मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 2 دن پہلے fiber_manual_record 81 بار دیکھا گیا
,
عنوان: دل یہ بیچین رہنا لگا آج کل
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم
نعت خوان/ فنکار: اختر کاشف اشفاق قادری علیمی
شامل کیا گیا: 24 Sep, 2022 02:07 PM IST
دیکھا گیا: 3K
Time to read: 1 min read
دل یہ بیچین رہنا لگا آج کل،
یہ نہ پوچھو کے اس دل کو کیا چاہیے،
نہ دوا چاہیے نہ شفا چاہیے،
روزہِ مُصطفیٰ (ﷺ) کی ہوا چاہیے
ہے میرا پیر اختر رضا اظہری،
جن کو کہتے ہے تاجُش٘ریه سبھی،
ہیں سبھی اپنی جگہ محترم،
پر مجھے میرا اختر رضا چاہیے
اپنی جنّت کے نزدیک جایا کرو،
پاؤں ماں باپ کے تم دبایا کرو،
ماں باپ کو نہ ستایا کرو،
گر تمہیں اپنے رب کی رضا چاہیے
دل یہ کہتا آئنگے آئنگے وہ،
اپنی صورت مجھے بھی دکھائنگے وہ،
دیکھنا ہو اگر روے خیرُلورا،
لب پے ہر وقت ص٘لِ عَلَى چاہیے
شاعری بھی اے کاشف نخر جائے گی،
آخرت بھی یقینن سنور جائے گی،
عشقِ حسسان دل میں پیده کرو،
ساتھ میں فکرِ احمد رضا چاہیے
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ دل گداز نعت اور منقبت مدینہ منورہ کی تڑپ، والدین کی عظمت و خدمت اور اپنے مرشد سے والہانہ عقیدت کا ایک نہایت خوبصورت اور سبق آموز بیاں ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ عاشق کا دل مدینے کی یاد میں بے چین ہے، اسے دنیا کی کوئی دوا یا بیماری سے شفا نہیں بلکہ صرف حضور ﷺ کے روضۂ مبارک کی ٹھنڈی ہوا چاہیے۔ اگر کوئی انسان اپنے رب کی خوشنودی چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ اپنی جَنّت یعنی اپنے ماں باپ کے پاس بیٹھے، ان کے پاؤں دبائے اور انہیں کبھی نہ ستائے۔
| لفظ | معنی (Urdu) |
|---|---|
| شفا | بیماری سے تندرستی / صحت یابی |
| محترم | عزت دار / قابلِ احترام |
| رضا | مرضی / خوشنودی یا خوشی |
| روئے خیر الوریٰ | تمام مخلوقات میں سب سے بہترین ہستی (حضور ﷺ) کا چہرہ |
| صلِّ علیٰ | حضور ﷺ پر درود و سلام بھیجنا |
| آخرت | مرنے کے بعد کی زندگی / پرلوک |
شاعر کہتا ہے کہ اگر دل میں شبیہِ مصطفیٰ ﷺ (روئے خیر الوریٰ) کے دیدار کی سچی تڑپ ہے، تو زبان پر ہر وقت درودِ پاک کا ورد ہونا چاہیے۔ کلام میں مرشدِ گرامی تاج الشریعہ حضرت اختر رضا خان ازہری سے بے پناہ محبت کا اظہار کیا گیا ہے، اور آخر میں شاعر 'کاشف' اپنی شاعری اور عاقبت سنوارنے کے لیے دل میں حضرت حسان بن ثابتؓ جیسا عشقِ رسولؐ اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خانؒ جیسی فکری پختگی پیدا کرنے کی تلقین کرتا ہے۔
شاعر کے مطابق، اگر کوئی انسان اپنے رب کی رضا اور خوشی چاہتا ہے، تو اسے کس کے پاؤں دبانے چاہئیں اور انہیں نہیں ستانا چاہئے؟