, میں سو جاؤں یا مصطفیٰ کہتے کہتے - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

میں سو جاؤں یا مصطفیٰ کہتے کہتے Lyrics In اردو

(میں سو جاؤں یا مصطفیٰ کہتے کہتے, کھلے آنکھ سصَلِّ عَلےٰ کہتے کہتے)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: میں سو جاؤں یا مصطفیٰ کہتے کہتے

زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)

شامل کیا گیا: 29 Sep, 2023 08:12 AM IST

دیکھا گیا: 547

Time to read: 2 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

میں سو جاؤں یا مصطفیٰ کہتے کہتے
کھلے آنکھ سصَلِّ عَلےٰ کہتے کہتے

حبیبِ خدا کا نظارہ کروں میں
دل و جان اُن پر نثارہ کروں میں

میں سو جاؤں یا مصطفیٰ کہتے کہتے
کھلے آنکھ سصَلِّ عَلےٰ کہتے کہتے

مجھے اپنی رحمت سے تُو اپنا کر لے
سوائے تیرے سب سے کنارہ کروں میں

میں سو جاؤں یا مصطفیٰ کہتے کہتے
کھلے آنکھ سصَلِّ عَلےٰ کہتے کہتے

خدا را اب آؤ کہ دم ہے لبوں پر
دمِ وَسْپین تو نظارہ کروں میں

میں سو جاؤں یا مصطفیٰ کہتے کہتے
کھلے آنکھ سصَلِّ عَلےٰ کہتے کہتے

مجھے ہاتھ آئے اگر تاجِ شاہی
تیری کفشِ پا پر نثارہ کروں میں

میں سو جاؤں یا مصطفیٰ کہتے کہتے
کھلے آنکھ سصَلِّ عَلےٰ کہتے کہتے

تیرا ذکر لب پر، خدا دل کے اندر
یونہی زندگی گزارا کروں میں

میں سو جاؤں یا مصطفیٰ کہتے کہتے
کھلے آنکھ سصَلِّ عَلےٰ کہتے کہتے

دمِ وَسْپین تک تیرے گیت گاؤں
محمد محمد پکارا کروں میں

میں سو جاؤں یا مصطفیٰ کہتے کہتے
کھلے آنکھ سصَلِّ عَلےٰ کہتے کہتے

تیرے در کے ہوتے کہاں جاؤں، پیارے!
کہاں اپنا دامن پھیلا رہا کروں میں

میں سو جاؤں یا مصطفیٰ کہتے کہتے
کھلے آنکھ سصَلِّ عَلےٰ کہتے کہتے

خدا خیر سے لائے وہ دن بھی، نوری!
مدینے کی گلیاں بہارا کروں میں

میں سو جاؤں یا مصطفیٰ کہتے کہتے
کھلے آنکھ سصَلِّ عَلےٰ کہتے کہتے

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ نعتیہ کلام ایک عاشقِ رسول ﷺ کی والہانہ محبت اور قلبی تڑپ کا اظہار ہے، جس میں وہ اپنی زندگی کی ہر صبح اور ہر شام کو ذکرِ مصطفیٰ ﷺ سے منسوب کرنے کی تمنا کرتا ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

ان اشعار کا مفہوم یہ ہے کہ شاعر کی خواہش ہے کہ اس کی نیند اور بیداری دونوں یادِ الٰہی اور ذکرِ رسول ﷺ میں گزریں۔ وہ چاہتا ہے کہ موت کے آخری لمحے (دمِ واپسی) اسے حضور ﷺ کا دیدار نصیب ہو اور وہ دنیا کی تمام تر شاہی اور دولت کو آپ ﷺ کے قدموں کی خاک پر قربان کر دے۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

لفظمعنی
نثارہقربان کرنا یا نچھاور کرنا
کنارہ کرناچھوڑ دینا یا الگ ہو جانا
دمِ وَسْپینآخری سانس یا موت کا وقت
تاجِ شاہیبادشاہت یا حکومت کا تاج
کفشِ پاپاؤں کے جوتے یا نعلینِ مبارک
بہارا کرناجھاڑو دینا یا صفائی کرنا

خلاصہ (Summary)

اس کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ مومن کے لیے اصل کامیابی اللہ کی معرفت اور اس کے رسول ﷺ کی محبت ہے۔ شاعر اپنی پوری زندگی مدینے کی گلیوں کی خدمت اور ذکرِ محمد ﷺ میں گزارنے کی دعا کرتا ہے، کیونکہ اس کے نزدیک دنیا کے کسی بھی بادشاہ کا تاج حضور ﷺ کے نعلینِ مبارک کی برابری نہیں کر سکتا۔

شاعر نے "تاجِ شاہی" کے مقابلے میں کس چیز کو نثار کرنے کی بات کہی ہے اور کیوں؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں: