب سے ہو گیا ہوں پیر کا، نعمت ملی مجھے
نظروں، نیاز، فکر کی دولت ملی مجھے
مرشد کا تاج پہن کے نکلا جو شان سے
ہر آستانے پہ بڑی عزت ملی مجھے
میرا پیر بادشاہ ہے، میرا پیر شہنشاہ ہے
نس نس میں حاجی رحما کی مَستی اتر گئی
میرے کرم نواز کی نظر کم کر گئی
ڈونگری کے شہنشاہ کا یہ فیض دیکھیے
رحما کا دامن تھاما تو میری قسمت سوار گئی
میرا پیر بادشاہ ہے، میرا پیر شہنشاہ ہے
پورا ہر قول کر دیا تُو نے
میرا قص قول بھر دیا تُو نے
جس کی قیمت لگا سکے نہ کوئی
ایسا انمول کر دیا تُو نے
میرا پیر بادشاہ ہے، میرا پیر شہنشاہ ہے
میرا پیر، میرا پیر، میرا پیر، میرا پیر
میرا پیر بادشاہ ہے، میرا پیر شہنشاہ ہے
حاجی علی نے اپنی کرامت دکھائی ہے
دریا کی ہر موج سلامی کو آئی ہے
کرتے ہیں بڑی شان سے پانی پہ حکومت
حاجی علی کے روز سے آواز آئی ہے
میرا پیر بادشاہ ہے، میرا پیر شہنشاہ ہے
مخدوم کے کرم نے کرم ایسا کر دیا
دامن ہمارا منزل کے صدقے میں بھر دیا
سندس اٹھا کے مخدوم شاہ کو
درگاہ کے ہر ایک خادم نے کہہ دیا
میرا پیر بادشاہ ہے، میرا پیر شہنشاہ ہے
میرا پیر، میرا پیر، میرا پیر، میرا پیر
میرا پیر بادشاہ ہے، میرا پیر شہنشاہ ہے
جو آئینہ کو بھی حیرت میں ڈال دیتا ہے
کسی کسی کو خدا یہ جمال دیتا ہے
سخي کے در پہ طلب کی کیا ضرورت ہے
طلب سے پہلے وہ جھولی میں ڈال دیتا ہے
میرا پیر بادشاہ ہے، میرا پیر شہنشاہ ہے
رہنّت بھی جھوم جھوم کے دروازہ کھول اٹھی
بابا فہدین کی چوکھٹ بھی بول اُٹھی
میرا پیر بادشاہ ہے، میرا پیر شہنشاہ ہے
بادشاہ اور رَنگ، قطب اور قلندر ناچے
میں تو قطرہ ہوں تیرے در پہ، سمندر ناچے
کیا بگاڑے گی میرا موجِ بالا، اے شاہِد
سایہ بن کر دعا پیر کی سر پہ ناچے
میرا پیر بادشاہ ہے، میرا پیر شہنشاہ ہے
میرا پیر، میرا پیر، میرا پیر، میرا پیر
میرا پیر بادشاہ ہے، میرا پیر شہنشاہ ہے
تُجھے کیا بتاؤں ساکی، مجھے کیا بے خودی ہے
جو تیری نظر سے چٹکی وہ شراب میں نے پی ہے
نہ عالم میرا عالم ہے، نہ خوشی میری خوشی ہے
میں اُسی میں خوش ہوں جس میں میرے پیر کی خوشی ہے
میرا پیر بادشاہ ہے، میرا پیر شہنشاہ ہے
میرا پیر، میرا پیر، میرا پیر، میرا پیر
میرا پیر بادشاہ ہے، میرا پیر شہنشاہ ہے
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ تصوف کے رنگ میں ڈوبی ہوئی ایک نہایت خوبصورت، والہانہ اور مشہورِ زمانہ صوفیانہ منقبت ہے، جس میں اولیاء اللہ کی عظمت، مرشدِ کامل (پیر) کی روحانی طاقت اور ان کی نسبت سے بدلنے والی مرید کی قسمت کا والہانہ تذکرہ کیا گیا ہے۔
ان وجدانی اشعار کا مطلب ہے کہ "میرے مرشد کی نگاہِ کرم میں وہ تاثیر ہے جو ایک عام پتھر جیسے انسان کو بھی ہیرا (انمول) بنا دیتی ہے اور روح کو آئینہ کر کے باطنی سچائی دکھا دیتی ہے۔" شاعر کہتا ہے کہ جب میرے سر پر میرے پیر کا دستِ شفقت موجود ہے، تو مجھے قبر میں منکر نکیر کے سوالات کا کوئی خوف نہیں، کیونکہ ان کے ایک اشارے پر دنیا کی ہر دولت اور شہرت مرید کے قدموں میں آ گرتی ہے۔
| الفاظ | معنی (Meanings) |
|---|---|
| پیر / مرشد | روحانی رہنما / ہدایت دینے والا استاد |
| دستِ کرم | مہربانی اور سخاوت کا ہاتھ |
| منکر نکیر | قبر میں سوال و جواب کرنے والے فرشتے |
| نسبت / آستانہ | تعلق اور رٹھنا / درگاہ یا پیر کا در |
| انداتا | رزق کا وسیلہ / پالنے والا (یہاں مراد فیض دینے والا) |
| قص قول (کشکول) | گداگری کا پیالہ / مانگنے والے کا کٹورا |
| موجِ بالا (موجِ بلا) | مصیبتوں اور آفتوں کی لہر |
| بے خودی | الٰہی محبت میں اپنی ہستی سے غافل ہو جانے کی حالت |
اس صوفیانہ کلام کا لبِ لباب یہ ہے کہ برِصغیر پاک و ہند کی سرزمین پر کسی دنیاوی راجہ یا مہاراجہ کی نہیں، بلکہ سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نوازؒ کی روحانی حکومت چلتی ہے۔ کلام میں ممبئی کے مشہور اولیاء جیسے حاجی علیؒ، مخدوم شاہ باباؒ اور ڈونگری کے حاجی رحما باباؒ کے فیض کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ سخیوں کے در پر مانگنے سے پہلے ہی جھولیاں بھر دی جاتی ہیں۔ ایک سچے مرید کی معراج یہ ہے کہ وہ اپنے پیر کے رنگ میں ایسا رنگ جائے کہ اسے دنیا کا کوئی دوسرا رنگ نہ بھائے، اور اس کی اپنی کوئی خوشی نہ رہے بلکہ وہ صرف اپنے مرشد کی رضا میں راضی ہو جائے۔
لیرکس کے مطابق، ہندوستان (ہند) میں کس کی حکومت چلتی ہے اور شاعر کو قبر میں منکر نکیر کا خوف کیوں نہیں ہے؟