मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 59 بار دیکھا گیا
,
عنوان: فاطمہ تیری چادر کا کیا پوچھنا
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس) کلام کے بول (لیرکس) منقبت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: طاہر رضا رامپوری
نعت خوان/ فنکار: طاہر رضا رامپوری
شامل کیا گیا: 05 Oct, 2022 07:20 PM IST
دیکھا گیا: 1.7K
Time to read: 1 min read
فاطمہ تیری چادر کا کیا پوچھنا،
تیری چادر کا احسان اسلام پر،
تیری چادر کے ٹکڑے بہ٘تر ہوئے،
اُن بہ٘تر کا احسان اسلام پر
فاطمہ تیری چادر کا کیا پوچھنا،
تیری چادر کا احسان اسلام پر
فاطمہ تیرے بابا حبیبِ خُدا اور شوہر ہے مولا علی مرتضیٰ،
تیرے بچّے شہیدانِ کرب و بلا،
تیرے گھر بھر کا احسان اسلام پر،
فاطمہ تیری چادر کا کیا پوچھنا
فاطمہ تیری چادر کا کیا پوچھنا،
تیری چادر کا احسان اسلام پر
رن میں زینب نے حق یوں ادا کر دیا،
یعنی تعمیلِ حُقمِ خُدا کر دیا،
اپنے بیٹوں کو دیں پے فدا کر دیا،
ایسی مادر کا احسان اسلام پر،
فاطمہ تیری چادر کا کیا پوچھنا
فاطمہ تیری چادر کا کیا پوچھنا،
تیری چادر کا احسان اسلام پر،
تیری چادر کے ٹکڑے بہ٘تر ہوئے،
اُن بہ٘تر کا احسان اسلام پر
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ منقبت خاتونِ جنت سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے پاکیزہ گھرانے کی بے مثال عظمت، ان کی عفت و حیا (چادر) اور دینِ اسلام کی بقا کے لیے ان کے خاندان کی لازوال قربانیوں کا ایک نہایت عقیدت مندانہ اور خوبصورت بیاں ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ اسلام پر سیدہ فاطمہ زہراؑ کی چادر کا یہ عظیم احسان ہے کہ ان کی گود کے تربیت یافتہ بہتر (72) نفوس نے میدانِ کربلا میں جامِ شہادت نوش کر کے حق کو زندہ کیا۔ جن کے والد حبیبِ خداؐ، شوہر مولا علیؑ اور بچے سید الشہدا ہوں، ان کے پورے گھرانے کی قربانیوں کا قرض اسلام کبھی نہیں اتار سکتا۔
| لفظ | معنی (Urdu) |
|---|---|
| چادر | پردہ / عفت، حیا اور پاکیزہ کردار کی علامت |
| حبیبِ خدا | اللہ کے پیارے اور دوست (مراد رسول اکرم ﷺ) |
| شہیدانِ کرب و بلا | کربلا کے میدان کے تمام پاکیزہ شہید |
| رن | میدانِ جنگ / کارزار |
| تعمیلِ حکمِ خدا | اللہ تعالیٰ کے فرمان اور مرضی کو پورا کرنا |
| مادر | ماں (یہاں مراد حضرت سیدہ زینبؑ ہیں) |
سیدہ فاطمہؑ کا پورا گھر بار ہی اسلام کی بقا کا ضامن ہے۔ میدانِ کربلا میں ان کی بیٹی حضرت سیدہ زینبؑ نے اپنے جگر گوشوں کو راہِ خدا میں قربان کر کے صبر و رضا کی وہ اعلیٰ مثال قائم کی جس پر دینِ حق ہمیشہ ناز کرے گا۔ شاعر کہتا ہے کہ کربلا کے وہ بہتر (72) شہدا دراصل سیدہ کی چادر کے ٹکڑے (انہی کے باغ کے پھول) تھے جنہوں نے اپنا خون دے کر اسلام کا پرچم سرنگوں ہونے نہیں دیا۔
شاعر کے مطابق، میدانِ کربلا میں حضرت زینبؓ نے اپنے بیٹوں کو دین پر فدا کر کے کس عظیم حکم کی تعمیل کی تھی؟