मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 72 بار دیکھا گیا
,
عنوان: مرحبا یا مصطفیٰ نثار تیری چہل پہل پے ہزاروں عیدِ ربيع الأول
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم
نعت خوان/ فنکار: میلاد رضا قادری
شامل کیا گیا: 19 Aug, 2023 10:30 AM IST
دیکھا گیا: 2.5K
Time to read: 2 min read
مرحبا یا مصطفیٰ ﷺ، مرحبا یا مصطفیٰ ﷺ،
مرحبا یا مصطفیٰ ﷺ، مرحبا یا مصطفیٰ ﷺ
نصیب چمکے ہیں فرشیوں کے،
کے عرش کے چاند آرہے ہیں،
جھلک سے جن کے فلک ہے روشن،
وہ شمش تشریف لا رہے ہیں
مرحبا یا مصطفیٰ ﷺ، مرحبا یا مصطفیٰ ﷺ،
مرحبا یا مصطفیٰ ﷺ، مرحبا یا مصطفیٰ ﷺ
نثار تیری چہل پہل پے،
ہزاروں عیدِ ربيع الأول،
سواے ابلیس کے جہاں میں،
سبھی توخوشیاں منا رہے ہیں
مرحبا یا مصطفیٰ ﷺ، مرحبا یا مصطفیٰ ﷺ،
مرحبا یا مصطفیٰ ﷺ، مرحبا یا مصطفیٰ ﷺ
شبِ ولادت میں سب مسلمان،
نا کیوں کریں جان و مال قربان،
ابو لہب جیسے سخت کافر،
خوشی میں جب فیض پا رہے ہیں
مرحبا یا مصطفیٰ ﷺ، مرحبا یا مصطفیٰ ﷺ،
مرحبا یا مصطفیٰ ﷺ، مرحبا یا مصطفیٰ ﷺ
زمانے بھر کا یہ قاعدہ ہے،
کہ جس کا کھانا اُسی کا گانا،
تو نعمتیں جن کی کھا رہے ہیں،
اُنہی کے ہم گیت گا رہے ہیں
مرحبا یا مصطفیٰ ﷺ، مرحبا یا مصطفیٰ ﷺ،
مرحبا یا مصطفیٰ ﷺ، مرحبا یا مصطفیٰ ﷺ
جو قبر میں اُن کو اپنی پاؤں،
پکڑ کے دامن مچل ہی جاؤں،
جو دل میں رہ کے چھپے تھے مجھ سے،
وہ آج جلوہ دکھا رہے ہیں
مرحبا یا مصطفیٰ ﷺ، مرحبا یا مصطفیٰ ﷺ،
مرحبا یا مصطفیٰ ﷺ، مرحبا یا مصطفیٰ ﷺ
میں تیرے صدقے، زمینِ طیبہ،
فدا نہ ہو تجھ پہ کیوں زمانہ؟
کہ جن کی خاطر بنے زمانے،
وہ تجھ میں آرام پا رہے ہیں
مرحبا یا مصطفیٰ ﷺ، مرحبا یا مصطفیٰ ﷺ،
مرحبا یا مصطفیٰ ﷺ، مرحبا یا مصطفیٰ ﷺ
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلام حضور نبی کریم ﷺ کی ولادتِ با سعادت کے موقع پر لکھے جانے والے مشہور ترین استفسار اور استقبالیہ اشعار میں سے ایک ہے۔ اس میں کائنات کے ذرے ذرے کی خوشی اور آپ ﷺ کی آمد سے فرشیوں (اہلِ زمین) کے مقدر جاگنے کا ذکر نہایت خوبصورت پیرائے میں کیا گیا ہے۔
ان اشعار میں شاعر کہتا ہے کہ ربیع الاول کی خوشی ہزاروں عیدوں سے بڑھ کر ہے کیونکہ اس دن وہ سورج (شمس) طلوع ہوا جس سے آسمان روشن ہیں۔ شاعر اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جب حضور ﷺ کی ولادت کی خوشی منانے پر ابو لہب جیسے کافر کے عذاب میں کمی ہو سکتی ہے، تو ایک سچے عاشقِ رسول ﷺ کے لیے یہ جشن کتنی برکتوں کا باعث ہوگا۔
| لفظ | معنی (Hindi/English) |
|---|---|
| فرشیوں | زمین والے / Inhabitants of Earth |
| شمس | سورج / Sun |
| نثار | قربان / Sacrificed |
| ابلیس | شیطان / Satan |
| فیض | فائدہ یا برکت / Blessing or Benefit |
| جلوہ | دیدار یا نظارہ / Manifestation |
حضور ﷺ کی آمد پر ابلیس کے علاوہ پوری کائنات خوشیاں منا رہی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ ہم اللہ کی تمام نعمتیں حضور ﷺ کے صدقے ہی کھاتے ہیں، لہٰذا ان کا گُن گانا ہمارا فرض ہے۔ سب سے بڑی تمنا یہ ہے کہ جب قبر میں آپ ﷺ تشریف لائیں تو میں ان کا دامن تھام لوں کیونکہ آپ ﷺ ہی کی خاطر یہ تمام زمانے تخلیق کیے گئے ہیں۔
نبی ﷺ کی ولادت پر پورے جہاں میں کون خوشی نہیں منا رہا ہے، اور شاعر نے قبر میں کیا کرنے کی تمنا کی ہے؟