मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 66 بار دیکھا گیا
,
عنوان: خوش قسمتوں کا دیکھو وہ سردار ہو گیا
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: اسد اقبال کلکتوی
نعت خوان/ فنکار: اسد اقبال کلکتوی
شامل کیا گیا: 11 Sep, 2023 04:40 PM IST
دیکھا گیا: 268
Time to read: 1 min read
خوش قسمتوں کا دیکھو وہ سردار ہو گیا،
جس کو رسولِ پاک کا دیدار ہو گیا
اُس وقت سے میں رشکِ گُھربار ہو گیا،
دل جب سے مصطفٰی کا تالبگار ہو گیا
جس نے نبی کے عشق میں خود کو مٹا دیا،
خُلدِ بری کا دیکھو وہ حقدار ہو گیا
فرتا ہے مارا مارا تو گستاخِ مصطفٰی،
میرے نبی کا جب سے تو غدّار ہو گیا
خوش قسمتوں کا دیکھو وہ سردار ہو گیا،
جس کو رسولِ پاک کا دیدار ہو گیا
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ نعتِ رسول ﷺ عشقِ صادق کی اہمیت اور حضور ﷺ کی محبت میں فنا ہو جانے والے خوش نصیبوں کے بلند مرتبے کا اظہار ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ جسے خواب یا بیداری میں حضور ﷺ کی زیارت نصیب ہو جائے، وہ کائنات کا سب سے بڑا خوش قسمت ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جنت صرف اُنہی کا مقدر ہے جنہوں نے اپنی زندگی اور اپنی انا کو عشقِ مصطفیٰ ﷺ میں مٹا دیا، جبکہ آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والا ذلیل و خوار ہوتا ہے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| دیدار | زیارت یا دیکھنا |
| رشکِ گُہربار | جس پر موتی بھی رشک کریں |
| طلبگار | چاہنے والا یا تلاش کرنے والا |
| خُلدِ بریں | بلند و برتر جنت |
| گستاخ | بے ادب یا گستاخی کرنے والا |
| غدار | بے وفا یا دھوکہ دینے والا |
اس کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ انسانی زندگی کی معراج حضور ﷺ کا دیدار اور ان کی تڑپ ہے۔ جو شخص نبی کریم ﷺ کی محبت میں خود کو وقف کر دیتا ہے، اللہ اسے جنت کا حقدار بنا دیتا ہے۔ اس کے برعکس، جو شخص آپ ﷺ کی دشمنی یا گستاخی کا راستہ اختیار کرتا ہے، وہ دنیا اور آخرت دونوں میں رسوائی کا شکار ہو کر بھٹکتا رہتا ہے۔
شاعر کے مطابق، خُلدِ بریں (جنت) کا حقدار بننے کے لیے انسان کو کیا کرنا چاہیے؟