मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 65 بار دیکھا گیا
,
عنوان: جو بھی دشمن ہے میرے رضا کا جل رہا تھا جلا ہے جلے گا
زمرہ: کلام کے بول (لیرکس) نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم
نعت خوان/ فنکار: اسد اقبال کلکتوی
شامل کیا گیا: 22 Aug, 2023 01:46 PM IST
دیکھا گیا: 491
Time to read: 2 min read
جو بھی دشمن ہے میرے رضا کا،
جل رہا تھا جلا ہے جلے گا،
مسلكِ اعلیٰ حضرت کا نعرہ،
لگ رہا ہے ہمیشہ لگے گا
بغض و کینہ کا چشمہ لگا کر،
نزدیوں نے لکھا جو چھپا کر،
عام حضرت سے تو بچ گیا ہے،
اعلیٰ حضرت سے کیسے بچے گا
بد اذان جس کی دنیا میں شہرت،
ہے رضا کا سلامِ محبت،
مرحبا مصطفیٰ جانِ رحمت،
جھوم کر ان کا عاشق پڑھے گا
وہ رضا کا گھرانہ ہے پیارے،
علم کا کارخانہ ہے پیارے،
ان کے ٹکسال میں جو ڈھلے گا
علم کا ایک ہمالیہ بنے گا
مصطفیٰ کی عنایت سے پیارے،
غوثِ اعظم کی برکت سے پیارے،
اہلِ سنت کے بازار میں اب،
اعلیٰ حضرت کا سکہ چلے گا
عشقِ احمد کا مفہوم کیا ہے،
نزدیوں تم کو معلوم کیا ہے،
اعلیٰ حضرت کے پیکر میں دیکھو،
عشقِ احمد کا جلوہ ملے گا
دودھ مانگو گے ہم کھیر دیں گے،
ورنہ باغی کو ہم چیر دیں گے،
سنّیوں سے نہ لے کوئی پنگا،
ورنہ پنگا یہ مہنگا پڑے گا
غوث و خواجہ کی بے شک عطا ہے،
ہند میں ایک احمد رضا ہے،
اہلِ سنت کا جو مقتدا ہے،
وہ بریلی میں تم کو ملے گا
ہاتھ ملتے رہیں ملنے والے،
لاکھ جلتے رہیں جلنے والے،
غوث و خواجہ کے لطف و کرم سے،
اعلیٰ حضرت کا ڈنکا بجے گا
وہ رضا کے چمن کا ستارہ،
اہلِ سنت کے دل کا اُجالا،
اخترِ قادری سب کے دل پر،
راج کرتا ہے کرتا رہے گا
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ منقبت امام احمد رضا خان بریلوی (اعلیٰ حضرت) کی علمی جلالت، عشقِ رسول ﷺ اور ان کے مخالفین کے رد میں لکھی گئی ہے، جو مسلکِ حق کی ترجمانی کرتی ہے۔
ان اشعار میں شاعر کہتا ہے کہ اعلیٰ حضرت کا گھرانہ علم کا وہ مرکز ہے جہاں سے تربیت پانے والا علم کی بلندیوں (ہمالیہ) کو چھو لیتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ آپ کا لکھا ہوا سلام "مصطفیٰ جانِ رحمت" رہتی دنیا تک عاشقوں کے دلوں کی دھڑکن بنا رہے گا اور آپ کا علمی سکہ ہمیشہ رائج رہے گا۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| بغض و کینہ | دشمنی اور دل میں میل رکھنا |
| ٹکسال | وہ جگہ جہاں سکے بنتے ہیں (مجازی مراد: تربیت گاہ) |
| مفہوم | مطلب یا معنی |
| پیکر | جسم یا صورت (Embodiement) |
| مقتدا | وہ جس کی پیروی کی جائے / پیشوا |
| ڈنکا بجنا | شہرت اور دھاک بیٹھنا |
اس منقبت کا خلاصہ یہ ہے کہ اعلیٰ حضرت کی ذات عشقِ احمد ﷺ کا عملی نمونہ ہے اور ان کا علمی مرتبہ غوث و خواجہ کی عطا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ بریلی کا یہ دربار علم کا وہ کارخانہ ہے جس نے اہل سنت کو پہچان عطا کی، اور اخترِ قادری (تاج الشریعہ) جیسے ستاروں کے ذریعے یہ فیض ہمیشہ جاری و ساری رہے گا۔
شاعر نے اعلیٰ حضرت کے گھرانے کو کیا کہا ہے، جہاں سے ڈھل کر انسان 'علم کا ہمالیہ' بنتا ہے؟