मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 65 بار دیکھا گیا
,
عنوان: دل میں جمالِ گنبد خضریٰ بسا کے دیکھ
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: سجّاد نظامی (مرہوم)
نعت خوان/ فنکار: سجّاد نظامی (مرہوم)
شامل کیا گیا: 24 Sep, 2022 02:54 PM IST
دیکھا گیا: 2.4K
Time to read: 1 min read
دل میں جمالِ گنبد خضریٰ بسا کے دیکھ،
ان کی بلندیوں کو بھی نظرِ جھُکا کے دیکھ (x2)
سدرہ پے بھی اُجالے ہیں غَارِ حِرَاء کے دیکھ،
پہنچے قدم کہاں سے کہاں مصطفیٰ کے دیکھ (x2)
پڑ جاۓ گی کلیجے میں ٹھنڈک ابھی ابھی،
عشقِ نبی (ﷺ) کی آگ تو دل میں لگا کے دیکھ (x2)
عشقِ رسول (ﷺ) خود اڈا لے جاۓ گا تجھے،
ٹوٹے ہوۓ ہی بازو ذرا فڈفڈا کے دیکھ (x2)
پہچان جب نہ سُن٘ی وہابی کی ہو تجھے،
احمد رضا کے نام کا نارا لگا کے دیکھ (x2)
آجاۓ گا نظر تجھے الله کا جمال،
چل نجدیہ بریلی کا سُرما لگا کے دیکھ (x2)
قسمت بدل نہ جائے تو میں زممدار ہوں،
سرکار کے غلاموں کی صف میں تو آکے دیکھ (x2)
پہنچے قدم کہاں سے کہاں مصطفیٰ کے دیکھ
ان کی بلندیوں کو بھی نظرِ جھُکا کے دیکھ
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ خوبصورت کلام سرورِ کائنات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی بے پناہ عظمت، عشقِ رسولؐ کی معجزاتی طاقت اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی کے مسلک کی حقانیت کا ایک پرجوش اور عقیدت مندانہ بیاں ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ اپنے دل میں گنبدِ خضریٰ کی خوبصورت یاد بسا کر دیکھو، حضور ﷺ کا مرتبہ اتنا بلند ہے کہ وہاں نظریں جھکا کر ہی ان کی رفعتوں کو پایا جا سکتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ سفرِ معراج میں سدرۃ المنتہیٰ پر بھی غارِ حرا کے انوار چمک رہے تھے، جو یہ بتاتے ہیں کہ مصطفیٰ ﷺ کے پاکیزہ قدم زمین سے لے کر عرشِ بریں تک کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔
| لفظ | معنی (Urdu) |
|---|---|
| جمال | حسن / خوبصورتی یا چہرہ |
| گنبدِ خضریٰ | ہرا گنبد (مدینہ منورہ میں حضور ﷺ کا روضۂ مبارک) |
| سدرہ | سدرۃ المنتہیٰ (ساتویں آسمان پر فرشتوں کی آخری حد کا درخت) |
| غارِ حرا | وہ مبارک غار جہاں حضور ﷺ پر پہلی وحی نازل ہوئی |
| بازو | پر / پنکھ |
| صف | قطار / لائن |
شاعر کہتا ہے کہ اگر دل کو حقیقی سکون (ٹھنڈک) چاہیے، تو اس میں عشقِ نبی ﷺ کی آگ جلانی ہوگی، کیونکہ یہ عشق ٹوٹے پروں والے (کمزور) انسان کو بھی اڑنے کی طاقت دیتا ہے۔ سچے عقیدے کی پہچان کے لیے شاعر امام احمد رضا خان کے نام کا نعرہ لگانے اور 'بریلی کا سرمہ' (وہاں کی تعلیمات) آنکھوں میں لگانے کی دعوت دیتا ہے، اور آخر میں پورے دعوے کے ساتھ کہتا ہے کہ جو بھی خود کو حضور ﷺ کے غلاموں کی صف میں کھڑا کر لیتا ہے، اس کی قسمت کا بدلنا یقینی ہے۔
شاعر کے مطابق، اگر اپنی قسمت کو بدلنا ہے تو انسان کو کہاں اور کس کی صف میں آکر کھڑا ہونا پڑے گا؟