मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 2 دن پہلے fiber_manual_record 111 بار دیکھا گیا
,
عنوان: حالِ دل کس کو سنائیں آپ کے ہوتے ہوئے
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: سعید الطاف شاہ کاظمی
نعت خوان/ فنکار: مختلف/نامعلوم
شامل کیا گیا: 18 Apr, 2023 09:42 PM IST
دیکھا گیا: 1.7K
Time to read: 2 min read
حالِ دل کس کو سنائیں، آپ کے ہوتے ہوئے،
کیوں کسی کے در پہ جائیں، آپ کے ہوتے ہوئے؟
حالِ دل کس کو سنائیں، آپ کے ہوتے ہوئے۔
میں غلامِ مصطفیٰ ہوں، یہ میری پہچان ہے،
غم مجھے کیوں کر ستائیں، آپ کے ہوتے ہوئے؟
حالِ دل کس کو سنائیں، آپ کے ہوتے ہوئے۔
اپنا جینا، اپنا مرنا اب اسی چوکھٹ پہ ہے،
ہم کہاں، سرکار! جائیں، آپ کے ہوتے ہوئے؟
حالِ دل کس کو سنائیں، آپ کے ہوتے ہوئے۔
کہہ رہا ہے آپ کا رب، "أَنتَ فِيهِمْ" آپ سے،
کیوں انہیں میں دوں سزائیں، آپ کے ہوتے ہوئے؟
حالِ دل کس کو سنائیں، آپ کے ہوتے ہوئے۔
سامنے ہے، اے علی کے لال! اُسوہ آپ کا،
کیوں کسی کا خوف کھائیں، آپ کے ہوتے ہوئے؟
حالِ دل کس کو سنائیں، آپ کے ہوتے ہوئے۔
میں یہ کیسے مان جاؤں! شام کے دربار میں،
چین لے کوئی ردائیں، آپ کے ہوتے ہوئے؟
حالِ دل کس کو سنائیں، آپ کے ہوتے ہوئے۔
یہ تو ہو سکتا نہیں! یہ بات ممکن ہی نہیں!
میرے گھر آلام آئیں، آپ کے ہوتے ہوئے؟
حالِ دل کس کو سنائیں، آپ کے ہوتے ہوئے۔
کون ہے، الطاف! اپنا حالِ دل جس سے کہیں،
زخمِ دل کس کو دکھائیں، آپ کے ہوتے ہوئے؟
حالِ دل کس کو سنائیں، آپ کے ہوتے ہوئے۔
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ بارگاہِ رسالت مآب ﷺ اور اَہلِ بیتِ اطہارؑ میں کامل یقین، والہانہ محبت اور غیر متزلزل عقیدت پر مبنی ایک نہایت ہی مقتدر اور دل گداز صوفیانہ کلام ہے۔
ان اشعار کا مطلب یہ ہے کہ جب ہمارے پاس حضور نبی کریم ﷺ اور ان کے پاک گھرانے کا عظیم و شفیق سہارا موجود ہے، تو ہمیں اپنے دل کا احوال کسی دوسرے کے سامنے بیان کرنے یا کسی غیر کے در پر جانے کی قطعی ضرورت نہیں۔ شاعر فخر سے کہتا ہے کہ 'غلامِ مصطفیٰ ﷺ' ہونا ہی اس کی کائنات میں سب سے بڑی پہچان ہے، اس لیے دنیا کا کوئی بھی رنج و ملال اسے پریشان نہیں کر سکتا۔
| لفظ (Word) | معنی (Meaning) |
|---|---|
| حالِ دل | دل کی حالت یا کیفیت |
| کیوں کر | بھلا کیسے یا کس طرح |
| أَنتَ فِيهِمْ | قرآن کی آیت کا حصہ (ترجمہ: "آپ ان میں موجود ہیں") |
| اُسوہ | نمونہِ عمل، طریقہ یا اعلیٰ کردار |
| ردائیں | چادریں یا دوپٹے (خواتینِ اہل بیت کے پردے کی علامت) |
| آلام | دکھ، تکالیف یا مصائب (الم کی جمع) |
| الطاف | شاعر کا تخلص (قلمی نام) |
اس کلام کا بنیادی لبِ لباب یہ ہے کہ ایک سچے عاشق کو اپنے آقا ﷺ کے دامنِ کرم اور پنجتن پاک کے تحفظ پر اتنا پختہ بھروسا ہے کہ وہ ان کی موجودگی میں کسی بھی مصیبت (آلام) کے آنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ شاعر اللہ تعالیٰ کے اس قرآنی وعدے کو یاد کرتا ہے کہ جب تک آپ ﷺ دنیا میں موجود ہیں، امتیوں پر عذاب نہیں آئے گا، اور اسی یقین کے ساتھ وہ 'علی کے لال' (امام حسینؑ) کے اسوہِ مبارک پر چلتے ہوئے ہر قسم کے دنیاوی خوف سے آزاد ہو جاتا ہے۔ آخر میں، وہ دربارِ شام اور کربلا کے مصائب پر گہرے رنج و ملال کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ زندگی اور موت اب اسی چوکھٹِ اقدس سے وابستہ ہے، اور وہی ان کے ہر زخم کا واحد مداوا ہیں۔
لیرکس کے مطابق، شاعر 'غلامِ مصطفیٰ' ہونے کو اپنی کیا بتاتا ہے؟