मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 ہفتہ پہلے fiber_manual_record 205 بار دیکھا گیا
,
عنوان: دھو قلم کو مُشک سے پھر مدحتِ سرکار لکھ
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: حبیب اللہ فیضی
نعت خوان/ فنکار: حبیب اللہ فیضی
شامل کیا گیا: 13 Jan, 2024 09:25 AM IST
دیکھا گیا: 717
Time to read: 1 min read
دھو قلم کو مُشک سے پھر مدحتِ سرکار لکھ،
نام لکھ ایک بار صلَّی اللہ کو سو بار لکھ۔
مصطفیٰ وَ المُرتضیٰ وَ ابنَہُما وَ الفاطمہ،
ہر بلا ٹَل جائے گی، یہ بسرِ دیوار لکھ۔
مصطفیٰ نے کون سا ہتھیار امت کو دیا؟
جب یہ کوئی پوچھ لے اخلاص کی تلوار لکھ۔
یہ ہے شہرِ مصطفیٰ، اس کا ادب سے نام لکھ،
کہکشاں کو ذرّہ اور خالیستان کو گلزار لکھ۔
بکرا عید و عیدِ رمضان ہے مسلمان کے لیے،
عیدِ میلاد النبی کو عالمِ تہوار لکھ۔
مختصر خطبہ ہو گر لکھنا شاہِ نولاکھ کا،
سِمٹے تو میمِ محمد، پھیلے تو سنسار لکھ۔
آخری خواہش کی گر تفصیل رضوان مانگ لے،
فیض کہ دے گا نبی کا شرورتِ دیدار لکھ۔
دو جہاں اس کے ہوئے جو اُن کا دیوانہ بنا،
اُن کے دیوانوں کو مت دیوانہ لکھ—ہوشیار لکھ۔
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلام نبی کریم ﷺ کی شانِ اقدس اور ان کے عشق میں ڈوبے ہوئے مومن کے دلی جذبات کا بہترین اظہار ہے، جس میں آپ ﷺ کے نام اور آپ ﷺ کے گھرانے کی محبت کو ہر مصیبت کا حل بتایا گیا ہے۔
ان اشعار کا مفہوم یہ ہے کہ حضور ﷺ کی تعریف لکھنے کے لیے قلم کو مشک سے پاکیزہ کرنا چاہیے کیونکہ آپ ﷺ کا نام برکتوں کا مجموعہ ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ آپ ﷺ نے امت کو مادی ہتھیاروں کے بجائے اخلاص (سچائی) کی تلوار عطا کی ہے، اور جو شخص آپ ﷺ کی محبت میں دنیا کی نظر میں دیوانہ ہے، حقیقت میں وہی سب سے زیادہ عقل مند اور ہوشیار ہے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| مدحتِ سرکار | نبی ﷺ کی تعریف و توصیف (Praise of Prophet) |
| اخلاص | نیت کی سچائی اور پاکیزگی (Sincerity) |
| خالیستان | اجاڑ یا ویران جگہ (Desert/Wilderness) |
| گلزار | پھولوں کا باغ (Rose garden) |
| سنسار | دنیا یا جہان (Universe) |
| شرورتِ دیدار | دیدار کی پیاس یا تڑپ (Thirst for vision) |
| ہوشیار | عقل مند یا خبردار (Intelligent) |
اس کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ شہرِ مدینہ کی عظمت کے سامنے کہکشاں بھی ایک ذرے کی مانند ہے اور عیدِ میلاد النبی ﷺ تمام تہواروں کا مرکز ہے۔ شاعر کے مطابق محمد ﷺ کی ذات وہ حقیقت ہے جو سمٹے تو ایک حرف ہے اور پھیلے تو کائنات کی وسعتوں پر محیط ہے۔ جو آپ ﷺ کا سچا دیوانہ بن جاتا ہے، دونوں جہان اس کے تابع کر دیے جاتے ہیں۔
شاعر نے مصطفیٰ ﷺ کے دیے ہوئے کس "ہتھیار" کا ذکر کیا ہے اور ان کے دیوانوں کو "ہوشیار" کیوں کہا ہے؟