, دل کو اُن سے خدا جُدا نہ کرے - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

دل کو اُن سے خدا جُدا نہ کرے Lyrics In اردو

(دل کو اُن سے خدا جُدا نہ کرے, بے کسی لُوٹ لے خدا نہ کرے)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: دل کو اُن سے خدا جُدا نہ کرے

زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)

شامل کیا گیا: 10 Jun, 2023 01:57 PM IST

دیکھا گیا: 454

Time to read: 1 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

دل کو اُن سے خدا جُدا نہ کرے،
بے کسی لُوٹ لے، خدا نہ کرے

اس میں روضے کا سجدہ ہو کہ طواف،
ہوش میں جو نہ ہو، وہ کیا نہ کرے

یہ وہی ہیں کہ بخش دیتے ہیں،
کون اِن جُرموں پر سزا نہ کرے

سب طبیبوں نے دے دیا ہے جواب،
آہ! ایسا اگر دوا نہ کرے

دل کہاں لے چلا حرم سے مجھے،
ارے! تیرا بُرا، خدا نہ کرے

عذر، اُمیدِ عفو گر نہ سُنے،
رُو سیاہ، اور کیا بہانہ کرے

دل میں روشن ہے شمعِ حضور،
کاش جوشِ ہوس، ہوا نہ کرے

حشر میں ہم بھی سیر دیکھیں گے،
منکر آج اُن سے التجا نہ کرے؟

ضعف مانا، مگر یہ ظالم دل،
اُن کے راستے میں تو تھکا نہ کرے

جب تیری خُو ہے سب کا جی رکھنا،
وہی اچھا، جو دل بُرا نہ کرے

دل سے ایک ذوقِ مَے کا طالب ہوں،
کون کہتا ہے اتّقا نہ کرے؟

لے رضا! سب چلے مدینے کو،
میں نہ جاؤں؟ ارے! خدا نہ کرے

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ کلامِ رضا عشقِ رسول ﷺ، دربارِ مدینہ کی حاضری کی بے پناہ تڑپ اور حضور ﷺ کی رحمت پر کامل بھروسے کا ایک سچا اور دلسوز عکاس ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

ان اشعار میں شاعر دعا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے دل کو کبھی بھی محبوبِ خدا ﷺ کی محبت سے جدا نہ کرے، کیونکہ ان کے بغیر زندگی لٹ جائے گی۔ وہ حضور ﷺ کی صفتِ کریمی کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ آپ ﷺ بڑے سے بڑے گناہگاروں کو بخش دیتے ہیں، اور آخر میں مدینے کے مسافروں کو دیکھ کر تڑپتا ہے کہ اگر میں نہ جا سکا تو خدا ایسا کبھی نہ کرے۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

لفظ (Word)معنی (Meaning)
بے کسیلاچاری / بے یاری و مددگاری
طبیبمعالج / حکیم یا ڈاکٹر
رُو سیاہگناہگار / شرمندہ (سیاہ چہرے والا)
عفومعافی / درگزر
منکرانکار کرنے والا / مخالف
ضعفکمزوری / نقاہت
خُوعادت / خصلت یا طبیعت

خلاصہ (Summary)

اس نعتِ پاک کا بنیادی لبِ لباب یہ ہے کہ حضور سرورِ کائنات ﷺ کی رحمت ہی ہر لاعلاج درد کی دوا ہے، جہاں دنیا کے تمام طبیب ہار مان جائیں وہاں آپ ﷺ کا فیض کام آتا ہے۔ شاعر اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہے مگر اسے یقین ہے کہ سب کا دل رکھنا حضور ﷺ کی مبارک عادت ہے، اس لیے وہ محشر کے دن بھی سرخرو ہوگا۔ اعلیٰ حضرت (رضا) اپنے کلام کے آخری شعر میں مدینے جانے والے قافلوں کو دیکھ کر بے قرار ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ سب مدینے جا رہے ہوں اور میں پیچھے رہ جاؤں، ایسا تو خدا کبھی نہ کرے۔

لیرکس کے آخری شعر میں، اعلیٰ حضرت نے کس جگہ نہ جانے کے خیال پر "ارے خدا نہ کرے" کہا ہے؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں: