मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 مہینہ پہلے fiber_manual_record 417 بار دیکھا گیا
,
عنوان: ہر نظر کانپ اُٹھے گی محشر کے دن خوف سے ہر کلیجہ دہل جائے گا
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم
نعت خوان/ فنکار: اویس رضا قادری
شامل کیا گیا: 05 Aug, 2023 09:48 AM IST
دیکھا گیا: 724
Time to read: 2 min read
ہر نظر کانپ اُٹھے گی محشر کے دن،
خوف سے ہر کلیجہ دہل جائے گا۔
جب اشارہ کریں گے میرے مصطفیٰ،
اپنا بیڑا بھنور سے نکل جائے گا۔
پر یہ ناز اُن کے بندے کا دیکھیں گے سب،
تھام کر اُن کا دامن مچل جائے گا۔
یوں تو جیتا ہوں حکمِ خدا سے مگر،
میرے دل کی ہے اُن کو یقیناً خبر۔
حاصلِ زندگی ہوگا وہ دن میرا،
اُن کے قدموں میں جب دم نکل جائے گا۔
جب اشارہ کریں گے میرے مصطفیٰ،
اپنا بیڑا بھنور سے نکل جائے گا۔
موج ٹکرا کے ہم سے گزر جائے گی،
رُخ مخالف ہوا کا بدل جائے گا۔
حاصلِ زندگی ہوگا وہ دن مرا،
اُن کے قدموں میں جب دم نکل جائے گا۔
جب اشارہ کریں گے میرے مصطفیٰ،
اپنا بیڑا بھنور سے نکل جائے گا۔
رَبِّ سَلِّم وہ فرمانے والے ملے،
کیوں ستاتے ہیں اے دل تجھے وسوسے۔
پُل سے گزریں گے ہم وجد کرتے ہوئے،
کون کہتا ہے پاؤں فِسل جائے گا۔
جب اشارہ کریں گے میرے مصطفیٰ،
اپنا بیڑا بھنور سے نکل جائے گا۔
اخترِ خستہ کیوں اتنا بے چین ہے،
تیرا آقا شَہنشاہِ کونَین ہے۔
لؤ لگا تو سہی شاہِ لَولاک سے،
غم مسرّت کے سانچے میں ڈھل جائے گا۔
جب اشارہ کریں گے میرے مصطفیٰ،
اپنا بیڑا بھنور سے نکل جائے گا۔
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ خوبصورت نعتِ پاک قیامت (محشر) کے دن کی ہولناکیوں اور اس کٹھن وقت میں حضور رحمتِ عالم ﷺ کی شفاعت اور ان کی بے پناہ رحمت پر کامل بھروسے کو بیان کرتی ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ محشر کے دن جب ہر آنکھ خوف سے کانپ رہی ہوگی، تب اگر میرے مصطفیٰ ﷺ نے ایک اشارہ فرما دیا تو ہماری گناہوں میں ڈوبی کشتی (بیڑا) مصائب کے بھنور سے پار ہو جائے گی۔ شاعر کہتا ہے کہ آپ ﷺ کے 'ربِّ سلِّم' (اے رب… انہیں سلامت رکھ) کے مژدے کی بدولت ہم پل صراط سے بھی وجد کرتے ہوئے گزر جائیں گے اور ہمارا پاؤں کبھی نہیں پھسلے گا۔
| لفظ (Word) | معنی (Meaning) |
|---|---|
| محشر | قیامت کا دن / روزِ جزا |
| بیڑا | کشتی / ناؤ |
| بھنور | پانی کا چکر (یہاں مراد کٹھن حالات یا مصیبت ہے) |
| حاصلِ زندگی | زندگی کی سب سے بڑی کامیابی یا کمائی |
| وسوسے | دل کا وہم یا شک |
| وجد | روحی مستی / حال آنا یا جھومنا |
| اخترِ خستہ | پریشان حال یا دکھی اختر (شاعر کا نام) |
| شاہِ لَولاک | کائنات کے مالک و مختار (حضور ﷺ کا لقب) |
| مسرّت | خوشی / شادمانی |
اس کلام کا بنیادی مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ ایک سچے امتی کو محشر کے دن کی سختیوں سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہمارے حامی و ناصر خود حضور ﷺ ہیں۔ شاعر 'اختر' خود کو تسلی دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر ہم سچے دل سے شاہِ لولاک ﷺ سے لو لگا لیں، تو ہمارے تمام غم خوشیوں میں بدل جائیں گے؛ اور ہماری زندگی کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہوگی کہ ہمیں آپ ﷺ کے قدموں میں موت نصیب ہو۔
لیرکس کے مطابق شاعر 'اختر' نے نبی کے قدموں میں دم نکلنے (موت آنے) کو کیا بتایا ہے؟