, جو بھی دشمن ہے میرے رضا کا جل رہا تھا جلا ہے جلے گا - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

جو بھی دشمن ہے میرے رضا کا جل رہا تھا جلا ہے جلے گا Lyrics In اردو

(جو بھی دشمن ہے میرے رضا کا جل رہا تھا جلا ہے جلے گا, مسلكِ اعلیٰ حضرت کا نعرہ لگ رہا ہے ہمیشہ لگے گا)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: جو بھی دشمن ہے میرے رضا کا جل رہا تھا جلا ہے جلے گا

زمرہ: کلام کے بول (لیرکس) نعت کے بول (لیرکس)

مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم

نعت خوان/ فنکار: اسد اقبال کلکتوی

شامل کیا گیا: 22 Aug, 2023 01:46 PM IST

دیکھا گیا: 491

Time to read: 2 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

جو بھی دشمن ہے میرے رضا کا،
جل رہا تھا جلا ہے جلے گا،
مسلكِ اعلیٰ حضرت کا نعرہ،
لگ رہا ہے ہمیشہ لگے گا

بغض و کینہ کا چشمہ لگا کر،
نزدیوں نے لکھا جو چھپا کر،
عام حضرت سے تو بچ گیا ہے،
اعلیٰ حضرت سے کیسے بچے گا

بد اذان جس کی دنیا میں شہرت،
ہے رضا کا سلامِ محبت،
مرحبا مصطفیٰ جانِ رحمت،
جھوم کر ان کا عاشق پڑھے گا

وہ رضا کا گھرانہ ہے پیارے،
علم کا کارخانہ ہے پیارے،
ان کے ٹکسال میں جو ڈھلے گا
علم کا ایک ہمالیہ بنے گا

مصطفیٰ کی عنایت سے پیارے،
غوثِ اعظم کی برکت سے پیارے،
اہلِ سنت کے بازار میں اب،
اعلیٰ حضرت کا سکہ چلے گا

عشقِ احمد کا مفہوم کیا ہے،
نزدیوں تم کو معلوم کیا ہے،
اعلیٰ حضرت کے پیکر میں دیکھو،
عشقِ احمد کا جلوہ ملے گا

دودھ مانگو گے ہم کھیر دیں گے،
ورنہ باغی کو ہم چیر دیں گے،
سنّیوں سے نہ لے کوئی پنگا،
ورنہ پنگا یہ مہنگا پڑے گا

غوث و خواجہ کی بے شک عطا ہے،
ہند میں ایک احمد رضا ہے،
اہلِ سنت کا جو مقتدا ہے،
وہ بریلی میں تم کو ملے گا

ہاتھ ملتے رہیں ملنے والے،
لاکھ جلتے رہیں جلنے والے،
غوث و خواجہ کے لطف و کرم سے،
اعلیٰ حضرت کا ڈنکا بجے گا

وہ رضا کے چمن کا ستارہ،
اہلِ سنت کے دل کا اُجالا،
اخترِ قادری سب کے دل پر،
راج کرتا ہے کرتا رہے گا

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ منقبت امام احمد رضا خان بریلوی (اعلیٰ حضرت) کی علمی جلالت، عشقِ رسول ﷺ اور ان کے مخالفین کے رد میں لکھی گئی ہے، جو مسلکِ حق کی ترجمانی کرتی ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

ان اشعار میں شاعر کہتا ہے کہ اعلیٰ حضرت کا گھرانہ علم کا وہ مرکز ہے جہاں سے تربیت پانے والا علم کی بلندیوں (ہمالیہ) کو چھو لیتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ آپ کا لکھا ہوا سلام "مصطفیٰ جانِ رحمت" رہتی دنیا تک عاشقوں کے دلوں کی دھڑکن بنا رہے گا اور آپ کا علمی سکہ ہمیشہ رائج رہے گا۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

لفظمعنی
بغض و کینہدشمنی اور دل میں میل رکھنا
ٹکسالوہ جگہ جہاں سکے بنتے ہیں (مجازی مراد: تربیت گاہ)
مفہوممطلب یا معنی
پیکرجسم یا صورت (Embodiement)
مقتداوہ جس کی پیروی کی جائے / پیشوا
ڈنکا بجناشہرت اور دھاک بیٹھنا

خلاصہ (Summary)

اس منقبت کا خلاصہ یہ ہے کہ اعلیٰ حضرت کی ذات عشقِ احمد ﷺ کا عملی نمونہ ہے اور ان کا علمی مرتبہ غوث و خواجہ کی عطا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ بریلی کا یہ دربار علم کا وہ کارخانہ ہے جس نے اہل سنت کو پہچان عطا کی، اور اخترِ قادری (تاج الشریعہ) جیسے ستاروں کے ذریعے یہ فیض ہمیشہ جاری و ساری رہے گا۔

شاعر نے اعلیٰ حضرت کے گھرانے کو کیا کہا ہے، جہاں سے ڈھل کر انسان 'علم کا ہمالیہ' بنتا ہے؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں: