, جو ہو چکا ہے جو ہوگا حضور جانتے ہیں - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

جو ہو چکا ہے جو ہوگا حضور جانتے ہیں Lyrics In اردو

(جو ہو چکا ہے جو ہوگا حضور جانتے ہیں, تری عطا سے خدایا حضور جانتے ہیں)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: جو ہو چکا ہے جو ہوگا حضور جانتے ہیں

زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)

مصنف/گیتکار: اویس رضا قادری

نعت خوان/ فنکار: اویس رضا قادری

شامل کیا گیا: 24 Mar, 2024 02:31 AM IST

دیکھا گیا: 804

Time to read: 3 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

جو ہو چکا ہے، جو ہوگا حضور جانتے ہیں،
تری عطا سے خدایا حضور جانتے ہیں۔

خدا کو دیکھا نہیں اور ایک مان لیا،
کہ جانتے تھے صحابہ حضور جانتے ہیں۔

منافقوں کا عقیدہ وہ غیب داں نہیں،
اور صحابیوں کا عقیدہ حضور جانتے ہیں۔

اے علمِ غیب کے مُنکر! خدا کو دیکھا ہے؟
اور تجھے بھی کہنا پڑے گا حضور جانتے ہیں۔

خبر بھی ہے؟ کہ خبر سب کی ہے اُنہیں کب سے 
کہ جب نہ اب تھا نہ کب تھا حضور جانتے ہیں۔

کہ اُن کے ہاتھ میں کیا کیا تجھے خبر نہ مجھے،
خدا نے کتنا نوازا حضور جانتے ہیں۔

وہ مومنوں کی تو جانوں سے بھی قریب ہوئے،
کہاں سے کس نے پکارا حضور جانتے ہیں۔

اسی لیے تو سلایا ہے اپنے پہلو میں،
کہ یارِ گھر کا رُتبا حضور جانتے ہیں۔

عمر نے تن سے جدا کر دیا تھا سر جس کا،
وہ اپنا ہے کہ پرایا حضور جانتے ہیں۔

نبی کا فیصلہ نہ مان کر وہ جان سے گیا 
مزاجِ عمر کیسا حضور جانتے ہیں۔

وہی ہیں پیکرِ شرم و حیا وہ ذوالنورین،
مقام اُن کی حیا کا حضور جانتے ہیں۔

ہیں جس کے مولا حضور اُس کے ہیں علی مولا،
ابو تراب کا رُتبا حضور جانتے ہیں۔

یہ خود شہید ہیں بیٹے، نواسے، پوتے شہید،
علی کی شانِ یگانہ حضور جانتے ہیں۔

میں اُن کی بات کروں یہ نہیں میری اوقات،
کہ شانِ فاطمہ زہرا حضور جانتے ہیں۔

جِنا میں کون ہے سردارِ نوجوانوں کے؟
حسن، حسین کے نانا حضور جانتے ہیں۔

ملائکہ نے کیا یوں جو سجدہ آدم کو 
در اصل کس کو تھا سجدہ حضور جانتے ہیں۔

کہاں مریں گے ابو جہل و عتبہ و شَیبہ؟
کہ جنگِ بدر کا نقشہ حضور جانتے ہیں۔

وہ کتنا فاصلہ تھا، اور کلام تھا کیسا 
اٰو اَدنیٰ، اَو مَا اَوحیٰ حضور جانتے ہیں۔

ملے تھے راہ میں نو بار کس لیے موسیٰ 
یہ دیدِ حق کا بہانہ حضور جانتے ہیں۔

میں چُپ کھڑا ہوں مواجہہ پہ سر جھکائے ہوئے،
سناؤں کیسے فسانہ حضور جانتے ہیں۔

چھپا رہے ہیں لگاتار میرے عیبوں کو،
میں کس قدر ہوں کمینہ حضور جانتے ہیں۔

خدا ہی جانے اُبَید! اُن کو ہے پتا کیا کیا،
ہمیں پتا ہے بس اتنا حضور جانتے ہیں۔

نہیں ہے زادِ سفر پاس جن غلاموں کے،
اُنہیں بھی دَر پہ بلانا حضور جانتے ہیں۔

ہِرن نے، اونٹ نے، چِڑیوں نے کی یہی فریاد 
کہ اُن کے غم کا مداوا حضور جانتے ہیں۔

تیری عطا سے خدایا حضور جانتے ہیں۔

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ نعت حضور اکرم ﷺ کے اس رُوحانی علم اور بصیرت کو بیان کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کو عطا فرمایا۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ آپ ﷺ اللہ کی عطا سے کائنات کے ماضی، حال اور مستقبل کے تمام حالات سے باخبر ہیں۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

شاعر کہتا ہے کہ صحابہ کرام کا یہ پختہ ایمان تھا کہ اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو غیب کی خبریں جاننے والا بنایا ہے۔ چاہے وہ میدانِ بدر کے نتائج ہوں، صحابہ کے بلند مراتب ہوں یا کسی پریشان حال اُمتی کی پکار—آپ ﷺ اللہ کے دیئے ہوئے علم سے ہر شے کا ادراک رکھتے ہیں اور اپنے غلاموں کے عیبوں پر پردہ ڈالتے ہیں۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

لفظمعنی
عطااللہ کی دین / بخشش
مُنکرانکار کرنے والا
پیکرِ شرم و حیاشرم و حیا کی مورت (حضرت عثمانؓ)
شانِ یگانہمنفرد اور بے مثال شان
مواجہہروضہ رسول ﷺ کے سامنے والا مقام
مداواعلاج یا حل
زادِ سفرسفر کا خرچ یا توشہ

خلاصہ (Summary)

اس نعت کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کا علم اور مقام عام انسانی سمجھ سے بالاتر ہے؛ آپ ﷺ دلوں کے حال بھی جانتے ہیں اور کائنات کے پوشیدہ رازوں سے بھی واقف ہیں۔ شاعر اپنی عاجزی کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ میرے آقا ﷺ میری تمام برائیوں کو جانتے ہوئے بھی مجھ پر کرم فرماتے ہیں اور بن مانگے میری فریاد سنتے ہیں۔

نعت کے آخر میں شاعر نے بی بی فاطمہ زہراؑ کی شان کے بارے میں اپنی "اوقات" کا ذکر کس طرح کیا ہے، اور ان کی شان کی حقیقت کے بارے میں کیا کہا ہے؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں:

نمایاں آرٹسٹ/گیت نگار

سبھی دیکھیں