मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 58 بار دیکھا گیا
,
عنوان: ہم اپنے نبی پاک سے یوں پیار کریں گے
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: علامہ نثار علی اجاگر
نعت خوان/ فنکار: حافظ طاہر قادری
شامل کیا گیا: 19 Aug, 2023 10:03 AM IST
دیکھا گیا: 771
Time to read: 3 min read
مرحبا مرحبا مرحبا مصطفیٰ،
مرحبا مرحبا مرحبا مصطفیٰ
ہم اپنے نبی پاک سے یوں پیار کریں گے،
ہر حال میں سرکار کا میلاد کریں گے
جشنِ ولادت کی رونق پہ یارو،
مرتے ہیں سنی، مرتے رہیں گے،
اپنے نبی کی عظمت کا چرچا،
کرتے ہیں سنی، کرتے رہیں گے
کچھ جلنے والے دیکھ کے کہتے ہیں ہمیشہ،
سرکار کی آمد پہ لگاتے ہو کیوں پیسہ،
یہ پیسہ تو کیا چیز ہے، ہم گھر بھی لُٹا دیں،
کوئی نہیں جہاں میں سرکار کے جیسا
ہم اپنے نبی پاک سے یوں پیار کریں گے،
ہر حال میں سرکار کا میلاد کریں گے
میرے سرکار آئے، میرے دلدار آئے،
میرے سرکار آئے، میرے دلدار آئے
میرے نبی آ گئے، مرحبا یا مصطفیٰ،
پیارے نبی آ گئے، مرحبا یا مصطفیٰ،
لجپال نبی آ گئے، مرحبا یا مصطفیٰ،
غم خوار نبی آ گئے، مرحبا یا مصطفیٰ
صاحبِ معراج نبی،
عاصیوں کی لاج نبی،
نبیوں کے سرتاج نبی،
کل بھی تھے اور آج نبی،
دو جہاں کے راج والے میرے نبی آ گئے
ہر خارجی فسادی وطن سے بھگائیں گے،
پڑھ کے درود سب کو میلادی بنائیں گے،
لائیں گے ہم حضور کا اسلام تخت پر،
لادینیت کے سارے بُتوں کو گرائیں گے
ہم اپنے نبی پاک سے یوں پیار کریں گے،
ہر حال میں سرکار کا میلاد کریں گے
تکلیف ہوتی ہے تجھے مرچی بھی لگتی ہے،
جب بارھویں پہ لائٹوں سے گلیاں بھی سجتی ہیں،
کیوں چِڑھتا ہے تو دیکھ کے جھنڈوں کی بہاریں،
تعظیمِ نبی ہو تو سبھی اچھی لگتی ہیں
ہم اپنے نبی پاک سے یوں پیار کریں گے،
ہر حال میں سرکار کا میلاد کریں گے
لالچ نہ دو ہم نامِ محمد پہ مریں گے،
میلاد پہ سمجھوتا کیا ہے نہ کریں گے،
برداشت نہ کریں گے جلوسوں پہ رکاوٹ،
میلادِ محمد کا مشن جاری رکھیں گے
ہم اپنے نبی پاک سے یوں پیار کریں گے،
ہر حال میں سرکار کا میلاد کریں گے
تعلیم پہلے دوں گا محمد کے جشن کی،
تہذیب سکھاؤں گا محمد کے جشن کی،
وِرسے میں چھوڑ جاؤں گا میلاد کی لگن،
میرے بھی بچے جشنِ ولادت منائیں گے
ہم اپنے نبی پاک سے یوں پیار کریں گے،
ہر حال میں سرکار کا میلاد کریں گے
میرے نبی آ گئے، مرحبا یا مصطفیٰ،
پیارے نبی آ گئے، مرحبا یا مصطفیٰ،
لجپال نبی آ گئے، مرحبا یا مصطفیٰ،
غم خوار نبی آ گئے، مرحبا یا مصطفیٰ
ہم اپنی محبت کا یوں اعلان کریں گے،
ہم جشنِ محمد پہ فدا جان کریں گے،
میلاد کی ریلی و جلوسوں میں لے جا کر،
اولاد بھی سرکار پہ قربان کریں گے
ہم اپنے نبی پاک سے یوں پیار کریں گے،
ہر حال میں سرکار کا میلاد کریں گے
قیمت جہاں میں اپنی اُجاگر گِراؤ گے،
آقا کو چھوڑ کر کبھی عزت نہ پاؤ گے،
مضبوط کر لو رشتہ نبی سے تو جیو گے،
رشتہ نبی سے توڑو گے تو ٹوٹ جاؤ گے
ہم اپنے نبی پاک سے یوں پیار کریں گے،
ہر حال میں سرکار کا میلاد کریں گے
صاحبِ معراج نبی،
عاصیوں کی لاج نبی،
نبیوں کے سرتاج نبی،
کل بھی تھے اور آج نبی،
دو جہاں کے راج والے میرے نبی آ گئے
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلام حضور نبی کریم ﷺ سے والہانہ محبت اور جشنِ میلاد منانے کے پختہ عزم کا اظہار ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ایک مومن کے لیے آقا ﷺ کی عزت و ناموس پر سب کچھ قربان ہے اور ان کا ذکر کرنا ہی زندگی کی اصل رونق ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ حضور ﷺ کی آمد کی خوشی میں مال و دولت لٹانا کوئی بڑی بات نہیں کیونکہ ان جیسا کائنات میں کوئی دوسرا نہیں ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ ہم اپنی نسلوں کو بھی ورثے میں میلاد کی لگن دے کر جائیں گے تاکہ یہ مشن ہمیشہ جاری رہے۔
| لفظ | معنی (Hindi/English) |
|---|---|
| عظمت | بڑائی / Grandeur |
| لجپال | لاج رکھنے والا / Protector of Honor |
| عاصیوں | گنہگاروں / Sinners |
| غم خوار | دکھ بانٹنے والا / Sympathizer |
| تعظیم | عزت و احترام / Respect |
| وِرسے | وراثت / Inheritance |
نبی ﷺ کی محبت میں گلیاں سجانا اور میلاد منانا عاشقوں کا شیوہ ہے۔ شاعر 'اُجاگر' تنبیہ کرتے ہیں کہ جو شخص نبی ﷺ سے اپنا رشتہ توڑ لیتا ہے وہ دنیا و آخرت میں اپنی قیمت کھو دیتا ہے۔ لہٰذا، ہر حال میں میلاد کا جشن منانا اور اپنی اولاد کو بھی اسی راہ پر چلانا ہی سچی محبت کا تقاضا ہے۔
شاعر کے مطابق، عزت پانے کے لیے ہمارا رشتہ کس کے ساتھ مضبوط ہونا چاہیے، اور شاعر نے 'ورثے' میں کیا چھوڑنے کی بات کہی ہے؟