मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 ہفتہ پہلے fiber_manual_record 205 بار دیکھا گیا
,
عنوان: ہوگا ایک جلسہ حشر میں ایسا
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: حبیب اللہ فیضی
نعت خوان/ فنکار: حبیب اللہ فیضی
شامل کیا گیا: 19 Mar, 2023 12:59 PM IST
دیکھا گیا: 1.2K
Time to read: 1 min read
ہوگا ایک جلسہ حشر میں ایسا
جس میں سرکار کی عظمت پہ خطابت ہوگی
صدرِ محشر ہمارا رب ہوگا
حضرتِ بُلبُلِ سدرہ کی نقابت ہوگی
ہوگا سر مصطفیٰ کا سجدے میں
جب پریشانی کے عالم میں یہ اُمت ہوگی
رب کہے گا: یہ میرا وعدہ ہے
اس کو بخشوں گا، تیری جس میں محبت ہوگی
ہوگا ایک جلسہ حشر میں ایسا
جس میں سرکار کی عظمت پہ خطابت ہوگی
میں پڑھوں گا ہدایتِ بخشی
جلسۂ حشر میں اگر مجھ کو اجازت ہوگی
سُن کے نعرہ لگائیں گے سُنّی
اور وہابی کے لیے دوہری قیامت ہوگی
یہ وصیت ہے ایک مجدد کی
قد کی مقدار میں گہری میری تربت ہوگی
اُٹھ سکوں میں پائے ادب فوراً
جس گھڑی قبر میں آقا کی زیارت ہوگی
اعلیٰ حضرت بلائے جائیں گے
جب وہاں ہند کے حسن کی حاجت ہوگی
تو ہے ایک رضوی نعت خواں "فائضی"
اس لیے تیری بھی اُس جلسے میں دعوت ہوگی
ہوگا ایک جلسہ حشر میں ایسا
جس میں سرکار کی عظمت پہ خطابت ہوگی
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ عشقِ رسول ﷺ اور جذبۂ شفاعت سے لبریز ایک انتہائی پُرجوش اور عقیدت مندانہ منقبت ہے، جو اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی کے افکار اور مسلکِ اہلسنت کے رنگ میں ڈوبی ہوئی ہے۔ اس کلام میں قیامت کے دن حضور ﷺ کی مرکزی شان، ان کی امت کے لیے گریہ وزاری اور ان کے وفاداروں کی کامیابی کا نقشہ ایک عظیم الشان "جلسے" کی صورت میں کھینچا گیا ہے۔
ان پُرشکوہ اشعار کا مطلب ہے کہ "میدانِ محشر میں ایک ایسا عدیم المثال جلسہ منعقد ہوگا جس کا صدر خود ربِ کائنات ہوگا اور حضرت جبرائیلؑ (بلبلِ سدرہ) اس کی نظامت کریں گے، جہاں حضور ﷺ کی عظمت بیان کی جائے گی۔" جب گناہوں کے بوجھ اور خوف سے امت پریشان حال ہوگی، تب ہمارے پیارے آقا ﷺ خدا کے حضور سجدہ ریز ہو کر امت کی مغفرت مانگیں گے اور اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ "اے محبوب! جس کے دل میں بھی آپ کی سچی محبت ہوگی، میں اسے بلا حساب بخش دوں گا۔"
| الفاظ | معنی (Meanings) |
|---|---|
| حشر / محشر | قیامت کا دن / وہ میدان جہاں سب جمع ہوں گے |
| عظمت / خطابت | شان و شوکت / تقریر یا بیان کرنا |
| بُلبُلِ سدرہ | سدرۃ المنتہیٰ کا پرندہ (مراد حضرت جبرائیل علیہ السلام) |
| نقابت | اسٹیج سیکریٹری کے فرائض / محفل کی نظامت |
| تربت / پائے ادب | قبر یا مزار / احترام و ادب کے ساتھ کھڑے ہونا |
| ہند کے حسن | ہندوستان کے حضرت حسان بن ثابتؓ (مراد اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان) |
| زیارت / حاجت | دیدار کرنا / ضرورت یا طلب ہونا |
اس کلامِ بلاغت نظام کا لبِ لباب یہ ہے کہ قیامت کے دن کامیابی کا واحد معیار صرف اور صرف رسولِ اکرم ﷺ کی سچی محبت اور ان کی غلامی ہے۔ شاعر ایک عظیم مجدد (اعلیٰ حضرت) کی اس منفرد وصیت کا ذکر کرتا ہے کہ ان کی قبر کو ان کے قد کے برابر گہرا بنایا جائے تاکہ جب قبر میں آقا ﷺ کی جلوہ گری (زیارت) ہو، تو وہ کامل تعظیم اور ادب کے ساتھ فوراً اٹھ کر کھڑے ہو سکیں۔ مقطع میں نعت خواں 'فائضی' کو یہ مژدہ سنایا گیا ہے کہ نعتِ رسول ﷺ پڑھنے اور ان کے سچے غلاموں سے نسبت رکھنے کے صدقے اس الٰہی محفل میں تمہاری حاضری بھی یقینی ہوگی۔
لیرکس کے مطابق، حشر کے جلسے میں نبی ﷺ کس حال میں ہوں گے جب امت پریشانی میں ہوگی، اور اللہ کس کو بخشنے (معاف کرنے) کا وعدہ کرے گا؟