मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 59 بار دیکھا گیا
,
عنوان: دہلی راجستھان تمہارا یا خواجہ
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم
نعت خوان/ فنکار: عمران رضا قادری
شامل کیا گیا: 09 Apr, 2023 09:15 AM IST
دیکھا گیا: 432
Time to read: 1 min read
دہلی راجستھان تمہارا یا خواجہ
سارا ہندوستان تمہارا یا خواجہ
ہند میں نووے لاکھ کو کلمہ پڑھوایا
ہم پر ہے احسان تمہارا یا خواجہ
سارا انا، ساگر کوزے میں بھر آیا
سُن تے ہی فرمان تمہارا یا خواجہ
آپ پہ ہے فیضان جنابِ عثمان کا
ہم پر ہے فیضان تمہارا یا خواجہ
فیضِ مدینہ ملتا ہے اجمر سے ہی
روضہ ہے زی شان تمہارا یا خواجہ
رہے سنی دعوتِ اسلامی
یہ تو ہے فیضان تمہارا یا خواجہ
ان دونوں پر خاص کرم تم فرمانا
عہد اور ریاثتُ الدین تمہارا یا خواجہ
سید کو طیبہ کی گلیاں دکھلا دو
ہے ادنا دربان تمہارا یا خواجہ
دہلی راجستھان تمہارا یا خواجہ
سارا ہندوستان تمہارا یا خواجہ
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ منقبت سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز رحمة اللہ علیہ کی عظمت اور ان کی روجانی سلطنت کا بیان ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ دہلی اور راجستھان سمیت پورے ہندوستان پر انھی کی ولایت ہے اور انھی کے صدقے اس سر زمین پر اسلام کا نور پھیلا ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ برصغیر پر خواجہ غریب نوازؒ کا بہت بڑا احسان ہے کیونکہ انہوں نے نوے لاکھ لوگوں کو کلمہ پڑھا کر ایمان کی دولت سے مالا مال کیا۔ شاعر کہتا ہے کہ آپ کی روحانی طاقت کا یہ عالم تھا کہ ایک اشارے پر انا ساگر جھیل کا پورا پانی ایک چھوٹے سے کوزے میں سما گیا اور آپ کا روضہ مبارک وہ دربار ہے جہاں سے زائرین کو مدینہ منورہ کا فیض حاصل ہوتا ہے۔
| الفاظ | معنی (Meanings) |
|---|---|
| نووے لاکھ | نوے لاکھ (90,00,000) |
| انا ساگر | اجمیر شریف کی ایک مشہور اور بڑی جھیل |
| کوزے | مٹی کا چھوٹا برتن / پیالہ یا مٹکا |
| فرمان | حکم / ارشاد |
| فیضان / فیض | روحانی برکت / فائدہ یا کرم |
| جنابِ عثمان | خواجہ عثمان ہارونیؒ (مراد خواجہ پیا کے پیر و مرشد) |
| ذی شان | بڑی شان و شوکت والا / عالی مرتبہ |
| ادنا | چھوٹا / معمولی یا عاجز |
خواجہ غریب نوازؒ نے اپنے مرشد حضرت خواجہ عثمان ہارونیؒ کے فیض سے ہندوستان میں امن، محبت اور دینِ اسلام کا پیغام عام کیا۔ شاعر کہتا ہے کہ اجمر شریف ہی وہ مرکز ہے جہاں سے مدینے کی برکتیں تقسیم ہوتی ہیں اور آپ کی بارگاہ سے کوئی بھی سائل خالی ہاتھ نہیں لوٹتا، اسی لیے پورا ہندوستان آپ کی کرم نوازی کا گواہ ہے۔
خواجہ غریب نواز (رح) نے ہندوستان میں کتنے لاکھ لوگوں کو کلمہ پڑھوایا تھا، اور ان کا اپنے پیر و مرشد سے کیا رشتہ تھا؟