मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 49 بار دیکھا گیا
,
عنوان: مہربان مجھ پہ نبیوں کا اگر سردار ہو جائے
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: سجّاد نظامی (مرہوم)
نعت خوان/ فنکار: سجّاد نظامی (مرہوم)
شامل کیا گیا: 09 Jan, 2023 01:25 PM IST
دیکھا گیا: 1.7K
Time to read: 1 min read
مہربان مجھ پہ نبیوں کا اگر سردار ہو جائے،
مہربان مجھ پہ نبیوں کا اگر سردار ہو جائے
یہ دعویٰ ہے کہ عاصی خُلد کا حقدار ہو جائے،
یہ دعویٰ ہے کہ عاصی خُلد کا حقدار ہو جائے
زمانے کا ستایا ہوں، پریشان حال رہتا ہوں،
کرم کی ایک نظر مجھ پر میرے سرکار ہو جائے،
کرم کی ایک نظر مجھ پر میرے سرکار ہو جائے
فقط میں ہی نہیں بلکہ سبھی عشاق کہتے ہیں،
کسی دن یا رسول اللہ! تیرا دیدار ہو جائے،
کسی دن یا رسول اللہ! تیرا دیدار ہو جائے
میں پلکوں سے بُہاروں گا میرے آقا تیری گلیاں،
بلوا ایک دن میرا میرے سرکار ہو جائے،
بلوا ایک دن میرا میرے سرکار ہو جائے
قسم اللہ کی، گلیاں مدینے کی سُہانی ہیں،
وہاں ایک بار جانا ہو تو بیڑا پار ہو جائے،
وہاں ایک بار جانا ہو تو بیڑا پار ہو جائے
تمنا ہے دلِ سجاد کی مدت سے اے مولا،
نظارہ گنبدِ خضریٰ مجھے اک بار ہو جائے،
نظارہ گنبدِ خضریٰ ہمیں اک بار ہو جائے
مہربان مجھ پہ نبیوں کا اگر سردار ہو جائے،
مہربان مجھ پہ نبیوں کا اگر سردار ہو جائے
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ نعتِ پاک سرکارِ دو عالم ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں لکھی گئی ایک نہایت پُرکشش اور رقت آمیز صوفیانہ تخلیق ہے۔ اس میں ایک گنہگار امتی اپنے آقا و مولیٰ ﷺ کی محبت، ان کی نظرِ کرم اور شہرِ مدینہ کی حاضری کے لیے دل کی تڑپ کا اظہار کر رہا ہے۔
ان ایمان افروز اشعار کا مطلب ہے کہ "اگر تمام انبیاء کے تاجدار، حضور محمد مصطفیٰ ﷺ مجھ پر مہربان ہو جائیں، تو یہ کامل دعویٰ ہے کہ مجھ جیسا گنہگار بھی جنت کا حقدار بن جائے گا۔" شاعر بارگاہِ رسالت میں التجا کرتا ہے کہ میں دنیا کے مصائب کا ستایا ہوا اور پریشان حال ہوں، میری یہ کسمپرسی صرف آپ کی ایک نگاہِ کرم سے دور ہو سکتی ہے۔
| الفاظ | معنی (Meanings) |
|---|---|
| عاصی | گنہگار یا خطا کار |
| خُلد | جنت (ہمیشہ رہنے کا باغ) |
| فقط / عشاق | صرف یا محض / عشق کرنے والے (مراد عاشقانِ رسول ﷺ) |
| دیدار | زیارت یا مقدس جھلک |
| بُہاروں گا | پلکوں سے صفائی کرنا یا جھاڑو دینا |
| بیڑا پار ہونا | نجات ملنا، کامیاب ہونا یا بیڑا پار ہونا |
| گنبدِ خضریٰ | مدینہ منورہ میں حضور ﷺ کا مقدس ہرا گنبد |
اس مبارک نعت کا لبِ لباب یہ ہے کہ مدینہ منورہ کی سہانی گلیوں کا طواف کرنا اور وہاں کی خاک کو اپنی پلکوں سے صاف کرنا ہر سچے امتی کی سب سے بڑی معراج ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ مدینے کی دھرتی کی یہ شان ہے کہ وہاں زندگی میں ایک بار بھی حاضری نصیب ہو جائے تو انسان کی عاقبت سنور جاتی ہے اور بیڑا پار ہو جاتا ہے۔ نعت کے آخر میں 'سجاد' اپنے دل کی برسوں پرانی آرزو کا اظہار کرتے ہوئے ربِ کریم سے گڑگڑا کر دعا کرتے ہیں کہ اے مولا! مجھے موت آنے سے پہلے صرف ایک مرتبہ اپنی آنکھوں سے اس پاک 'گنبدِ خضریٰ' کا دلنشیں نظارہ نصیب فرما دے۔
نعت کے مطابق، شاعر کی مدت سے کیا تمنا ہے اور وہ کیا دیکھنا چاہتا ہے؟