اندھیری رات ہے غم کی گھٹا عصیاں کی کالی ہے
- 1 مہینہ پہلے fiber_manual_record 117 بار دیکھا گیا
,
عنوان: کیسن وہ طیبہ دیار ہے
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: علی حیدر فیضی لکھن پوری
نعت خوان/ فنکار: علی حیدر فیضی لکھن پوری
شامل کیا گیا: 07 Sep, 2025 09:16 AM IST
دیکھا گیا: 98
Time to read: 1 min read
کیسن وہ طیبہ دیار ہے،
دیکھن کو دل بےقرار ہے۔
جگ جگ کے نینا مورے ترسے ہیں،
ساون کے بادل جیسا برسے ہیں۔
جیتے میں جینا بےقرار ہے،
آقا کا کب دیدار ہے۔
حسرت ہے، غربت ہے، مجبوری ہے،
کیسے پہنچوں کہ اتنی دوری ہے۔
نَیّا جیون کی مَجھدار ہے،
مولا کرے تو بیڑا پار ہے۔
کیسن وہ طیبہ دیار ہے،
جیتے میں جینا بےقرار ہے۔
کیسن وہ طیبہ دیار ہے،
دیکھن کو دل بےقرار ہے۔
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلام بھوجپوری اور اردو کے آمیزے پر مبنی ایک انتہائی پُردرد نعت ہے، جس میں ایک غریب عاشقِ رسول ﷺ اپنی بے بسی، غربت اور مدینہ منورہ پہنچنے کی تڑپ کو بڑے ہی سادہ مگر اثر انگیز انداز میں بیان کر رہا ہے۔
شاعر کہتا ہے کہ وہ طیبہ کی بستی کیسی مبارک ہوگی جس کے دیدار کے لیے میرا دل ہر وقت بے چین رہتا ہے۔ میری آنکھیں راتوں کو جاگ کر دیدارِ مصطفیٰ ﷺ کے لیے ساون کے بادلوں کی طرح رو رہی ہیں، کیونکہ غربت اور فاصلوں نے مجھے تڑپا کر رکھ دیا ہے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| کیسن | کیسا / کس طرح کا |
| دیار | بستی / شہر / علاقہ |
| نینا | آنکھیں |
| جیتے میں | جیتے جی / زندگی میں |
| غربت | مفلسی / غریبی |
| نَیّا | کشتی / ناؤ |
| مجھدار | لہروں کے درمیان / منجدھار |
| بیڑا پار | کامیابی / نجات / منزل ملنا |
اس کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ عاشق اپنے حالات یعنی "غربت اور مجبوری" کا شکوہ کرتے ہوئے بارگاہِ الٰہی میں التجا کرتا ہے کہ اس کی زندگی کی کشتی مشکلات کے بھنور میں پھنسی ہوئی ہے۔ اسے یقین ہے کہ اگر اللہ کا کرم ہو جائے تو اس کا بیڑا پار ہو سکتا ہے اور وہ طیبہ کا دیدار کر سکتا ہے۔
"نَیّا جیون کی مَجھدار ہے، مولا کرے تو بیڑا پار ہے" — کیا یہ مصرعہ ہمیں یہ نہیں سکھاتا کہ جب تمام ظاہری اسباب ختم ہو جائیں تو صرف توکل ہی منزل تک پہنچاتا ہے؟