, مدینے کی گلیاں وہ روضے کی جالی - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

مدینے کی گلیاں وہ روضے کی جالی Lyrics In اردو

(مدینے کی گلیاں وہ روضے کی جالی, مدینے کو دیکھوں یہ دل کہہ رہا ہے)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: مدینے کی گلیاں وہ روضے کی جالی

زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)

شامل کیا گیا: 22 Sep, 2024 01:26 PM IST

دیکھا گیا: 721

Time to read: 2 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

مدینے کی گلیاں، وہ روضے کی جالی،
مدینے کو دیکھوں، یہ دل کہہ رہا ہے،
بُلا لو اے آقا، گنہگار کو بھی،
مدینے کو جاؤں، یہ دل کہہ رہا ہے۔

وہ مسجدِ نبوی، وہ منبر تمہارا،
جہاں آپ نے خطبہ سنایا،
وہ نورانی مسجد، وہ نورانی منبر،
دیکھوں میں جا کر، یہ دل کہہ رہا ہے۔

مدینے کی گلیاں، وہ روضے کی جالی،
مدینے کو دیکھوں، یہ دل کہہ رہا ہے…

وہ گنبد تمہارا، جو جنتِ بقیع ہے،
وہ نورانی منظر، وہ نورانی قبریں،
وہ وادی کا منظر، نَظا میں بسا کے،
میں دیکھوں مدینہ، یہ دل کہہ رہا ہے۔

مدینے کی گلیاں، وہ روضے کی جالی،
مدینے کو دیکھوں، یہ دل کہہ رہا ہے…

وہاں کی ہواؤں میں خوشبو تمہاری،
وہاں کی فضاؤں میں رنگت تمہاری،
وہ نورانی گلیوں میں نور تمہارا،
وہاں آ کے دیکھوں، یہ دل کہہ رہا ہے۔

مدینے کی گلیاں، وہ روضے کی جالی،
مدینے کو دیکھوں، یہ دل کہہ رہا ہے…

جنتِ بقیع میں، وہ نورانی قبریں،
جہاں سے ہے آقا کا روضہ چمک کے،
قدموں میں آقا کے اتنا مزہ ہے،
وہیں دَفن ہونا، یہ دل کہہ رہا ہے۔

مدینے کی گلیاں، وہ روضے کی جالی،
مدینے کو دیکھوں، یہ دل کہہ رہا ہے…

گناہوں میں ڈوبا، یہ عاشق تمہارا،
بڑا بے خبر ہے، بڑا بے سہارا،
کرم کیجیے فیض پر بھی اے آقا،
گناہ بخشواؤں، یہ دل کہہ رہا ہے۔

مدینے کی گلیاں، وہ روضے کی جالی،
مدینے کو دیکھوں، یہ دل کہہ رہا ہے…

گنہگار ہوں میں، خطا کار ہوں میں،
یہ دنیا کی باتوں میں ڈوبا ہوں میں،
بچا لو اے آقا، اس دنیا سے مجھ کو،
مجھے اب بُلاؤ، یہ دل کہہ رہا ہے۔

مدینے کی گلیاں، وہ روضے کی جالی،
مدینے کو دیکھوں، یہ دل کہہ رہا ہے…

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ نعت ایک تڑپتے ہوئے دل کی پکار ہے جو مدینہ منورہ کی حاضری اور حضور ﷺ کے روضہ انور کے دیدار کے لیے بے چین ہے۔ اس میں ایک گنہگار امتی کی عاجزی اور اپنے آقا ﷺ سے کرم کی فریاد کو بہت موثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

ان اشعار میں شاعر مدینہ کی گلیوں، مسجدِ نبوی کے منبر اور سبز گنبد کو دیکھنے کی گہری تمنا کا اظہار کر رہا ہے۔ وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہوئے حضور ﷺ سے بخشش کی سفارش اور مدینہ کی پاک مٹی میں دفن ہونے کی آرزو کرتا ہے۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

لفظمعنی
روضہقبرِ انور / مزارِ مبارک
منبروہ اونچی جگہ جہاں کھڑے ہو کر خطبہ دیا جاتا ہے
خطبہمذہبی وعظ یا تقریر
جنتِ بقیعمدینہ منورہ کا مشہور و مقدس قبرستان
خطا کارغلطی کرنے والا / گنہگار
نَظا (نظارہ)منظر / نگاہوں کے سامنے کی چیز

خلاصہ (Summary)

اس کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ دنیا کی رنگینیوں اور گناہوں سے تھکا ہوا انسان صرف مدینہ کی فضاؤں میں سکون تلاش کرتا ہے۔ شاعر کی دلی خواہش ہے کہ اسے آقا ﷺ کے دربار سے بلاوا آئے تاکہ وہ اپنی آنکھوں سے روضہ رسول ﷺ کی جالیوں کو دیکھ سکے اور اس کا خاتمہ مدینہ کی مقدس گلیوں میں ہو۔

نعت کے آخری بند میں شاعر نے خود کو دنیا کی باتوں میں ڈوبا ہوا بتا کر آقا ﷺ سے کیا التجا کی ہے؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں: