मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 57 بار دیکھا گیا
,
عنوان: دل کو اُن سے خدا جُدا نہ کرے
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: کلام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا
نعت خوان/ فنکار: حافظ طاہر قادری ندیم رضا دھيرمی ندیم رضا فیضی اویس رضا قادری سجّاد نظامی (مرہوم) سلیم رضا پیلی بھیتی
شامل کیا گیا: 10 Jun, 2023 01:57 PM IST
دیکھا گیا: 454
Time to read: 1 min read
دل کو اُن سے خدا جُدا نہ کرے،
بے کسی لُوٹ لے، خدا نہ کرے
اس میں روضے کا سجدہ ہو کہ طواف،
ہوش میں جو نہ ہو، وہ کیا نہ کرے
یہ وہی ہیں کہ بخش دیتے ہیں،
کون اِن جُرموں پر سزا نہ کرے
سب طبیبوں نے دے دیا ہے جواب،
آہ! ایسا اگر دوا نہ کرے
دل کہاں لے چلا حرم سے مجھے،
ارے! تیرا بُرا، خدا نہ کرے
عذر، اُمیدِ عفو گر نہ سُنے،
رُو سیاہ، اور کیا بہانہ کرے
دل میں روشن ہے شمعِ حضور،
کاش جوشِ ہوس، ہوا نہ کرے
حشر میں ہم بھی سیر دیکھیں گے،
منکر آج اُن سے التجا نہ کرے؟
ضعف مانا، مگر یہ ظالم دل،
اُن کے راستے میں تو تھکا نہ کرے
جب تیری خُو ہے سب کا جی رکھنا،
وہی اچھا، جو دل بُرا نہ کرے
دل سے ایک ذوقِ مَے کا طالب ہوں،
کون کہتا ہے اتّقا نہ کرے؟
لے رضا! سب چلے مدینے کو،
میں نہ جاؤں؟ ارے! خدا نہ کرے
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلامِ رضا عشقِ رسول ﷺ، دربارِ مدینہ کی حاضری کی بے پناہ تڑپ اور حضور ﷺ کی رحمت پر کامل بھروسے کا ایک سچا اور دلسوز عکاس ہے۔
ان اشعار میں شاعر دعا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے دل کو کبھی بھی محبوبِ خدا ﷺ کی محبت سے جدا نہ کرے، کیونکہ ان کے بغیر زندگی لٹ جائے گی۔ وہ حضور ﷺ کی صفتِ کریمی کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ آپ ﷺ بڑے سے بڑے گناہگاروں کو بخش دیتے ہیں، اور آخر میں مدینے کے مسافروں کو دیکھ کر تڑپتا ہے کہ اگر میں نہ جا سکا تو خدا ایسا کبھی نہ کرے۔
| لفظ (Word) | معنی (Meaning) |
|---|---|
| بے کسی | لاچاری / بے یاری و مددگاری |
| طبیب | معالج / حکیم یا ڈاکٹر |
| رُو سیاہ | گناہگار / شرمندہ (سیاہ چہرے والا) |
| عفو | معافی / درگزر |
| منکر | انکار کرنے والا / مخالف |
| ضعف | کمزوری / نقاہت |
| خُو | عادت / خصلت یا طبیعت |
اس نعتِ پاک کا بنیادی لبِ لباب یہ ہے کہ حضور سرورِ کائنات ﷺ کی رحمت ہی ہر لاعلاج درد کی دوا ہے، جہاں دنیا کے تمام طبیب ہار مان جائیں وہاں آپ ﷺ کا فیض کام آتا ہے۔ شاعر اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہے مگر اسے یقین ہے کہ سب کا دل رکھنا حضور ﷺ کی مبارک عادت ہے، اس لیے وہ محشر کے دن بھی سرخرو ہوگا۔ اعلیٰ حضرت (رضا) اپنے کلام کے آخری شعر میں مدینے جانے والے قافلوں کو دیکھ کر بے قرار ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ سب مدینے جا رہے ہوں اور میں پیچھے رہ جاؤں، ایسا تو خدا کبھی نہ کرے۔
لیرکس کے آخری شعر میں، اعلیٰ حضرت نے کس جگہ نہ جانے کے خیال پر "ارے خدا نہ کرے" کہا ہے؟