मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 52 بار دیکھا گیا
,
عنوان: کس لب پہ کیا دعا ہے سرکار جانتے ہیں
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم
نعت خوان/ فنکار: الحاج محمد ساجد قادری عطاری محمد شریف رضا پالی
شامل کیا گیا: 28 Dec, 2023 08:13 AM IST
دیکھا گیا: 439
Time to read: 2 min read
سرکار جانتے ہیں، سرکار جانتے ہیں
سرکار جانتے ہیں، سرکار جانتے ہیں
کس لب پہ کیا دعا ہے، سرکار جانتے ہیں
کس کے دلوں میں کیا ہے، سرکار جانتے ہیں
کس لب پہ کیا صدا ہے، سائل کے دل میں کیا ہے
سرکار جانتے ہیں، سرکار جانتے ہیں
سرکار جانتے ہیں، سرکار جانتے ہیں
سرکار جانتے ہیں، سرکار جانتے ہیں
مردہ ہے یا کہ زندہ، بچّی ہے یا کہ بچّہ
جو غیب کی خبر دے وہ ہیں ہمارے آقا
کس کو بھلا خبر ہے، مجبور ہر بشر ہے
ماں کے شکم میں کیا ہے، سرکار جانتے ہیں
سرکار جانتے ہیں، سرکار جانتے ہیں
سرکار جانتے ہیں، سرکار جانتے ہیں
شاخِ کھجور لے کر قبروں پہ ڈالتے ہیں
ميت کی ہر سزا کو پل بھر میں ٹالتے ہیں
مردہ ہے کس جگہ کا، اِس کا ہے ماجرا کیا
قبروں میں حال کیا ہے، سرکار جانتے ہیں
سرکار جانتے ہیں، سرکار جانتے ہیں
سرکار جانتے ہیں، سرکار جانتے ہیں
معراج کا سفر ہے، سرکار جا رہے ہیں
اور لا مکاں پہنچ کر تشریف لا رہے ہیں
معراج کی حقیقت ایمان ہے یہ اپنا
پردے میں کیا رکھا ہے، سرکار جانتے ہیں
سرکار جانتے ہیں، سرکار جانتے ہیں
سرکار جانتے ہیں، سرکار جانتے ہیں
سدرہ پہ لے کے پہنچے، جبریل ساتھ چھوڑیں
مجھ کو نہ کچھ پتا ہے، کہتے ہیں ہاتھ جوڑیں
آگے حضور! جائیں، یہ میری انتہا ہے
سدرہ کے آگے کیا ہے، سرکار جانتے ہیں
سرکار جانتے ہیں، سرکار جانتے ہیں
سرکار جانتے ہیں، سرکار جانتے ہیں
کبھی قاف کہہ رہے ہیں، کبھی صاد کہہ رہے ہیں
کبھی عین کہہ رہے ہیں، کبھی ہا پہ رہ رہے ہیں
جبریل کہہ رہے ہیں، یہ راز کی ہیں باتیں
مانا مفہوم کیا ہے، سرکار جانتے ہیں
سرکار جانتے ہیں، سرکار جانتے ہیں
سرکار جانتے ہیں، سرکار جانتے ہیں
شیشوں کے گھر میں رہ کر پتھر اچھالتے ہیں
عشّاقِ مصطفیٰ تو تقدیر ٹالتے ہیں
ہاں، میر! رب ہے خالق اور مصطفیٰ ہیں مالک
قسمت میں کیا لکھا ہے، سرکار جانتے ہیں
سرکار جانتے ہیں، سرکار جانتے ہیں
سرکار جانتے ہیں، سرکار جانتے ہیں
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ منقبت حضور سرورِ کائنات ﷺ کے علمِ غیب اور ان کی بلند روحانی شان کے بیان میں ہے، جس میں شاعر اللہ کے عطا کردہ اس علم کا ذکر کر رہا ہے جو عام انسانوں اور فرشتوں کی سمجھ سے بالا تر ہے۔
ان اشعار کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو وہ بصیرت عطا فرمائی ہے کہ وہ ہر مانگنے والے کے دل کے حال اور لبوں پر موجود دعا سے واقف ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ چاہے وہ ماں کے پیٹ میں بچے کی حقیقت ہو، قبر میں میت کی کیفیت ہو، یا معراج کے وہ سربستہ راز ہوں جہاں جبریلِ امیں (ع) کی رسائی بھی ختم ہو جاتی ہے—یہ سب حقائق حضور ﷺ کے علم میں ہیں۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| صدا | آواز یا پکار (Call) |
| سائل | مانگنے والا یا سوالی (Beggar) |
| بشر | انسان یا آدمی (Human) |
| شکم | پیٹ یا کوکھ (Womb) |
| لا مکاں | وہ مقام جو زمان و مکان کی قید سے آزاد ہو |
| سدرہ | معراج کے سفر کی وہ آخری حد جہاں فرشتوں کا داخلہ بند ہے |
| مفہوم | مطلب یا معنی (Meaning) |
| عشّاق | عشق کرنے والے (Lovers) |
اس کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ کائنات کا ذرہ ذرہ اور تقدیر کے لکھے ہوئے فیصلے اللہ کے حکم سے مصطفیٰ ﷺ کی نظر میں ہیں۔ شاعر نے معراج کے واقعے اور قرآن کے 'حروفِ مقطعات' (ق، ص، ع، ہ) کا حوالہ دے کر یہ ثابت کیا ہے کہ جن رازوں تک مقرب فرشتوں کی عقل نہیں پہنچتی، وہاں سرکارِ دو عالم ﷺ کا علم پہنچتا ہے۔ مرید کے لیے پیغام یہ ہے کہ جب مالک و مختار ﷺ سب جانتے ہیں، تو مومن کو اپنی قسمت ان کے حوالے کر دینی چاہیے۔
شاعر نے معراج کے وقت حضرت جبرئیل (ع) کی "انتہا" اور "سدرہ" کے آگے کا ذکر کیوں کیا ہے؟