اندھیری رات ہے غم کی گھٹا عصیاں کی کالی ہے
- 1 مہینہ پہلے fiber_manual_record 117 بار دیکھا گیا
,
عنوان: مدینے سے بلاوا آ رہا ہے
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: شمیم رضا فیضی
نعت خوان/ فنکار: شمیم رضا فیضی
شامل کیا گیا: 07 Sep, 2025 01:54 PM IST
دیکھا گیا: 541
Time to read: 1 min read
مدینے سے بلاوا آ رہا ہے،
میرا دل مجھ سے پہلے جا رہا ہے۔
یہاں مرضی نہیں چلتی کسی کی،
مدینے والا ہی بلوا رہا ہے۔
مدینے سے بلاوا آ رہا ہے...
میرا دل بھی تُو اپنے ساتھ لے جا،
اکیلا کیوں مدینے جا رہا ہے؟
مدینے سے بلاوا آ رہا ہے...
یہ چکّی فاطمہ کی چل رہی ہے،
زمانہ جتنا لنگر کھا رہا ہے۔
مدینے سے بلاوا آ رہا ہے...
نواسوں کا وہ صدقہ بانٹتے ہیں،
زمانہ ان کا صدقہ کھا رہا ہے۔
مدینے سے بلاوا آ رہا ہے،
میرا دل مجھ سے پہلے جا رہا ہے۔
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلام مدینہ منورہ کی حاضری کی تڑپ اور وہاں سے ملنے والی روحانی عنایات کا ایک خوبصورت تذکرہ ہے، جس میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ طیبہ کا سفر صرف نصیب اور بلاوے پر منحصر ہے۔
شاعر کہتا ہے کہ مدینہ جانا کسی انسان کے اپنے اختیار میں نہیں، بلکہ یہ سراسر حضور ﷺ کی عطا ہے کہ وہ کسے بلاتے ہیں۔ جب بلاوا آتا ہے تو خوشی کا یہ عالم ہوتا ہے کہ انسان کا دل اس کے جسم سے پہلے ہی اڑ کر دیارِ نبی ﷺ پہنچ جاتا ہے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| بلاوا | پیغام / دعوت / بلایا جانا |
| مرضی | خواہش / اختیار |
| چکّی | اناج پیسنے کا آلہ (سیدہ فاطمہ RA کی محنت کی علامت) |
| لنگر | عام کھانا / سخاوت و فیض |
| نواسوں | بیٹی کے بیٹے (امام حسن و حسین RA) |
| صدقہ | خیرات / وہ نعمت جو کسی کے طفیل ملے |
اس نعت کا خلاصہ یہ ہے کہ کائنات کا سارا نظام اور رزق اہلِ بیتِ رسول ﷺ کے صدقے چل رہا ہے۔ شاعر عقیدت سے کہتا ہے کہ دنیا میں جو بھی فیض بٹ رہا ہے وہ سیدہ فاطمہ RA کی محنت اور ان کے بیٹوں کی برکت ہے، اور مدینے کی حاضری وہ انعام ہے جو صرف شاہِ مدینہ ﷺ کی مرضی سے ملتا ہے۔
"میرا دل مجھ سے پہلے جا رہا ہے" — کیا آپ کو نہیں لگتا کہ یہ مصرعہ اس والہانہ کیفیت کی عکاسی کرتا ہے جو ایک زائر کے دل پر دستک دیتی ہے؟