मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 2 دن پہلے fiber_manual_record 114 بار دیکھا گیا
,
عنوان: حَسْبِی رَبِّی جَلَّ اللّٰہُ مَا فِی قَلْبِی غَیْرُ اللّٰہ
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم
نعت خوان/ فنکار: دانش داور (دانش ایف دار اور داور فاروق) وجاہت واسطی
شامل کیا گیا: 09 Apr, 2023 10:32 AM IST
دیکھا گیا: 751
Time to read: 3 min read
حَسْبِی رَبِّی جَلَّ اللّٰہُ مَا فِی قَلْبِی غَیْرُ اللّٰہ
نُورُ الْمُحَمَّدِ صَلَّ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہ
تیرے صدقے میں آقا سارے جہاں کو دین ملا
بے دینوں نے کلمہ پڑھا، لا الہ الا اللہ
حَسْبِی رَبِّی جَلَّ اللّٰہُ مَا فِی قَلْبِی غَیْرُ اللّٰہ
نُورُ الْمُحَمَّدِ صَلَّ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہ
سمتِ نبی ابو جہل گیا آقا سے اُس نے یہ کہا
اگر ہو نبی بتلاؤ ذرا، میری مُٹھی میں ہے کیا؟
آقا کا فرمان ہوا اور فضلِ رحمان ہوا
مُٹھی سے پتھر بولا، لا الہ الا اللہ
حَسْبِی رَبِّی جَلَّ اللّٰہُ مَا فِی قَلْبِی غَیْرُ اللّٰہ
نُورُ الْمُحَمَّدِ صَلَّ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہ
وہ جو بلالِ حبشی ہے، سرورِ دین کا پیارا ہے
دنیا کے ہر عاشق کی آنکھوں کا وہ تارا ہے
ظلم ہوئے کتنے اُس پر سینے پر رکھا پتھر
لب پر پھر بھی جاری تھا، لا الہ الا اللہ
حَسْبِی رَبِّی جَلَّ اللّٰہُ مَا فِی قَلْبِی غَیْرُ اللّٰہ
نُورُ الْمُحَمَّدِ صَلَّ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہ
اپنی بہن سے بولے عمر (رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ) یہ تو بتا کیا کرتی تھی؟
میرے آنے سے پہلے کیا چپکے چپکے پڑھتی تھی؟
بہن نے جب قرآن پڑھا، سن کے کلامِ پاک خدا
دل یہ عمر (ر.ع) کا بول اٹھا، لا الہ الا اللہ
حَسْبِی رَبِّی جَلَّ اللّٰہُ مَا فِی قَلْبِی غَیْرُ اللّٰہ
نُورُ الْمُحَمَّدِ صَلَّ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہ
دنیا کے انسان سبھی شرک و بدعت کرتے تھے
رب کے تھے بندے پھر بھی بوت کی عبادت کرتے تھے
بوت خانہ ہیں تھررائے میرے نبی ہیں جب آئے
کہنے لگی مخلوقِ خدا، لا الہ الا اللہ
حَسْبِی رَبِّی جَلَّ اللّٰہُ مَا فِی قَلْبِی غَیْرُ اللّٰہ
نُورُ الْمُحَمَّدِ صَلَّ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہ
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلام اللہ تعالیٰ کی وحدانیت (توحید)، حضور اکرم ﷺ کے نورِ ہدایت اور اسلام کی حقانیت کا نہایت خوبصورت بیان ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ سچا معبود صرف اللہ ہے اور اس کے پیارے رسول ﷺ کے صدقے ہی دنیا سے کفر و شرک کا اندھیرا مٹا اور کائنات کو دینِ حق کی روشنی نصیب ہوئی۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ میرے لیے میرا رب ہی کافی ہے اور میرے دل میں اس کے سوا کوئی دوسرا معبود نہیں۔ حضور ﷺ کی آمد سے قبل دنیا بت پرستی اور گمراہی میں ڈوبی تھی، لیکن آپ ﷺ کے تشریف لانے سے بت خانے کانپ اٹھے، ابو جہل کی مٹھی کے پتھروں نے کلمہ پڑھا، حضرت بلالؓ نے سخت ترین مظالم سہ کر بھی توحید کا دامن نہ چھوڑا اور قرآنِ پاک کی تلاوت نے حضرت عمر فاروقؓ کے دل کی کایا پلٹ دی۔
| الفاظ | معنی (Meanings) |
|---|---|
| حسبی ربی | میرے لیے میرا رب ہی کافی ہے |
| جلّ اللہ | اللہ کی شان بہت بلند ہے |
| ما فی قلبی | میرے دل میں نہیں ہے |
| غیر اللہ | اللہ کے سوا کوئی اور |
| سمتِ نبی | نبی اکرم ﷺ کی طرف / آپ کی سمت میں |
| سرورِ دین | دین کے سردار (مراد حضور ﷺ) |
| تھرائے | کانپ اٹھے / لرز گئے |
| مخلوقِ خدا | اللہ کی پیدا کی ہوئی خلق (انسان و کائنات) |
اس حمد و نعت میں تاریخِ اسلام کے ایمان افروز واقعات کے ذریعے پیغامِ توحید کو عام کیا گیا ہے۔ جب پوری دنیا جہالت کے اندھیرے میں بھٹک رہی تھی، تب نبی کریم ﷺ کے نورِ پاک نے حق اور باطل کا فرق واضح کیا۔ حضرت بلال حبشیؓ کا صبر اور حضرت عمرؓ کا قبولِ اسلام اس بات کی دلیل ہے کہ سچا ایمان ہر دور کے ظلم اور کفر پر ہمیشہ غالب رہتا ہے۔
ابو جہل کے سوال پر حضور ﷺ کے کس معجزے سے پتھروں نے کلمہ پڑھا، اور حضرت بلال (رض) نے کس حال میں 'لا الہ الا اللہ' کہا؟