मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 52 بار دیکھا گیا
,
عنوان: مدینے کی گلیاں وہ روضے کی جالی
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: محمد فیض عالم مانکوہ مرادآبادی
نعت خوان/ فنکار: مختلف/نامعلوم
شامل کیا گیا: 22 Sep, 2024 01:26 PM IST
دیکھا گیا: 721
Time to read: 2 min read
مدینے کی گلیاں، وہ روضے کی جالی،
مدینے کو دیکھوں، یہ دل کہہ رہا ہے،
بُلا لو اے آقا، گنہگار کو بھی،
مدینے کو جاؤں، یہ دل کہہ رہا ہے۔
وہ مسجدِ نبوی، وہ منبر تمہارا،
جہاں آپ نے خطبہ سنایا،
وہ نورانی مسجد، وہ نورانی منبر،
دیکھوں میں جا کر، یہ دل کہہ رہا ہے۔
مدینے کی گلیاں، وہ روضے کی جالی،
مدینے کو دیکھوں، یہ دل کہہ رہا ہے…
وہ گنبد تمہارا، جو جنتِ بقیع ہے،
وہ نورانی منظر، وہ نورانی قبریں،
وہ وادی کا منظر، نَظا میں بسا کے،
میں دیکھوں مدینہ، یہ دل کہہ رہا ہے۔
مدینے کی گلیاں، وہ روضے کی جالی،
مدینے کو دیکھوں، یہ دل کہہ رہا ہے…
وہاں کی ہواؤں میں خوشبو تمہاری،
وہاں کی فضاؤں میں رنگت تمہاری،
وہ نورانی گلیوں میں نور تمہارا،
وہاں آ کے دیکھوں، یہ دل کہہ رہا ہے۔
مدینے کی گلیاں، وہ روضے کی جالی،
مدینے کو دیکھوں، یہ دل کہہ رہا ہے…
جنتِ بقیع میں، وہ نورانی قبریں،
جہاں سے ہے آقا کا روضہ چمک کے،
قدموں میں آقا کے اتنا مزہ ہے،
وہیں دَفن ہونا، یہ دل کہہ رہا ہے۔
مدینے کی گلیاں، وہ روضے کی جالی،
مدینے کو دیکھوں، یہ دل کہہ رہا ہے…
گناہوں میں ڈوبا، یہ عاشق تمہارا،
بڑا بے خبر ہے، بڑا بے سہارا،
کرم کیجیے فیض پر بھی اے آقا،
گناہ بخشواؤں، یہ دل کہہ رہا ہے۔
مدینے کی گلیاں، وہ روضے کی جالی،
مدینے کو دیکھوں، یہ دل کہہ رہا ہے…
گنہگار ہوں میں، خطا کار ہوں میں،
یہ دنیا کی باتوں میں ڈوبا ہوں میں،
بچا لو اے آقا، اس دنیا سے مجھ کو،
مجھے اب بُلاؤ، یہ دل کہہ رہا ہے۔
مدینے کی گلیاں، وہ روضے کی جالی،
مدینے کو دیکھوں، یہ دل کہہ رہا ہے…
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ نعت ایک تڑپتے ہوئے دل کی پکار ہے جو مدینہ منورہ کی حاضری اور حضور ﷺ کے روضہ انور کے دیدار کے لیے بے چین ہے۔ اس میں ایک گنہگار امتی کی عاجزی اور اپنے آقا ﷺ سے کرم کی فریاد کو بہت موثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
ان اشعار میں شاعر مدینہ کی گلیوں، مسجدِ نبوی کے منبر اور سبز گنبد کو دیکھنے کی گہری تمنا کا اظہار کر رہا ہے۔ وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہوئے حضور ﷺ سے بخشش کی سفارش اور مدینہ کی پاک مٹی میں دفن ہونے کی آرزو کرتا ہے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| روضہ | قبرِ انور / مزارِ مبارک |
| منبر | وہ اونچی جگہ جہاں کھڑے ہو کر خطبہ دیا جاتا ہے |
| خطبہ | مذہبی وعظ یا تقریر |
| جنتِ بقیع | مدینہ منورہ کا مشہور و مقدس قبرستان |
| خطا کار | غلطی کرنے والا / گنہگار |
| نَظا (نظارہ) | منظر / نگاہوں کے سامنے کی چیز |
اس کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ دنیا کی رنگینیوں اور گناہوں سے تھکا ہوا انسان صرف مدینہ کی فضاؤں میں سکون تلاش کرتا ہے۔ شاعر کی دلی خواہش ہے کہ اسے آقا ﷺ کے دربار سے بلاوا آئے تاکہ وہ اپنی آنکھوں سے روضہ رسول ﷺ کی جالیوں کو دیکھ سکے اور اس کا خاتمہ مدینہ کی مقدس گلیوں میں ہو۔
نعت کے آخری بند میں شاعر نے خود کو دنیا کی باتوں میں ڈوبا ہوا بتا کر آقا ﷺ سے کیا التجا کی ہے؟