मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 42 بار دیکھا گیا
,
عنوان: ماں تیرا چہرہ ہے کتنا نرالا
زمرہ: منقبت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: نواب رضا جمالی
نعت خوان/ فنکار: نواب رضا جمالی
شامل کیا گیا: 19 May, 2026 07:03 AM IST
دیکھا گیا: 54
Time to read: 1 min read
اے ماں تیرا چہرہ ہے کتنا نرالا،
جس میں محبت نظر آ رہی ہے،
ذکر ہوگا تیری عظمت کا جب بھی،
قدموں میں جنت نظر آ رہی ہے۔
ماں نے سلایا ہے سوکھے میں مجھ کو،
گیلے میں سوئی تو میرے خاطر،
کرم کو جو دیکھا تیری اے میری ماں،
تو ہی تو رحمت نظر آ رہی ہے۔
باپ نے پالا، ماں نے سنوارا،
ہر ایک موڑ پہ ماں نے جی کو سنبھالا،
ہے ماں باپ موجود جس کے بھی اس کی،
نرالی قسمت نظر آ رہی ہے۔
نواب جمالی کی خوش قسمتی ہے،
دعائیں جو ماں باپ کی مل رہی ہیں،
یہ ماں باپ کی ہی دعا کا اثر ہے،
تیری جو یہ شہرت نظر آ رہی ہے۔
اے ماں تیرا چہرہ ہے کتنا نرالا،
جس میں محبت نظر آ رہی ہے،
ذکر ہوگا تیری عظمت کا جب بھی،
قدموں میں جنت نظر آ رہی ہے۔
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلام ماں کی ممتا، ان کی قربانیوں اور والدین کی عظمت کا خوبصورت بیان ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ ماں باپ کا وجود اور ان کی دعائیں ہی انسان کی اصل خوش قسمتی اور دنیاوی و آخرت کی کامیابی کا سبب ہیں۔
ان لائنوں کا مطلب ہے کہ ماں کا چہرہ محبت کا آئینہ ہے اور ان کے قدموں کے نیچے جنت بسی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ ماں باپ نے زندگی کے ہر کٹھن موڑ پر ہماری پرورش کی، اور آج ہمیں دنیا میں جو بھی عزت اور شہرت حاصل ہے، وہ سب ان کی مخلصانہ دعاؤں کا ہی نتیجہ ہے۔
| لفظ (Word) | معنی (Meaning) |
|---|---|
| نرالا | انوکھا / عجیب و غریب / سب سے الگ |
| عظمت | بڑائی / شان / بزرگی |
| کرم | مہربانی / لطف و عنایت |
| رحمت | اللہ کی برکت / سایہ شفقت |
| سنوارا | سجایا / بہتر بنایا / تربیت کی |
| موجود | حاضر / سلامت ہونا |
| خوش قسمتی | اچھا نصیب / بخت آوری |
| شہرت | نامور ہونا / نام کمانا / مقبولیت |
ماں خود تکلیف اٹھا کر اپنے بچے کو سکھ دیتی ہے اور باپ دن رات محنت کر کے اس کا مستقبل سنوارتا ہے۔ شاعر 'نواب جمالی' کہتے ہیں کہ دنیا میں سب سے نصیب والا وہ انسان ہے جس کے سر پر والدین کا سایہ سلامت ہے، کیونکہ ان کی دعاؤں کی برکت سے ہی انسان کو زندگی میں کامیابی اور شہرت ملتی ہے۔
شائر "نواب جمالی" کے مطابق ان کی شہرت اور اچھی قسمت کا اصلی سبب (وجہ) کیا ہے؟