मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 66 بار دیکھا گیا
,
عنوان: آئی لو یو آقا
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: اسد اقبال کلکتوی
نعت خوان/ فنکار: اسد اقبال کلکتوی
شامل کیا گیا: 19 Feb, 2023 01:40 PM IST
دیکھا گیا: 1.5K
Time to read: 2 min read
آئی لو یو آقا، آئی لو یو آقا
آئی لو یو آقا، آئی لو یو آقا
آئی لو یو آقا، آئی لو یو آقا
آقا کے عاشق کا ہے ایک نعرہ
آئی لو یو آقا، آئی لو یو آقا
پیارے رضا نے یہی ہے سکھایا
آئی لو یو آقا، آئی لو یو آقا
آئی لو یو آقا، آئی لو یو آقا
آئی لو یو آقا، آئی لو یو آقا
دنیا کے رشتوں نے جب منہ کو موڑا
جب بیچ مہِںدھار میں سب نے چھوڑا
اُس دم بلالی لبوں پہ یہ آیا
آئی لو یو آقا، آئی لو یو آقا
آئی لو یو آقا، آئی لو یو آقا
آئی لو یو آقا، آئی لو یو آقا
آقا نے چشمِ کرم جب اُٹھایا
فاروقی نفرت نے دم توڑ ڈالا
پھر تو عمرؓ کے لبوں سے یہ نکلا
آئی لو یو آقا، آئی لو یو آقا
آئی لو یو آقا، آئی لو یو آقا
آئی لو یو آقا، آئی لو یو آقا
آقا کے عاشق کا ہے ایک نعرہ
آئی لو یو آقا، آئی لو یو آقا
آقا کے عاشق کی، اے دنیا والو
خنجر سے چاہے زباں کاٹ ڈالو
دل کی زباں سے وہ کہتا رہے گا
آئی لو یو آقا، آئی لو یو آقا
آئی لو یو آقا، آئی لو یو آقا
آئی لو یو آقا، آئی لو یو آقا
آقا کے عاشق کا ہے ایک نعرہ
آئی لو یو آقا، آئی لو یو آقا
آفت، مصیبت نے جب بھی رلایا
دنیا نے جس وقت مجھ کو ستایا
اُس وقت دل نے تڑپ کر پکارا
آئی لو یو آقا، آئی لو یو آقا
آئی لو یو آقا، آئی لو یو آقا
آئی لو یو آقا، آئی لو یو آقا
آقا کے عاشق کا ہے ایک نعرہ
آئی لو یو آقا، آئی لو یو آقا
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلام ایک نئے اور اچھوتے انداز میں سرکارِ دو عالم ﷺ کی بارگاہ میں نذرانۂ عقیدت پیش کرتا ہے۔ اس میں انتہائی سادہ مگر پُر اثر الفاظ میں یہ بتایا گیا ہے کہ سچے امتی کی زندگی کا اصل مقصد اور نعرہ صرف اور صرف اپنے آقا ﷺ سے سچی محبت کا اظہار کرنا ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ "جب دنیا کے سارے خود غرض رشتے ناطے انسان کو مصیبت کے وقت اکیلا چھوڑ دیتے ہیں، تب ایک سچے عاشق کا دل صرف اپنے آقا ﷺ کو یاد کرتا ہے۔" شاعر کہتا ہے کہ آقا ﷺ کے غلاموں کو چاہے ظلم و ستم کی تلواروں سے ڈرایا جائے یا ان کی زبانیں کاٹ دی جائیں، ان کے دل کی دھڑکن اور روح سے ہمیشہ یہی ایک آواز نکلتی رہے گی کہ "یا رسول اللہ ﷺ! میں آپ سے بے پناہ محبت کرتا ہوں۔"
| الفاظ | معنی (Meanings) |
|---|---|
| آقا | مالک یا آستانہ دینے والا (مراد حضورِ اکرم ﷺ) |
| پیارے رضا | اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلویؒ |
| منجدھار (مہندھار) | طوفان یا ندی کے بیچ کا حصہ (مراد سخت مشکل وقت) |
| بلالی لب | حضرت بلال حبشیؓ کے مبارک ہونٹ (جو کوڑے کھا کر بھی 'احد احد' کہتے تھے) |
| چشمِ کرم | مہربانی اور لطف و کرم کی نظر |
| فاروقی نفرت | قبولِ اسلام سے پہلے حضرت عمر فاروقؓ کا جلال و غصہ |
| آفت / مصیبت | پریشانی، دکھ یا سخت آزمائش |
اس نعتِ پاک کا لبِ لباب یہ ہے کہ حضور ﷺ کی الفت ہی کائنات کا سب سے بڑا سرمایہ ہے اور یہی بات ہمیں اعلیٰ حضرت (پیارے رضا) نے سکھائی ہے۔ کلام میں تاریخی پس منظر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ جب آقا ﷺ نے اپنی رحمت کی نظر (چشمِ کرم) ڈالی، تو حضرت عمرؓ کا پرانا غصہ اور نفرت پل بھر میں مٹ گئی اور وہ عشقِ رسول ﷺ میں ڈوب گئے۔ زندگی کے ہر دکھ، آفت اور دنیاوی پریشانی کا واحد علاج صرف اور صرف بارگاہِ رسالت ﷺ میں تڑپ کر فریاد کرنا اور آپ ﷺ کی غلامی پر ناز کرنا ہے۔
لیرکس کے مطابق، نبی ﷺ کے چشمِ کرم (کرپا کی نظر) اٹھانے سے فاروقی نفرت پر کیا اثر پڑا؟