मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 65 بار دیکھا گیا
,
عنوان: حاجیو آؤ شہنشاہ کا روزہ دیکھو
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: کلام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا
نعت خوان/ فنکار: سجّاد نظامی (مرہوم)
شامل کیا گیا: 07 Jan, 2023 01:16 PM IST
دیکھا گیا: 370
Time to read: 1 min read
حاجیو آؤ شہنشاہ کا روزہ دیکھو
کعبہ تو دیکھ چکے، کعبے کا کعبہ دیکھو
آبِ زم زم تو پیا، خوب بجھائی پیاسے
آؤ جُلوہ شہِ کوثر کا بھی جلوہ دیکھو
حاجیو آؤ شہنشاہ کا روزہ دیکھو
کعبہ تو دیکھ چکے، کعبے کا کعبہ دیکھو
خوب آنکھوں سے لگایا غلافِ کعبہ
قصرِ محبوب کے پردے کا بھی جلوہ دیکھو
زینتِ کعبہ میں تھا لاکھ عروسوں کا بناو
جلوہ فرما یہاں کونین کا دُولہا دیکھو
زیرِ میزان ملے خوب کرم کے چھینٹے
ابرِ رحمت کا یہاں زور برسنا دیکھو
غور سے سُن تو رضا، کعبہ سے آتی ہے صدا
میری آنکھوں سے میرے پیارے کا روزہ دیکھو
حاجیو آؤ شہنشاہ کا روزہ دیکھو
کعبہ تو دیکھ چکے، کعبے کا کعبہ دیکھو
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ مشہورِ زمانہ نعتِ پاک اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی کی لکھی ہوئی ہے، جس میں انہوں نے حج کرنے والوں سے مخاطب ہو کر کعبہ شریف کی زیارت کے بعد روضۂ رسول ﷺ کی حاضری کی اہمیت اور ان کی بلند شان کا بیان کیا ہے۔
اس کلام کا مطلب ہے کہ اے حاجیو! تم نے اللہ کا گھر (کعبہ) تو دیکھ لیا، اب اس مقدس ہستی کا دربار (روضۂ رسول ﷺ) بھی دیکھو جو خود کعبے کا بھی کعبہ ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ اگر کعبہ لاکھوں دلہنوں کی طرح سجا ہوا ہے، تو مدینہ وہ پاک جگہ ہے جہاں دونوں جہان کے دولہا (حضور ﷺ) تشریف فرما ہیں۔
| الفاظ (Word) | معانی (Meaning) |
|---|---|
| شہنشاہ | بادشاہوں کا بادشاہ / حضور ﷺ |
| روضہ | مزارِ مبارک (Tomb/Shrine) |
| شہِ کوثر | حوضِ کوثر کے مالک (حضور ﷺ) |
| قصرِ محبوب | محبوب کا محل / حضور ﷺ کا آستانہ |
| عروسوں | دلہنیں (Brides) |
| کونین کا دُولہا | دونوں جہان کے دولہا (حضور ﷺ) |
| زیرِ مِیزاب | کعبہ کے پرنالے (رحمت کی دھار) کے نیچے |
| ابرِ رحمت | رحمت کا بادل |
| صدا | آواز (Voice) |
شاعر 'رضا' فرماتے ہیں کہ حج کا سفر تب تک مکمل نہیں ہوتا جب تک مدینے جا کر روضۂ انور کا دیدار نہ کیا جائے۔ خود کعبہ بھی حاجیوں سے پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ میری رونق اور عظمت بھی حضور ﷺ کے نور سے ہے، اس لیے میری آنکھوں سے ان کے حسین روضے کا جلوہ دیکھو جہاں اللہ کی رحمت ہر وقت برستی رہتی ہے۔
شاعر کے مطابق کعبے سے کیا آواز (صدا) آ رہی ہے، اور انہوں نے "کونین کا دولہا" کس کے لیے استعمال کیا ہے؟