मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 58 بار دیکھا گیا
,
عنوان: ہر دیس میں گنجے گا اب یا رسول اللہ
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: علامہ نثار علی اجاگر
نعت خوان/ فنکار: حافظ طاہر قادری
شامل کیا گیا: 05 May, 2022 03:08 PM IST
دیکھا گیا: 2.3K
Time to read: 1 min read
ہم سر پہ کفن باندھے میدان میں نکلے ہیں
باطل کے محلوں کو ہم ڈھانے نکلے ہیں
ہمّت ہے ہمیں ٹوکو دم ہے تو ہمیں روکو
ہم نعرے رسالت کو پہلانے نکلے ہیں
ہر دیس میں گنجے گا اب یا رسول اللہ
ہرشخص پکارے گا اب یا رسول اللہ
ہم ساری دنیا میں ہلچل سی مچادینگے
سرکار کے عاشق ہے رنگ اپنا جمادیں گے
میلاد نبی کرنا یہ خون میں شامل ہے
اس مشن کی خاطر ہم دن رات لگا دینگے
سرکار کی نعتوں سے پور جوش ہے دیوانے
میلاد کی محفل میں ماحول بنادینگے
کیوں کرنا منائیں ہم یہ سنی شخافت ہے
میلاد منانے پر سرکار جگا دینگے
سودا نہ کرینگے ہم ایمان نہ بیچینگے
ناموس رسالت پر دنیا کو ہلادیں گے
ہر نسل کا نارا ہے ہر قوم کا نارا ہے
اس نعرے سے لوگوں کو آپس میں ملادیں گے
اسلام جو مذہب ہے پیغام محبت ہے
اس امن کے پرچم کو ہر گھر میں جگا دینگے
سرکار کی عزت پر مرنا ہے ہمیں لوگوں
یہ وعدہ ہمارا ہے سب کچھ ہی لٹا دینگے
ہم نے یہی ٹھانی ہے منت یہی مانی ہے
اس دیش کی مٹی پر خون اپنا بہادیں گے
ہے آل نبی پیار اشہاب ستاراں ہیں
دونو کی محبت کو ہم دل میں بسادیں گے
آئے ہیں اجاگر سنگ امجد و طاہر بھی
پیغام نبی دینگے احکام خدا دینگے
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ ایک انتہائی پُرجوش، ولولہ انگیز اور عزمِ مصمم سے لبریز نعت (یا منقبت) ہے، جس میں عشقِ رسول ﷺ، ناموسِ رسالت کی حفاظت اور میلادِ مصطفیٰ ﷺ منانے کے ثقافتی و مذہبی تشخص کو بڑے جرات مندانہ انداز میں بیاں کیا گیا ہے۔
ان اشعار کا مفہوم ہے کہ حضور ﷺ کے شیدائی اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر (سر پہ کفن باندھے) کفر و باطل کے جھوٹے محلوں کو مٹانے کے لیے میدان میں نکل پڑے ہیں۔ ان کا واحد مقصد دنیا کے کونے کونے میں پوری ہمت کے ساتھ 'نعرۂ رسالت' بلند کرنا اور 'یا رسول اللہ' کی گونج پھیلانا ہے، جسے دنیا کی کوئی طاقت روک نہیں سکتی۔
| لفظ | معنی (Urdu) |
|---|---|
| باطل | جھوٹ / ناحق یا کفر |
| شخافت (ثقافت) | تہذیب و تمدن / سنسکرتی |
| ناموسِ رسالت | رسول ﷺ کی عزت اور حرمت |
| اشہاب (اصحاب) | حضور ﷺ کے ساتھی / صحابہ کرامؓ |
| احکام | حکم کی جمع / الٰہی فرامین |
اس کلام میں یہ عہد کیا گیا ہے کہ حضور ﷺ کا میلاد منانا مسلمانوں کے خون میں شامل ہے اور اس مشن کے لیے وہ دن رات ایک کر دیں گے۔ شاعر واضح کرتا ہے کہ اسلام سراپا امن و محبت کا مذہب ہے، اور وہ اس امن کے پرچم کو ہر گھر میں لہرانا چاہتے ہیں۔ کلام کے آخری حصے میں 'آلِ نبی اور اصحابِ نبی' (اہلِ بیت اور صحابہ کرامؓ) دونوں سے یکساں محبت کو ایمان کا حصہ بتاتے ہوئے دنیا تک احکامِ خداوندی پہنچانے کا عزم دہرایا گیا ہے۔
نعت کے مطابق، شاعر نے اسلام مذہب کو کس چیز کا پیغام بتایا ہے اور وہ ہر گھر میں کون سا پرچم (جھنڈا) لہرانے کی بات کر رہا ہے؟