, دھو قلم کو مُشک سے پھر مدحتِ سرکار لکھ - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

دھو قلم کو مُشک سے پھر مدحتِ سرکار لکھ Lyrics In اردو

(دھو قلم کو مُشک سے پھر مدحتِ سرکار لکھ, نام لکھ ایک بار صلَّی اللہ کو سو بار لکھ۔)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: دھو قلم کو مُشک سے پھر مدحتِ سرکار لکھ

زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)

مصنف/گیتکار: حبیب اللہ فیضی

نعت خوان/ فنکار: حبیب اللہ فیضی

شامل کیا گیا: 13 Jan, 2024 09:25 AM IST

دیکھا گیا: 717

Time to read: 1 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

دھو قلم کو مُشک سے پھر مدحتِ سرکار لکھ،
نام لکھ ایک بار صلَّی اللہ کو سو بار لکھ۔

مصطفیٰ وَ المُرتضیٰ وَ ابنَہُما وَ الفاطمہ،
ہر بلا ٹَل جائے گی، یہ بسرِ دیوار لکھ۔

مصطفیٰ نے کون سا ہتھیار امت کو دیا؟
جب یہ کوئی پوچھ لے اخلاص کی تلوار لکھ۔

یہ ہے شہرِ مصطفیٰ، اس کا ادب سے نام لکھ،
کہکشاں کو ذرّہ اور خالیستان کو گلزار لکھ۔

بکرا عید و عیدِ رمضان ہے مسلمان کے لیے،
عیدِ میلاد النبی کو عالمِ تہوار لکھ۔

مختصر خطبہ ہو گر لکھنا شاہِ نولاکھ کا،
سِمٹے تو میمِ محمد، پھیلے تو سنسار لکھ۔

آخری خواہش کی گر تفصیل رضوان مانگ لے،
فیض کہ دے گا نبی کا شرورتِ دیدار لکھ۔

دو جہاں اس کے ہوئے جو اُن کا دیوانہ بنا،
اُن کے دیوانوں کو مت دیوانہ لکھ—ہوشیار لکھ۔

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ کلام نبی کریم ﷺ کی شانِ اقدس اور ان کے عشق میں ڈوبے ہوئے مومن کے دلی جذبات کا بہترین اظہار ہے، جس میں آپ ﷺ کے نام اور آپ ﷺ کے گھرانے کی محبت کو ہر مصیبت کا حل بتایا گیا ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

ان اشعار کا مفہوم یہ ہے کہ حضور ﷺ کی تعریف لکھنے کے لیے قلم کو مشک سے پاکیزہ کرنا چاہیے کیونکہ آپ ﷺ کا نام برکتوں کا مجموعہ ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ آپ ﷺ نے امت کو مادی ہتھیاروں کے بجائے اخلاص (سچائی) کی تلوار عطا کی ہے، اور جو شخص آپ ﷺ کی محبت میں دنیا کی نظر میں دیوانہ ہے، حقیقت میں وہی سب سے زیادہ عقل مند اور ہوشیار ہے۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

لفظمعنی
مدحتِ سرکارنبی ﷺ کی تعریف و توصیف (Praise of Prophet)
اخلاصنیت کی سچائی اور پاکیزگی (Sincerity)
خالیستاناجاڑ یا ویران جگہ (Desert/Wilderness)
گلزارپھولوں کا باغ (Rose garden)
سنساردنیا یا جہان (Universe)
شرورتِ دیداردیدار کی پیاس یا تڑپ (Thirst for vision)
ہوشیارعقل مند یا خبردار (Intelligent)

خلاصہ (Summary)

اس کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ شہرِ مدینہ کی عظمت کے سامنے کہکشاں بھی ایک ذرے کی مانند ہے اور عیدِ میلاد النبی ﷺ تمام تہواروں کا مرکز ہے۔ شاعر کے مطابق محمد ﷺ کی ذات وہ حقیقت ہے جو سمٹے تو ایک حرف ہے اور پھیلے تو کائنات کی وسعتوں پر محیط ہے۔ جو آپ ﷺ کا سچا دیوانہ بن جاتا ہے، دونوں جہان اس کے تابع کر دیے جاتے ہیں۔

شاعر نے مصطفیٰ ﷺ کے دیے ہوئے کس "ہتھیار" کا ذکر کیا ہے اور ان کے دیوانوں کو "ہوشیار" کیوں کہا ہے؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں:

نمایاں آرٹسٹ/گیت نگار

سبھی دیکھیں