, چھوٹے نہ کبھی تیرا دامن یا خواجہ معین الدین حسن - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

چھوٹے نہ کبھی تیرا دامن یا خواجہ معین الدین حسن Lyrics In اردو

(چھوٹے نہ کبھی تیرا دامن یا خواجہ معین الدین حسن, ہے تم پہ فِدا سب تن-من-دھن یا خواجہ معین الدین حسن)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: چھوٹے نہ کبھی تیرا دامن یا خواجہ معین الدین حسن

زمرہ: کلام کے بول (لیرکس) منقبت کے بول (لیرکس) نعت کے بول (لیرکس)

شامل کیا گیا: 02 Jan, 2024 09:22 AM IST

دیکھا گیا: 1.1K

Time to read: 2 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

چھوٹے نہ کبھی تیرا دامن
یا خواجہ معین الدین حسن!
ہے تم پہ فِدا سب تن-من-دھن
یا خواجہ معین الدین حسن!

چھوٹے نہ کبھی تیرا دامن
یا خواجہ معین الدین حسن!
کرتے ہیں فِدا سب تن-من-دھن
یا خواجہ معین الدین حسن!

اجمیر مجھے پہنچا دے خدا
چادر میں چڑھاؤں پھولوں کی
پھر صدقہ کروں اپنا تن-من
یا خواجہ معین الدین حسن!

آقا کی عطا ہو نورِ علی
زہرا کی کلی، ولیوں کے ولی
حسنین کے دل، عثمان کے نین
یا خواجہ معین الدین حسن!

کعبہ ہو، مدینہ ہو یا نجف
ہر جا پہ نظر تم آتے ہو
کچھ ایسی لگی ہے دل کی لگن
یا خواجہ معین الدین حسن!

مے خانے میں میری مستی کچھ
اس طرح نظر آئے، ساقی!
میں رقص کروں اور ہو چھن-چھن
یا خواجہ معین الدین حسن!

در بار میں میں ایسے آؤں
سب حال میرے مستور رہیں
اور بات کروں میں من ہی من
یا خواجہ معین الدین حسن!

تھک ہار کے میں پہنچا دَر پہ
آرام ملا جب آپ ملے
اور لگنے لگا پھر اپنापन
یا خواجہ معین الدین حسن!

اے پیکرِ جود و سخا خواجہ!
اغیار نہ کیوں حیران رہیں
جب رحمتِ عالم سایہ فگن
یا خواجہ معین الدین حسن!

یہ مست نگاہی ہے، خواجہ!
جو مست و ملنگ بناتی ہے
در بار میں ہو آزاد چَلن
یا خواجہ معین الدین حسن!

اجمیر کی دھرتی پہ چلنا
آساں نہیں یوں بول اٹھی
اے نور! تیرے دل کی دھڑکن
یا خواجہ معین الدین حسن!

اب نور تیرے دَر پہ آ کے
اظہارِ عقیدت کیسے کرے
کھائی ہے اسے بس یہ اُلجھن
یا خواجہ معین الدین حسن!

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ منقبت حضرت خواجہ غریب نواز (رح) کی بارگاہ میں ایک عقیدت مند کی والہانہ محبت اور اجمیر شریف کی حاضری کی تڑپ کا اظہار ہے، جس میں مرید اپنے مرشد کے دامن سے ہمیشہ جڑے رہنے کی دعا کرتا ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

ان اشعار کا مفہوم یہ ہے کہ شاعر اپنے تن، من اور دھن کو خواجہ معین الدین چشتی (رح) کی محبت میں قربان کرنے کا عہد کرتا ہے۔ وہ اجمیر پہنچ کر پھولوں کی چادر چڑھانے کی تمنا رکھتا ہے اور کہتا ہے کہ آپ کی روحانی شخصیت میں اسے کعبہ، مدینہ اور نجف کی جھلک نظر آتی ہے کیونکہ اس کے دل کو آپ سے گہری لگن لگ چکی ہے۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

لفظمعنی
دامنپلہ یا پناہ (Protection/Hem)
مستورچھپا ہوا یا پوشیدہ (Hidden)
پیکرِ جود و سخاسخاوت اور عطا کی مورت
اغیارغیر یا اجنبی لوگ (Strangers)
سایہ فگنسایہ کرنے والا (رحمت کرنے والا)
اظہارِ عقیدتمحبت اور عقیدت کا بیان کرنا
رقصوجد کی حالت میں جھومنا (Sufi dance)

خلاصہ (Summary)

اس کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ خواجہ غریب نواز (رح) تھکے ہارے لوگوں کے لیے سکون اور اپنائیت کا مرکز ہیں۔ شاعر آپ کو "پنجتن پاک" کا نور اور "ولیوں کا ولی" تسلیم کرتا ہے اور اپنی زندگی کی تمام الجھنوں کا حل آپ کی رحمت کی چھاؤں میں تلاش کرتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ اس کا تعلق آپ کے دربار سے کبھی نہ ٹوٹے اور وہ ہمیشہ آپ کی یاد میں مست رہے۔

شاعر نے خواجہ غریب نواز کو "پیکرِ جود و سخا" کیوں کہا ہے اور وہ اجمیر جا کر کیا کرنا چاہتا ہے؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں:

Manqabat Lyrics

سبھی دیکھیں