मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 57 بار دیکھا گیا
,
عنوان: Delhi Rajasthan Tumhara Ya Khwaja
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم
نعت خوان/ فنکار: مختلف/نامعلوم
شامل کیا گیا: 09 Apr, 2023 09:15 AM IST
دیکھا گیا: 491
Time to read: 1 min read
translate بول کی زبان منتخب کریں:
Delhi Rajasthan Tumhara Ya Khwaja
Sara Hindustan Tumhara Ya Khwaja
Hind Mein Navve(90) Lakh Ko Kalma Padhwaya
Hum Par Hai Ehsaan Tumhara Ya Khwaja
Sara Ana Sagar Kuze Mein Bhar Aaya
Sunte Hi Farman Tumhara Ya Khwaja
Aap Pe Hai Faizan Janab E Usman Ka
Hum Par Hai Faizan Tumhara Ya Khwaja
Faiz E Madina Milta Hai Ajmer Se Hi
Roza Hai Zeeshan Tumhara Ya Khwaja
Rahe Sunni Dawat E Islami
Ye To Hai Faizan Tumhara Ya Khwaja
In Dono Par Khas Karam Tum Farmana
Ahad Aur Riathuddin Tumhara Ya Khwaja
Syed Ko Taibah Ki Galiya Dikhla Do
Hai Adnaa Darban Tumhara Ya Khwaja
Delhi Rajasthan Tumhara Ya Khwaja
Sara Hindustan Tumhara Ya Khwaja
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ منقبت سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز رحمة اللہ علیہ کی عظمت اور ان کی روجانی سلطنت کا بیان ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ دہلی اور راجستھان سمیت پورے ہندوستان پر انھی کی ولایت ہے اور انھی کے صدقے اس سر زمین پر اسلام کا نور پھیلا ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ برصغیر پر خواجہ غریب نوازؒ کا بہت بڑا احسان ہے کیونکہ انہوں نے نوے لاکھ لوگوں کو کلمہ پڑھا کر ایمان کی دولت سے مالا مال کیا۔ شاعر کہتا ہے کہ آپ کی روحانی طاقت کا یہ عالم تھا کہ ایک اشارے پر انا ساگر جھیل کا پورا پانی ایک چھوٹے سے کوزے میں سما گیا اور آپ کا روضہ مبارک وہ دربار ہے جہاں سے زائرین کو مدینہ منورہ کا فیض حاصل ہوتا ہے۔
| الفاظ | معنی (Meanings) |
|---|---|
| نووے لاکھ | نوے لاکھ (90,00,000) |
| انا ساگر | اجمیر شریف کی ایک مشہور اور بڑی جھیل |
| کوزے | مٹی کا چھوٹا برتن / پیالہ یا مٹکا |
| فرمان | حکم / ارشاد |
| فیضان / فیض | روحانی برکت / فائدہ یا کرم |
| جنابِ عثمان | خواجہ عثمان ہارونیؒ (مراد خواجہ پیا کے پیر و مرشد) |
| ذی شان | بڑی شان و شوکت والا / عالی مرتبہ |
| ادنا | چھوٹا / معمولی یا عاجز |
خواجہ غریب نوازؒ نے اپنے مرشد حضرت خواجہ عثمان ہارونیؒ کے فیض سے ہندوستان میں امن، محبت اور دینِ اسلام کا پیغام عام کیا۔ شاعر کہتا ہے کہ اجمر شریف ہی وہ مرکز ہے جہاں سے مدینے کی برکتیں تقسیم ہوتی ہیں اور آپ کی بارگاہ سے کوئی بھی سائل خالی ہاتھ نہیں لوٹتا، اسی لیے پورا ہندوستان آپ کی کرم نوازی کا گواہ ہے۔
خواجہ غریب نواز (رح) نے ہندوستان میں کتنے لاکھ لوگوں کو کلمہ پڑھوایا تھا، اور ان کا اپنے پیر و مرشد سے کیا رشتہ تھا؟