मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 54 بار دیکھا گیا
,
عنوان: لے کے سب رحمتیں لے کے سب برکتیں ماہِ رمضان چلا الوداع الوداع
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: فرحان دل مالیگاؤں
نعت خوان/ فنکار: عبدالحسیب بنارسی
شامل کیا گیا: 20 Apr, 2023 10:48 AM IST
دیکھا گیا: 377
Time to read: 2 min read
الوداع! الوداع! الوداع! الوداع!
الوداع! الوداع! الوداع! الوداع!
لے کے سب رحمتیں، لے کے سب برکتیں،
ماہِ رمضان چلا، الوداع! الوداع!
اشک مومن کی آنکھوں سے بہنے لگے،
اور دل رو دیا، الوداع! الوداع!
لے کے سب رحمتیں، لے کے سب برکتیں،
ماہِ رمضان چلا، الوداع! الوداع!
ہم گناہگار ہیں، ہم خطاکار ہیں،
ہم کو منظور ہے، ہم سزاوار ہیں،
ہم سے تعظیم تیری نہیں ہو سکی،
اور تُو چل دیا، الوداع! الوداع!
لے کے سب رحمتیں، لے کے سب برکتیں،
ماہِ رمضان چلا، الوداع! الوداع!
جیسے رکھنے تھے روزے، نہیں رکھ سکے،
ہم عبادت کی لذت نہیں چکھ سکے،
موقع اللہ نے جو دیا تھا ہمیں،
ہم نے وہ کھو دیا، الوداع! الوداع!
لے کے سب رحمتیں، لے کے سب برکتیں،
ماہِ رمضان چلا، الوداع! الوداع!
تیرے آنے سے رونق جہاں میں ہوئی،
روشنی اک زمیں-آسماں میں ہوئی،
ہم کو جنت ملے گی تیرے فیض سے،
شکریہ! شکریہ! الوداع! الوداع!
لے کے سب رحمتیں، لے کے سب برکتیں،
ماہِ رمضان چلا، الوداع! الوداع!
ہم عبادت میں آگے بڑھ نہ سکے،
دل لگا کر تراویح پڑھ نہ سکے،
ہم نمازوں سے غافل رہے جان کر،
جُرم ہم سے ہوا، الوداع! الوداع!
لے کے سب رحمتیں، لے کے سب برکتیں،
ماہِ رمضان چلا، الوداع! الوداع!
تیرے دم سے تھی افطار کی نعمتیں،
وقتِ سحری تھی انوار کی نعمتیں،
رحمتوں کی گھٹا چھائی تھی ہر طرف،
ہر طرف نور تھا، الوداع! الوداع!
لے کے سب رحمتیں، لے کے سب برکتیں،
ماہِ رمضان چلا، الوداع! الوداع!
کتنے لوگوں نے قرآن پورا پڑھا،
سچا مومن تو جنت کی سیڑھی چڑھا،
جس نے جتنی عبادت کی اللہ کی،
اتنا آگے بڑھا، الوداع! الوداع!
لے کے سب رحمتیں، لے کے سب برکتیں،
ماہِ رمضان چلا، الوداع! الوداع!
ہم تو مصروف دنیا کے کاموں میں ہیں،
پھر بھی ہم مصطفیٰؐ کے غلاموں میں ہیں،
ہم تو روزے کا بھی کر نہ پائے لحاظ،
تھی ہماری خطا، الوداع! الوداع!
لے کے سب رحمتیں، لے کے سب برکتیں،
ماہِ رمضان چلا، الوداع! الوداع!
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ ماہِ رمضان المبارک کی رخصت پر گایا جانے والا ایک نہایت ہی درد انگیز اور رقت آمیز 'الوداعی کلام' ہے۔ اس میں رمضان کے بابرکت مہینے کے گزر جانے پر مسلمانوں کے غم، ندامت اور اپنی کوتاہیوں پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ رمضان کا مقدس مہینہ اپنی تمام تر رحمتیں اور برکتیں سمیٹ کر ہم سے رخصت ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے اہل ایمان کے دل غمگین ہیں اور آنکھوں سے آنسو (اشک) جاری ہیں۔ بندہ اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ہم دنیا داری میں مصروف رہنے کی وجہ سے اس ماہِ مبارک کی ویسی تعظیم اور قدر دانی نہیں کر سکے جیسی ہونی چاہیے تھی۔
| لفظ (Word) | معنی (Meaning) |
|---|---|
| ماہِ رمضان | رمضان کا مہینہ |
| اشک | آنسو |
| خطاکار / سزاوار | غلطی کرنے والا / سزا کے لائق |
| تعظیم | عزت، اکرام یا احترام کرنا |
| لذت | سواد یا مزہ (یہاں مراد عبادت کا روحانی سرور ہے) |
| غافل | لاپرواہ، بے خبر یا سست |
| انوار | الٰہی روشنیاں یا نور (نور کی جمع) |
اس الوداعی کلام کا بنیادی لبِ لباب یہ ہے کہ رمضان کی برکت سے زمین و آسمان میں جو نورانی رونق، اور سحری و افطاری کے وقت جو خوبصورت نعمتیں میسر تھیں، وہ اب ہم سے جدا ہو رہی ہیں۔ جہاں سچے مومنین اس مہینے میں دن رات عبادت اور تلاوتِ قرآن کر کے بلندیوں پر پہنچ گئے، وہیں گناہگار بندہ اپنی سستی، تراویح میں دل نہ لگنے اور نمازوں سے غفلت پر نادم و شرمسار ہے۔ آخر میں وہ اس امید پر رب کا شکر ادا کرتا ہے کہ اس مہینے کے فیض اور حضور نبی کریم (مصطفیٰ ﷺ) کی غلامی کی برکت سے ان جیسے خطاکاروں کو بھی جنت نصیب ہوگی۔
لیرکس کے مطابق، سحری کے وقت کس چیز کی نعمتیں میسر تھیں (ملتی تھیں)؟