मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 66 بار دیکھا گیا
,
عنوان: میں نظر کروں جان و جگر کیسا لگےگا
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: اسد اقبال کلکتوی
نعت خوان/ فنکار: اسد اقبال کلکتوی
شامل کیا گیا: 20 Oct, 2022 06:24 PM IST
دیکھا گیا: 1.6K
Time to read: 2 min read
میں نظر کروں جان و جگر کیسا لگےگا،
رکھدوں درِ سرکار پے سر کیسا لگےگا
آجاۓ مقدّر سے شاہ دیں جو میرے گھر،
میں کیسا لگونگا میرا گھر کیسا لگےگا
میں نظر کروں جان و جگر کیسا لگےگا
جب دُور سے ہے اتنا حسین گمبدِ خضرا،
اِس پار یہ عالم ہے اُدھر کیسا لگےگا
میں نظر کروں جان و جگر کیسا لگےگا
غوثُ الوریٰ سے پوچھلوں ایک روز یہ چل کر،
بغداد سے طیبہ کا سفر کیسا لگےگا
میں نظر کروں جان و جگر کیسا لگےگا
آجاۓ تڈپ کے جو کہیں شیرِ بریلی،
رُباح میں وہ شیرِ ببر کیسا لگےگا
میں نظر کروں جان و جگر کیسا لگےگا
محشر کی تمازت میں وہ قُدرت کی فرشتے،
ٹوڑینگے جو نزدی کی قمر کیسا لگےگا
میں نظر کروں جان و جگر کیسا لگےگا،
رکھدوں درِ سرکار پے سر کیسا لگےگا
مزید اشعار:
سرکار نے در پے تجھے بلوایا ہے منگتے،
جب کوئی مجھے دےگا خبر کیسا لگےگا
میں نظر کروں جان و جگر کیسا لگےگا
جس ہاتھ سے لکھونگا محمّد کا قصیدہ،
اس ہاتھ میں جبریل کا پر کیسا لگےگا
میں نظر کروں جان و جگر کیسا لگےگا
رکھ لونگا امامِ پے جو نعلین مقدّس،
شاہوں کے مقابل میرا سر کیسا لگےگا
میں نظر کروں جان و جگر کیسا لگےگا،
رکھدوں درِ سرکار پے سر کیسا لگےگا
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں ایک سچے عاشقِ رسول کی بے پناہ محبت، والہانہ عقیدت اور مدینے کی حاضری کی تڑپ کا خوبصورت اور والہانہ بیان ہے، جس میں حضور ﷺ پر سب کچھ قربان کرنے کی تمنا کی گئی ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ شاعر اپنے آقا ﷺ کے دربار میں اپنی جان، دل اور سر کا نذرانہ پیش کرنے کی شدید خواہش رکھتا ہے۔ وہ تصور کرتا ہے کہ جب دور سے نظر آنے والا گنبدِ خضرا اتنا خوبصورت ہے تو اس کے قریب پہنچ کر کیا سماں ہوگا، اور اگر دین کے بادشاہ ﷺ خود اس کے غریب خانے پر تشریف لے آئیں تو اس کی قسمت کتنی بلند ہو جائے گی۔
| لفظ | معنی (Urdu) |
|---|---|
| نظر کروں | تحفہ یا نذرانہ پیش کرنا |
| درِ سرکار | حضور اکرم ﷺ کی چوکھٹ / دربار |
| گنبدِ خضرا | مدینہ منورہ کا مقدس ہرا گنبد |
| غوث الوریٰ | مخلوق کی فریاد سننے والے (حضرت عبدالقادر جیلانی کا لقب) |
| شیرِ بریلی | امام احمد رضا خان بریلوی (عشقِ رسول کے علمبردار) |
| محشر کی تمازت | قیامت کے دن کی سخت دھوپ یا گرمی |
| قصیدہ | تعریف و توصیف میں لکھی گئی نظم یا نعت |
| نعلینِ مقدس | حضور پاک ﷺ کے مبارک جوتے / نعل پاک |
| عمامے (امامے) | سر پر باندھی جانے والی پگڑی |
شاعر کا دل عشقِ رسول ﷺ میں اس حد تک ڈوبا ہوا ہے کہ وہ حضور ﷺ کی مدحت لکھنے والے ہاتھ کو جبرئیلِ امیں کے پر سے تشبیہ دیتا ہے۔ وہ دنیاوی جاہ و جلال کو ٹھکراتے ہوئے کہتا ہے کہ جب وہ حضور ﷺ کے نعلینِ پاک کے نقش کو اپنے عمامے (پگڑی) پر سجائے گا، تو دنیا کے بڑے سے بڑے بادشاہوں کے سامنے بھی اس کا سر سب سے بلند اور معزز نظر آئے گا۔
شاعر کے مطابق، اپنے عمامے پر 'نعلینِ مقدس' سجانے کے بعد بادشاہوں کے مقابل ان کا سر کیسا لگے گا؟