, مریضِ غم کو ملے گی شفا مدینے سے - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

مریضِ غم کو ملے گی شفا مدینے سے Lyrics In اردو

(مریضِ غم کو ملے گی شفا مدینے سے, ہر ایک دکھ کی ملے گی دوا مدینے سے)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: مریضِ غم کو ملے گی شفا مدینے سے

زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)

مصنف/گیتکار: مولانا طفیل احمد مصباحی

نعت خوان/ فنکار: مختلف/نامعلوم

شامل کیا گیا: 03 Feb, 2026 10:18 AM IST

دیکھا گیا: 176

Time to read: 1 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

مریضِ غم کو ملے گی شفا مدینے سے،
ہر ایک دکھ کی ملے گی دوا مدینے سے

جمالِ گنبد خضریٰ ہمیں نظر آئے،
دلوں کا تار اگر ہو جُڑا مدینے سے

کہا ہے وقتِ مصیبت اغِثنی جب میں نے،
کرم کی اٹھّی ہے اس دم گھٹا مدینے سے

درِ رسول پہ آ کر بنا لو بگڑا نصیب،
وہ دیکھو آتی ہے پیہم صدا مدینے سے

ہر ایک غنچۂ امّید کھِل اٹھا اس دم،
نبی کی جس گھڑی آئی عطا مدینے سے

وہیں پہ ہوتی ہے تشنہ دہن کی سیرابی،
کرم کی اٹھتی ہے ہر دم گھٹا مدینے سے

دوانے جھوم اٹھے جس گھڑی حضوری کا،
پیام لے کے جو آئی صبا مدینے سے

پلٹ کے آئے خدا پھر سے دورِ عثمانی،
الٰہی دور ہو نجدی بلا مدینے سے

یہی ہے آرزو، حسرت یہی ہے احمدؔ کی،
کبھی نہ لوٹ کے آئے شہا مدینے سے

نبی کے عشق میں خود کو فنا کرو احمد،
ضرور تم کو ملے گی بقا مدینے سے

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ کلام مدینہ منورہ کی روحانی مرکزیت اور حضور ﷺ کی بارگاہ سے وابستہ امیدوں کا آئینہ دار ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ مومن کی ہر پریشانی کا حل اور ہر بیماری کی شفا طیبہ کی حاضری میں پنہاں ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

شاعر کہتا ہے کہ غموں کے مارے ہوئے انسان کو سکون اور شفا صرف مدینے کے دربار سے مل سکتی ہے، بشرطیکہ دل کا تعلق وہاں سے مضبوط ہو۔ جب بھی کوئی مصیبت زدہ سچے دل سے پکارتا ہے، تو فوراً مدینے سے کرم کی گھٹا اٹھتی ہے اور بگڑے ہوئے نصیب سنور جاتے ہیں۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

لفظمعنی
اغِثنیمیری مدد کیجیے (Help me)
پیہممسلسل یا لگاتار
غنچۂ اُمیدامید کی کلی
تشنہ دہنپیاسا (مراد: رحمت کا طلبگار)
صباصبح کی ٹھنڈی اور خوشگوار ہوا
فنامٹ جانا یا خود کو مٹا دینا
بقاہمیشگی یا دائمی زندگی

خلاصہ (Summary)

اس نعت کا خلاصہ یہ ہے کہ مدینہ صرف ایک شہر نہیں بلکہ ہر درد کی دوا اور ہر پیاسے کی سیرابی کا مرکز ہے۔ شاعر نصیحت کرتا ہے کہ اپنی انا کو عشقِ رسول ﷺ میں فنا کر دو، کیونکہ حقیقی زندگی اور کامیابی مدینے کی غلامی اور حضور ﷺ کی عطا میں ہی پوشیدہ ہے۔

شاعر نے "نبی کے عشق میں خود کو فنا کرو" کہہ کر کس طرح کی کامیابی اور "بقا" کی طرف اشارہ کیا ہے؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں: