, حاجیو آؤ شہنشاہ کا روزہ دیکھو - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

حاجیو آؤ شہنشاہ کا روزہ دیکھو Lyrics In اردو

(حاجیو آؤ شہنشاہ کا روزہ دیکھو, کعبہ تو دیکھ چکے کعبے کا کعبہ دیکھو)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: حاجیو آؤ شہنشاہ کا روزہ دیکھو

زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)

شامل کیا گیا: 07 Jan, 2023 01:16 PM IST

دیکھا گیا: 370

Time to read: 1 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

حاجیو آؤ شہنشاہ کا روزہ دیکھو
کعبہ تو دیکھ چکے، کعبے کا کعبہ دیکھو

آبِ زم زم تو پیا، خوب بجھائی پیاسے
آؤ جُلوہ شہِ کوثر کا بھی جلوہ دیکھو

حاجیو آؤ شہنشاہ کا روزہ دیکھو
کعبہ تو دیکھ چکے، کعبے کا کعبہ دیکھو

خوب آنکھوں سے لگایا غلافِ کعبہ
قصرِ محبوب کے پردے کا بھی جلوہ دیکھو

زینتِ کعبہ میں تھا لاکھ عروسوں کا بناو
جلوہ فرما یہاں کونین کا دُولہا دیکھو

زیرِ میزان ملے خوب کرم کے چھینٹے
ابرِ رحمت کا یہاں زور برسنا دیکھو

غور سے سُن تو رضا، کعبہ سے آتی ہے صدا
میری آنکھوں سے میرے پیارے کا روزہ دیکھو

حاجیو آؤ شہنشاہ کا روزہ دیکھو
کعبہ تو دیکھ چکے، کعبے کا کعبہ دیکھو

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ مشہورِ زمانہ نعتِ پاک اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی کی لکھی ہوئی ہے، جس میں انہوں نے حج کرنے والوں سے مخاطب ہو کر کعبہ شریف کی زیارت کے بعد روضۂ رسول ﷺ کی حاضری کی اہمیت اور ان کی بلند شان کا بیان کیا ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

اس کلام کا مطلب ہے کہ اے حاجیو! تم نے اللہ کا گھر (کعبہ) تو دیکھ لیا، اب اس مقدس ہستی کا دربار (روضۂ رسول ﷺ) بھی دیکھو جو خود کعبے کا بھی کعبہ ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ اگر کعبہ لاکھوں دلہنوں کی طرح سجا ہوا ہے، تو مدینہ وہ پاک جگہ ہے جہاں دونوں جہان کے دولہا (حضور ﷺ) تشریف فرما ہیں۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

الفاظ (Word)معانی (Meaning)
شہنشاہبادشاہوں کا بادشاہ / حضور ﷺ
روضہمزارِ مبارک (Tomb/Shrine)
شہِ کوثرحوضِ کوثر کے مالک (حضور ﷺ)
قصرِ محبوبمحبوب کا محل / حضور ﷺ کا آستانہ
عروسوںدلہنیں (Brides)
کونین کا دُولہادونوں جہان کے دولہا (حضور ﷺ)
زیرِ مِیزابکعبہ کے پرنالے (رحمت کی دھار) کے نیچے
ابرِ رحمترحمت کا بادل
صداآواز (Voice)

خلاصہ (Summary)

شاعر 'رضا' فرماتے ہیں کہ حج کا سفر تب تک مکمل نہیں ہوتا جب تک مدینے جا کر روضۂ انور کا دیدار نہ کیا جائے۔ خود کعبہ بھی حاجیوں سے پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ میری رونق اور عظمت بھی حضور ﷺ کے نور سے ہے، اس لیے میری آنکھوں سے ان کے حسین روضے کا جلوہ دیکھو جہاں اللہ کی رحمت ہر وقت برستی رہتی ہے۔

شاعر کے مطابق کعبے سے کیا آواز (صدا) آ رہی ہے، اور انہوں نے "کونین کا دولہا" کس کے لیے استعمال کیا ہے؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں: