मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 مہینہ پہلے fiber_manual_record 417 بار دیکھا گیا
,
عنوان: بےخود کیے دیتے ہیں اندازِ حجابانہ
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: بیدم شاہ وارثی۔
نعت خوان/ فنکار: اویس رضا قادری
شامل کیا گیا: 01 Aug, 2023 06:19 PM IST
دیکھا گیا: 457
Time to read: 2 min read
بےخود کیے دیتے ہیں اندازِ حجابانہ،
آ دل میں تجھے رکھ لوں اے جلوۂ جانانہ۔
کیوں آنکھ ملائی تھی، کیوں آگ لگائی تھی،
اب رُخ کو چھپا بیٹھے کرکے مجھے دیوانہ۔
آ دل میں تجھے رکھ لوں اے جلوۂ جانانہ۔
دل چاہتا ہے تحفے میں بھیجوں میں انہیں آنکھیں،
درشن کا تو درشن ہو، نظرانے کا نظرانہ۔
آ دل میں تجھے رکھ لوں اے جلوۂ جانانہ۔
اتنا تو کرم کرنا اے نرگسِ مستانہ،
جب جان لبوں پر ہو، تم سامنے آ جانا۔
آ دل میں تجھے رکھ لوں اے جلوۂ جانانہ۔
کیا لطف ہو محشر میں قدموں پہ گرُوں ان کے،
سرکار کہیں دیکھو، دیوانہ ہے دیوانہ۔
آ دل میں تجھے رکھ لوں اے جلوۂ جانانہ۔
پینے کو تو پی لوں گا، پر آرزو ذرا سی ہے،
اجمیر کا ساقی ہو، بغداد کا مےخانہ۔
آ دل میں تجھے رکھ لوں اے جلوۂ جانانہ۔
میں ہوش و حواس اپنے اس بات کھو بیٹھا،
جب تم نے کہا ہنس کے، آیا میرا دیوانہ۔
آ دل میں تجھے رکھ لوں اے جلوۂ جانانہ۔
بےدم مری قسمت میں سجدے ہیں اسی در کے،
چھوٹا ہے نہ چھوٹے گا ہم سے درِ جانانہ۔
بےخود کیے دیتے ہیں اندازِ حجابانہ،
آ دل میں تجھے رکھ لوں اے جلوۂ جانانہ۔
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ شہرہ آفاق صوفیانہ کلام (حضرت بیدم شاہ وارسی کا لکھا ہوا) عشقِ الٰہی اور عشقِ مصطفیٰ ﷺ میں ڈوبے ہوئے ایک سچے عاشق کی بے خودی، دیوانگی اور دیدار کی بے انتہا تڑپ کو بیان کرتا ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ اے میرے محبوب! آپ کا پردے میں رہنے کا یہ اچھوتا انداز (اندازِ حجابانہ) مجھے مدہوش اور ہوش سے بیگانہ کر رہا ہے، اب دل یہی چاہتا ہے کہ آپ کے اس نورانی جلوے کو ہمیشہ کے لیے اپنے دل میں بسا لوں۔ شاعر التجا کرتا ہے کہ جب میرا آخری وقت آئے اور جان لبوں پر ہو، تو آپ میرے سامنے تشریف لے آئیں تاکہ نزع کے عالم میں بھی آپ کا دیدار نصیب ہو سکے۔
| لفظ (Word) | معنی (Meaning) |
|---|---|
| بےخود | مدہوش / اپنی سدھ بدھ کھو دینے والا |
| اندازِ حجابانہ | پردہ کرنے کا خوبصورت طریقہ |
| جلوۂ جانانہ | محبوب کا خوبصورت چہرہ یا نور |
| نظرانہ / نذرانہ | تحفہ / بھینٹ یا ہدیہ |
| نرگسِ مستانہ | نشیلی یا مخمور آنکھیں |
| جان لبوں پر ہونا | موت کا وقت قریب ہونا / آخری لمحہ |
| محشر | قیامت کا میدان جہاں سب جمع ہوں گے |
| ساقی | جام پلانے والا (مراد: روحانی رہبر یا مرشد) |
| درِ جانانہ | محبوب کی چوکھٹ |
اس کلام کا بنیادی لبِ لباب یہ ہے کہ عشقِ رسول ﷺ میں ڈوبا ہوا عاشق اپنا ہوش و حواس کھو چکا ہے، یہاں تک کہ وہ تحفے میں اپنی آنکھیں ہی اپنے محبوب کو پیش کرنا چاہتا ہے تاکہ تحفے کے بہانے ان کا دیدار بھی ہوتا رہے۔ شاعر 'بیدم' قیامت کے دن حضور ﷺ کے قدموں میں گرنے اور ان کی زبانِ مبارک سے 'دیوانہ' کہلوائے جانے کی تمنا رکھتے ہیں۔ وہ واشگاف لفظوں میں کہتے ہیں کہ ان کی قسمت میں اسی پاک در کے سجدے لکھے ہیں جو زندگی بھر ان سے کبھی نہیں چھوٹ سکتے۔
لیرکس کے مطابق، شاعر تحفے (گفٹ) میں کیا بھیجنا چاہتا ہے تاکہ نذرانے کے بہانے درشن بھی ہو جائیں؟