, ہر نظر کانپ اُٹھے گی محشر کے دن خوف سے ہر کلیجہ دہل جائے گا - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

ہر نظر کانپ اُٹھے گی محشر کے دن خوف سے ہر کلیجہ دہل جائے گا Lyrics In اردو

(ہر نظر کانپ اُٹھے گی محشر کے دن خوف سے ہر کلیجہ دہل جائے گا, جب اشارہ کریں گے میرے مصطفیٰ اپنا بیڑا بھنور سے نکل جائے گا)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: ہر نظر کانپ اُٹھے گی محشر کے دن خوف سے ہر کلیجہ دہل جائے گا

زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)

مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم

نعت خوان/ فنکار: اویس رضا قادری

شامل کیا گیا: 05 Aug, 2023 09:48 AM IST

دیکھا گیا: 724

Time to read: 2 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

ہر نظر کانپ اُٹھے گی محشر کے دن،
خوف سے ہر کلیجہ دہل جائے گا۔

جب اشارہ کریں گے میرے مصطفیٰ،
اپنا بیڑا بھنور سے نکل جائے گا۔

پر یہ ناز اُن کے بندے کا دیکھیں گے سب،
تھام کر اُن کا دامن مچل جائے گا۔

یوں تو جیتا ہوں حکمِ خدا سے مگر،
میرے دل کی ہے اُن کو یقیناً خبر۔

حاصلِ زندگی ہوگا وہ دن میرا،
اُن کے قدموں میں جب دم نکل جائے گا۔

جب اشارہ کریں گے میرے مصطفیٰ،
اپنا بیڑا بھنور سے نکل جائے گا۔

موج ٹکرا کے ہم سے گزر جائے گی،
رُخ مخالف ہوا کا بدل جائے گا۔

حاصلِ زندگی ہوگا وہ دن مرا،
اُن کے قدموں میں جب دم نکل جائے گا۔

جب اشارہ کریں گے میرے مصطفیٰ،
اپنا بیڑا بھنور سے نکل جائے گا۔

رَبِّ سَلِّم وہ فرمانے والے ملے،
کیوں ستاتے ہیں اے دل تجھے وسوسے۔

پُل سے گزریں گے ہم وجد کرتے ہوئے،
کون کہتا ہے پاؤں فِسل جائے گا۔

جب اشارہ کریں گے میرے مصطفیٰ،
اپنا بیڑا بھنور سے نکل جائے گا۔

اخترِ خستہ کیوں اتنا بے چین ہے،
تیرا آقا شَہنشاہِ کونَین ہے۔

لؤ لگا تو سہی شاہِ لَولاک سے،
غم مسرّت کے سانچے میں ڈھل جائے گا۔

جب اشارہ کریں گے میرے مصطفیٰ،
اپنا بیڑا بھنور سے نکل جائے گا۔

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ خوبصورت نعتِ پاک قیامت (محشر) کے دن کی ہولناکیوں اور اس کٹھن وقت میں حضور رحمتِ عالم ﷺ کی شفاعت اور ان کی بے پناہ رحمت پر کامل بھروسے کو بیان کرتی ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

ان اشعار کا مطلب ہے کہ محشر کے دن جب ہر آنکھ خوف سے کانپ رہی ہوگی، تب اگر میرے مصطفیٰ ﷺ نے ایک اشارہ فرما دیا تو ہماری گناہوں میں ڈوبی کشتی (بیڑا) مصائب کے بھنور سے پار ہو جائے گی۔ شاعر کہتا ہے کہ آپ ﷺ کے 'ربِّ سلِّم' (اے رب… انہیں سلامت رکھ) کے مژدے کی بدولت ہم پل صراط سے بھی وجد کرتے ہوئے گزر جائیں گے اور ہمارا پاؤں کبھی نہیں پھسلے گا۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

لفظ (Word)معنی (Meaning)
محشرقیامت کا دن / روزِ جزا
بیڑاکشتی / ناؤ
بھنورپانی کا چکر (یہاں مراد کٹھن حالات یا مصیبت ہے)
حاصلِ زندگیزندگی کی سب سے بڑی کامیابی یا کمائی
وسوسےدل کا وہم یا شک
وجدروحی مستی / حال آنا یا جھومنا
اخترِ خستہپریشان حال یا دکھی اختر (شاعر کا نام)
شاہِ لَولاککائنات کے مالک و مختار (حضور ﷺ کا لقب)
مسرّتخوشی / شادمانی

خلاصہ (Summary)

اس کلام کا بنیادی مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ ایک سچے امتی کو محشر کے دن کی سختیوں سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہمارے حامی و ناصر خود حضور ﷺ ہیں۔ شاعر 'اختر' خود کو تسلی دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر ہم سچے دل سے شاہِ لولاک ﷺ سے لو لگا لیں، تو ہمارے تمام غم خوشیوں میں بدل جائیں گے؛ اور ہماری زندگی کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہوگی کہ ہمیں آپ ﷺ کے قدموں میں موت نصیب ہو۔

لیرکس کے مطابق شاعر 'اختر' نے نبی کے قدموں میں دم نکلنے (موت آنے) کو کیا بتایا ہے؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں: