मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 74 بار دیکھا گیا
,
عنوان: مریضِ غم کو ملے گی شفا مدینے سے
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: مولانا طفیل احمد مصباحی
نعت خوان/ فنکار: مختلف/نامعلوم
شامل کیا گیا: 03 Feb, 2026 10:18 AM IST
دیکھا گیا: 176
Time to read: 1 min read
مریضِ غم کو ملے گی شفا مدینے سے،
ہر ایک دکھ کی ملے گی دوا مدینے سے
جمالِ گنبد خضریٰ ہمیں نظر آئے،
دلوں کا تار اگر ہو جُڑا مدینے سے
کہا ہے وقتِ مصیبت اغِثنی جب میں نے،
کرم کی اٹھّی ہے اس دم گھٹا مدینے سے
درِ رسول پہ آ کر بنا لو بگڑا نصیب،
وہ دیکھو آتی ہے پیہم صدا مدینے سے
ہر ایک غنچۂ امّید کھِل اٹھا اس دم،
نبی کی جس گھڑی آئی عطا مدینے سے
وہیں پہ ہوتی ہے تشنہ دہن کی سیرابی،
کرم کی اٹھتی ہے ہر دم گھٹا مدینے سے
دوانے جھوم اٹھے جس گھڑی حضوری کا،
پیام لے کے جو آئی صبا مدینے سے
پلٹ کے آئے خدا پھر سے دورِ عثمانی،
الٰہی دور ہو نجدی بلا مدینے سے
یہی ہے آرزو، حسرت یہی ہے احمدؔ کی،
کبھی نہ لوٹ کے آئے شہا مدینے سے
نبی کے عشق میں خود کو فنا کرو احمد،
ضرور تم کو ملے گی بقا مدینے سے
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلام مدینہ منورہ کی روحانی مرکزیت اور حضور ﷺ کی بارگاہ سے وابستہ امیدوں کا آئینہ دار ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ مومن کی ہر پریشانی کا حل اور ہر بیماری کی شفا طیبہ کی حاضری میں پنہاں ہے۔
شاعر کہتا ہے کہ غموں کے مارے ہوئے انسان کو سکون اور شفا صرف مدینے کے دربار سے مل سکتی ہے، بشرطیکہ دل کا تعلق وہاں سے مضبوط ہو۔ جب بھی کوئی مصیبت زدہ سچے دل سے پکارتا ہے، تو فوراً مدینے سے کرم کی گھٹا اٹھتی ہے اور بگڑے ہوئے نصیب سنور جاتے ہیں۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| اغِثنی | میری مدد کیجیے (Help me) |
| پیہم | مسلسل یا لگاتار |
| غنچۂ اُمید | امید کی کلی |
| تشنہ دہن | پیاسا (مراد: رحمت کا طلبگار) |
| صبا | صبح کی ٹھنڈی اور خوشگوار ہوا |
| فنا | مٹ جانا یا خود کو مٹا دینا |
| بقا | ہمیشگی یا دائمی زندگی |
اس نعت کا خلاصہ یہ ہے کہ مدینہ صرف ایک شہر نہیں بلکہ ہر درد کی دوا اور ہر پیاسے کی سیرابی کا مرکز ہے۔ شاعر نصیحت کرتا ہے کہ اپنی انا کو عشقِ رسول ﷺ میں فنا کر دو، کیونکہ حقیقی زندگی اور کامیابی مدینے کی غلامی اور حضور ﷺ کی عطا میں ہی پوشیدہ ہے۔
شاعر نے "نبی کے عشق میں خود کو فنا کرو" کہہ کر کس طرح کی کامیابی اور "بقا" کی طرف اشارہ کیا ہے؟