मेरे सरकार आए
- 9 مہینے پہلے fiber_manual_record 720 بار دیکھا گیا
,
عنوان: دل سے دیوانہ ہوں دستگیر کا غوثُ الوریٰ پیرانِ پیر کا
زمرہ: قوّالی کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم
نعت خوان/ فنکار: مختلف/نامعلوم
شامل کیا گیا: 03 Nov, 2022 07:54 AM IST
دیکھا گیا: 2.2K
Time to read: 2 min read
اپنے کرم سے بھر دیا کاسہ فقیر کا،
دنیا میں مُجھ کو دے دیا رُتبہ امیر کا
میں قادری ہوں شُکر ہے ر٘بِ قدیر کا،
ہاتھوں میں میرے ہاتھ ہے پیرانِ پیر کا
مشکل پڑے تو یاد کرو دشتگير کو،
بغداد والے حضرتِ پیرانِ پیر کو
یہی وہ غوث ہے مُردوں کو جيلانے والے،
انہیں کہتیں ہے محمّد کے گھرانے والے
دل سے دیوانہ ہوں دستگیر کا میرے غوثِ اعظم،
میرے غوثُ الوریٰ پیرانِ پیر کا
غوثِ اعظم سب پیروں کے پیر ہیں،
دخیوں کے داتا ہے، دستگیر ہے،
مرتبہ بڑا ہے دستگیر کا،
غوثُ الوریٰ پیرانِ پیر کا
دل سے دیوانہ ہوں دستگیر کا،
غوثُ الوریٰ پیرانِ پیر کا
ایک نظر میرا مُحيد٘ین کر،
آپ کا در چھوڑکر جاۓ کدھر،
ہا صدقہ دے دو شبّر و شب٘ير کا،
غوثُ الوریٰ پیرانِ پیر کا
دل سے دیوانہ ہوں دستگیر کا،
غوثُ الوریٰ پیرانِ پیر کا
ایک دن دیکھئے دریا پے ہوا اُن کا گزر،
گم کی ماری ہوئی بُڑھیا پے پڑی اُن کی نظر،
روتی بُڑھیا نظر آئی تو وہا ٹھر گئے،
اُن کو جانا تھا کہا اور کہا ٹھر گئے،
پوچھا بُڑھیا سے بتا کِس نے ستایا ہے تمہیں،
دُکھ دیا درد دیا کِس نے رُلایا ہے تمہیں
بولی بُڑھیا سمندر میں براتی ڈوبے،
جتنے پانی میں تھے ڈوبے ہوۓ ساتھی نکلے،
ڈوبی جو کشتی تھی وہ نکال دی،
ایک بُڑھیا کی قسمت سنوار دی،
لکھا پورا ہوگیا تقدیر کا،
غوثُ الوریٰ پیرانِ پیر کا
دل سے دیوانہ ہوں دستگیر کا،
غوثُ الوریٰ پیرانِ پیر کا
حسنی ہے حسینی ہیں وہ دستگیر،
پنجتنی ہے میرے پیرانِ پیر،
میں دیوانہ ہوں اُن کی تصویر کا،
غوثُ الوریٰ پیرانِ پیر کا
دل سے دیوانہ ہوں دستگیر کا،
غوثُ الوریٰ پیرانِ پیر کا
اور شان ان کی ہے ولیوں میں بینظیر،
میں بھی ہوں عیاض اسی در کا فقیر،
دامن وہ بھر دینگے مجھ غریب کا،
غوثُ الوریٰ پیرانِ پیر کا
دل سے دیوانہ ہوں دستگیر کا،
غوثُ الوریٰ پیرانِ پیر کا
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلام حضور غوثِ اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی (رح) کی عظمت، ان کی کرامات اور ولایت کا خوبصورت بیاں ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ وہ تمام ولیوں کے سردار ہیں اور ان کے دربار سے کوئی بھی سائل کبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹتا۔
ان لائنوں کا مطلب ہے کہ غوثِ پاک کا مرتبہ تمام ولیوں میں بے نظیر ہے، جو اپنی ایک نگاہِ کرم سے ڈوبتی ہوئی کشتیوں کو پار لگا دیتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ جو کوئی بھی سچے دل سے بغداد کے پیر کو اپنی مشکل میں پکارتا ہے، آپ اس کی ہر مصیبت کو ٹال دیتے ہیں اور فقیر کو بھی شانہ بشانہ امیری کا رتبہ بخش دیتے ہیں۔
| لفظ | معنی (Meaning) |
|---|---|
| کاسہ | فقیر کا پیالہ / مانگنے کا برتن (Begging bowl) |
| دستگیر | ہاتھ تھامنے والا / مددگار (Helper) |
| غوثُ الوریٰ | ساری مخلوق کی فریاد سننے والے (Saviour of the world) |
| بینظیر | جس کی کوئی مثال نہ ہو / لاجواب (Matchless) |
| شبّر و شبّیر | امام حسن اور امام حسین (ع) کے مبارک نام |
| مرتبہ | مقام / عہدہ (Rank or Status) |
اس کلام کا مرکزی خیال یہ ہے کہ غوثِ اعظم کا تعلق نبی کریم ﷺ کے پاک گھرانے (حسنی-حسینی اور پنجتن) سے ہے، اس لیے ان کی کرامات بے مثال ہیں۔ شاعر ان کے اس مشہور واقعے کا ذکر کرتا ہے جہاں انہوں نے ایک مجبور بڑھیا کی روتی ہوئی پکار پر سمندر میں ڈوبی ہوئی براتیوں کی کشتی کو صحیح سلامت باہر نکال کر اس کی تقدیر بدل دی تھی۔ آپ کے در سے کوئی بھی غریب یا شاعر 'عیاض' جیسا ادنا غلام کبھی محروم نہیں رہتا۔
گیت کے مطابق، غوثِ اعظم نے سمندر کے کنارے رونے والی بڑھیا کی کیا مدد کی تھی، اور ان کا تعلق کس کے گھرانے سے بتایا گیا ہے؟