मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 65 بار دیکھا گیا
,
عنوان: میں سو جاؤں یا مصطفیٰ کہتے کہتے
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: حضور مفتی اعظم ای ہند مصطفی رضا خان نوری۔
نعت خوان/ فنکار: اویس رضا قادری
شامل کیا گیا: 29 Sep, 2023 08:12 AM IST
دیکھا گیا: 547
Time to read: 2 min read
میں سو جاؤں یا مصطفیٰ کہتے کہتے
کھلے آنکھ سصَلِّ عَلےٰ کہتے کہتے
حبیبِ خدا کا نظارہ کروں میں
دل و جان اُن پر نثارہ کروں میں
میں سو جاؤں یا مصطفیٰ کہتے کہتے
کھلے آنکھ سصَلِّ عَلےٰ کہتے کہتے
مجھے اپنی رحمت سے تُو اپنا کر لے
سوائے تیرے سب سے کنارہ کروں میں
میں سو جاؤں یا مصطفیٰ کہتے کہتے
کھلے آنکھ سصَلِّ عَلےٰ کہتے کہتے
خدا را اب آؤ کہ دم ہے لبوں پر
دمِ وَسْپین تو نظارہ کروں میں
میں سو جاؤں یا مصطفیٰ کہتے کہتے
کھلے آنکھ سصَلِّ عَلےٰ کہتے کہتے
مجھے ہاتھ آئے اگر تاجِ شاہی
تیری کفشِ پا پر نثارہ کروں میں
میں سو جاؤں یا مصطفیٰ کہتے کہتے
کھلے آنکھ سصَلِّ عَلےٰ کہتے کہتے
تیرا ذکر لب پر، خدا دل کے اندر
یونہی زندگی گزارا کروں میں
میں سو جاؤں یا مصطفیٰ کہتے کہتے
کھلے آنکھ سصَلِّ عَلےٰ کہتے کہتے
دمِ وَسْپین تک تیرے گیت گاؤں
محمد محمد پکارا کروں میں
میں سو جاؤں یا مصطفیٰ کہتے کہتے
کھلے آنکھ سصَلِّ عَلےٰ کہتے کہتے
تیرے در کے ہوتے کہاں جاؤں، پیارے!
کہاں اپنا دامن پھیلا رہا کروں میں
میں سو جاؤں یا مصطفیٰ کہتے کہتے
کھلے آنکھ سصَلِّ عَلےٰ کہتے کہتے
خدا خیر سے لائے وہ دن بھی، نوری!
مدینے کی گلیاں بہارا کروں میں
میں سو جاؤں یا مصطفیٰ کہتے کہتے
کھلے آنکھ سصَلِّ عَلےٰ کہتے کہتے
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ نعتیہ کلام ایک عاشقِ رسول ﷺ کی والہانہ محبت اور قلبی تڑپ کا اظہار ہے، جس میں وہ اپنی زندگی کی ہر صبح اور ہر شام کو ذکرِ مصطفیٰ ﷺ سے منسوب کرنے کی تمنا کرتا ہے۔
ان اشعار کا مفہوم یہ ہے کہ شاعر کی خواہش ہے کہ اس کی نیند اور بیداری دونوں یادِ الٰہی اور ذکرِ رسول ﷺ میں گزریں۔ وہ چاہتا ہے کہ موت کے آخری لمحے (دمِ واپسی) اسے حضور ﷺ کا دیدار نصیب ہو اور وہ دنیا کی تمام تر شاہی اور دولت کو آپ ﷺ کے قدموں کی خاک پر قربان کر دے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| نثارہ | قربان کرنا یا نچھاور کرنا |
| کنارہ کرنا | چھوڑ دینا یا الگ ہو جانا |
| دمِ وَسْپین | آخری سانس یا موت کا وقت |
| تاجِ شاہی | بادشاہت یا حکومت کا تاج |
| کفشِ پا | پاؤں کے جوتے یا نعلینِ مبارک |
| بہارا کرنا | جھاڑو دینا یا صفائی کرنا |
اس کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ مومن کے لیے اصل کامیابی اللہ کی معرفت اور اس کے رسول ﷺ کی محبت ہے۔ شاعر اپنی پوری زندگی مدینے کی گلیوں کی خدمت اور ذکرِ محمد ﷺ میں گزارنے کی دعا کرتا ہے، کیونکہ اس کے نزدیک دنیا کے کسی بھی بادشاہ کا تاج حضور ﷺ کے نعلینِ مبارک کی برابری نہیں کر سکتا۔
شاعر نے "تاجِ شاہی" کے مقابلے میں کس چیز کو نثار کرنے کی بات کہی ہے اور کیوں؟