मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 67 بار دیکھا گیا
,
عنوان: چھوٹے نہ کبھی تیرا دامن یا خواجہ معین الدین حسن
زمرہ: کلام کے بول (لیرکس) منقبت کے بول (لیرکس) نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: سید نورانی میا اشرف اشرفی
نعت خوان/ فنکار: میلاد رضا قادری
شامل کیا گیا: 02 Jan, 2024 09:22 AM IST
دیکھا گیا: 1.1K
Time to read: 2 min read
چھوٹے نہ کبھی تیرا دامن
یا خواجہ معین الدین حسن!
ہے تم پہ فِدا سب تن-من-دھن
یا خواجہ معین الدین حسن!
چھوٹے نہ کبھی تیرا دامن
یا خواجہ معین الدین حسن!
کرتے ہیں فِدا سب تن-من-دھن
یا خواجہ معین الدین حسن!
اجمیر مجھے پہنچا دے خدا
چادر میں چڑھاؤں پھولوں کی
پھر صدقہ کروں اپنا تن-من
یا خواجہ معین الدین حسن!
آقا کی عطا ہو نورِ علی
زہرا کی کلی، ولیوں کے ولی
حسنین کے دل، عثمان کے نین
یا خواجہ معین الدین حسن!
کعبہ ہو، مدینہ ہو یا نجف
ہر جا پہ نظر تم آتے ہو
کچھ ایسی لگی ہے دل کی لگن
یا خواجہ معین الدین حسن!
مے خانے میں میری مستی کچھ
اس طرح نظر آئے، ساقی!
میں رقص کروں اور ہو چھن-چھن
یا خواجہ معین الدین حسن!
در بار میں میں ایسے آؤں
سب حال میرے مستور رہیں
اور بات کروں میں من ہی من
یا خواجہ معین الدین حسن!
تھک ہار کے میں پہنچا دَر پہ
آرام ملا جب آپ ملے
اور لگنے لگا پھر اپنापन
یا خواجہ معین الدین حسن!
اے پیکرِ جود و سخا خواجہ!
اغیار نہ کیوں حیران رہیں
جب رحمتِ عالم سایہ فگن
یا خواجہ معین الدین حسن!
یہ مست نگاہی ہے، خواجہ!
جو مست و ملنگ بناتی ہے
در بار میں ہو آزاد چَلن
یا خواجہ معین الدین حسن!
اجمیر کی دھرتی پہ چلنا
آساں نہیں یوں بول اٹھی
اے نور! تیرے دل کی دھڑکن
یا خواجہ معین الدین حسن!
اب نور تیرے دَر پہ آ کے
اظہارِ عقیدت کیسے کرے
کھائی ہے اسے بس یہ اُلجھن
یا خواجہ معین الدین حسن!
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ منقبت حضرت خواجہ غریب نواز (رح) کی بارگاہ میں ایک عقیدت مند کی والہانہ محبت اور اجمیر شریف کی حاضری کی تڑپ کا اظہار ہے، جس میں مرید اپنے مرشد کے دامن سے ہمیشہ جڑے رہنے کی دعا کرتا ہے۔
ان اشعار کا مفہوم یہ ہے کہ شاعر اپنے تن، من اور دھن کو خواجہ معین الدین چشتی (رح) کی محبت میں قربان کرنے کا عہد کرتا ہے۔ وہ اجمیر پہنچ کر پھولوں کی چادر چڑھانے کی تمنا رکھتا ہے اور کہتا ہے کہ آپ کی روحانی شخصیت میں اسے کعبہ، مدینہ اور نجف کی جھلک نظر آتی ہے کیونکہ اس کے دل کو آپ سے گہری لگن لگ چکی ہے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| دامن | پلہ یا پناہ (Protection/Hem) |
| مستور | چھپا ہوا یا پوشیدہ (Hidden) |
| پیکرِ جود و سخا | سخاوت اور عطا کی مورت |
| اغیار | غیر یا اجنبی لوگ (Strangers) |
| سایہ فگن | سایہ کرنے والا (رحمت کرنے والا) |
| اظہارِ عقیدت | محبت اور عقیدت کا بیان کرنا |
| رقص | وجد کی حالت میں جھومنا (Sufi dance) |
اس کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ خواجہ غریب نواز (رح) تھکے ہارے لوگوں کے لیے سکون اور اپنائیت کا مرکز ہیں۔ شاعر آپ کو "پنجتن پاک" کا نور اور "ولیوں کا ولی" تسلیم کرتا ہے اور اپنی زندگی کی تمام الجھنوں کا حل آپ کی رحمت کی چھاؤں میں تلاش کرتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ اس کا تعلق آپ کے دربار سے کبھی نہ ٹوٹے اور وہ ہمیشہ آپ کی یاد میں مست رہے۔
شاعر نے خواجہ غریب نواز کو "پیکرِ جود و سخا" کیوں کہا ہے اور وہ اجمیر جا کر کیا کرنا چاہتا ہے؟