मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 52 بار دیکھا گیا
,
عنوان: چاند بدری سے پردہ ہٹاۓ دیا جائے اپنا نورانی چہرہ دیکھاۓ دیا جائے
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: حیدر پرواز
نعت خوان/ فنکار: حیدر پرواز
شامل کیا گیا: 05 Oct, 2022 04:58 PM IST
دیکھا گیا: 2.6K
Time to read: 1 min read
چاند بدری سے پردہ ہٹاۓ دیا جائے،
اپنا نورانی چہرہ دیکھاۓ دیا جائے
تم بن آقا جیا گھبراۓ،
رتیہ رتیہ نیند نہیں آۓ،
اپنے قدموں میں آقا سُلاۓ لیا جائے
چاند بدری سے پردہ ہٹاۓ دیا جائے،
اپنا نورانی چہرہ دیکھاۓ دیا جائے
جیرا تڑپے پنجرے کے اندر،
راستہ نہیں ہے بھرا ہے سمندر،
کیسے آؤں میں آقا بتاۓ دیا جائے
چاند بدری سے پردہ ہٹاۓ دیا جائے،
اپنا نورانی چہرہ دیکھاۓ دیا جائے
حج کے مہینوا ستاوت بوہوت ہے،
حاجن کے ٹولی رُلاوت بوہوت ہے،
تنی ہم ہوکہ درشن کراۓ دیا جائے
چاند بدری سے پردہ ہٹاۓ دیا جائے،
اپنا نورانی چہرہ دیکھاۓ دیا جائے
محشر میں جب ہمکا گرمی ستائے،
پیاسن کے مارے زبنیا سُکھائے،
اپنا ہاتھو سے کوثر پیلائے دیا جائے
چاند بدری سے پردہ ہٹاۓ دیا جائے،
اپنا نورانی چہرہ دیکھاۓ دیا جائے
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ خوبصورت نعتِ شریف اودھی اور بھوجپوری کے خوبصورت لوک لہجے میں لکھی گئی ہے، جو سرورِ کائنات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے دیدار (درشن) کی تڑپ اور دیارِ مدینہ کی حاضری کے لیے ایک عاشقِ رسول کے سیدھے سادھے اور سچے جذبوں کی عکاسی کرتی ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ آقا ﷺ کے ہجر میں عاشق کا دل اس قدر بے چین ہے کہ اسے راتوں کو نیند نہیں آتی، اس لیے وہ التجا کر رہا ہے کہ حضور اپنے چہرے سے بادلوں کا پردہ ہٹا کر اپنا نورانی جلوہ دکھا دیں۔ وہ رو کر کہتا ہے کہ میرا دل اس جسم کے پنجرے میں مدینے جانے کے لیے تڑپ رہا ہے، لیکن بیچ میں سمندر حائل ہے، حضور خود ہی وہاں آنے کا راستہ بتا دیں۔
| لفظ | معنی (Urdu) |
|---|---|
| بدری | بادل / ابر |
| رتیہ | راتیں / شب |
| جیرا (جیارا) | دل / جگر یا جان |
| حاجن (حاجی) | حج پر جانے والے مسافروں کا گروہ |
| تنی | ذرا سا / تھوڑا سا |
| محشر | قیامت کا دن / روزِ جزا |
عاشق اپنی بے بسی کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جب حج کا مہینہ آتا ہے اور لوگ مدینے کی طرف روانہ ہوتے ہیں، تو حاجیوں کا قافلہ اسے بہت رولاتا ہے کیونکہ وہ خود وہاں جانے سے قاصر ہے۔ اس کی بس ایک ہی التجا ہے کہ اسے بھی آقا ﷺ کے قدموں کا دیدار نصیب ہو جائے اور قیامت (محشر) کی سخت گرمی میں جب پیاس سے زبان سوکھ رہی ہو، تو حضورؐ اپنے مبارک ہاتھوں سے اسے جامِ کوثر پلا دیں۔
شاعر کے مطابق، جب حج کا مہینہ آتا ہے اور حاجیوں کی ٹولی روانہ ہوتی ہے، تو اس کے دل پر کیا گزرتی ہے اور وہ آقا ﷺ سے کس چیز کی فریاد کرتا ہے؟