मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 58 بار دیکھا گیا
,
عنوان: بارھویں کا چاند آیا، بارھویں کا چاند
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: علامہ نثار علی اجاگر
نعت خوان/ فنکار: مختلف/نامعلوم
شامل کیا گیا: 17 Aug, 2023 02:59 PM IST
دیکھا گیا: 545
Time to read: 1 min read
بارھویں کا چاند آیا، بارھویں کا چاند
بارھویں کا چاند آیا، بارھویں کا چاند
جھنڈے لگاؤ، گھر کو سجاؤ،
کر کے چراغاں، خوشیاں مناؤ، جھومو…
بارھویں کا چاند آیا، بارھویں کا چاند
بارھویں کا چاند آیا، بارھویں کا چاند
آمدِ مصطفیٰ مرحبا…
آمدِ مجتبیٰ مرحبا…
بچہ بچہ مسکرایا بارھویں کا چاند آیا،
خوشیوں کا طوفان لایا بارھویں کا چاند آیا
شادمانی کے ترانے گونجتے ہیں دہر میں،
وجد میں ہر شخص آیا بارھویں کا چاند آیا
روشنی ہی روشنی ہے، چاندنی ہی چاندنی،
ذرہ ذرہ جگمگایا بارھویں کا چاند آیا
ہو گئے ہیں بند سارے ظلمتوں کے باب آج،
دہر میں وہ نور آیا بارھویں کا چاند آیا
کھل اٹھیں کلیاں محبت کی، گلوں پر ہے نکھار،
باغِ اُلفت لہلہایا بارھویں کا چاند آیا
سازِ جاں پر بج رہا ہے ایک نغمہ بار بار،
آمنہ کا لال آیا بارھویں کا چاند آیا
شکر کرتے ہی رہو رب کا اُجاگر صبح و شام،
رب کا کیسا فضل پایا بارھویں کا چاند آیا
بارھویں کا چاند آیا، بارھویں کا چاند
بارھویں کا چاند آیا، بارھویں کا چاند
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلام حضور نبی کریم ﷺ کی ولادتِ با سعادت کی خوشی اور کائنات میں آنے والی نورانی تبدیلیوں کا نہایت خوبصورت تذکرہ ہے۔ اس میں بارہ ربیع الاول کی اہمیت کو 'بارہویں کے چاند' کی علامت سے واضح کیا گیا ہے۔
ان اشعار میں شاعر کہتا ہے کہ حضور ﷺ کی آمد سے دنیا سے اندھیروں کے تمام دروازے بند ہو گئے ہیں اور کائنات کا ذرہ ذرہ نورِ مصطفیٰ ﷺ سے جگمگا اٹھا ہے۔ آمنہ کے لال ﷺ کی تشریف آوری پر ہر چھوٹا بڑا مسرور ہے اور فضاؤں میں شادمانی کے نغمے گونج رہے ہیں۔
| لفظ | معنی (Hindi/English) |
|---|---|
| چراغاں | روشنی کرنا / Illumination |
| دہر | دنیا یا زمانہ / World |
| شادمانی | خوشی / Joy |
| وجد | روحانی مستی / Ecstasy |
| ظلمتوں کے باب | اندھیرے کے دروازے / Doors of darkness |
| فضل | کرم یا احسان / Grace |
حضور ﷺ کی ولادت کائنات کے لیے رب کا سب سے بڑا فضل ہے، جس کے آنے سے محبت کے باغ مہک اٹھے اور انسانیت کو اندھیروں سے نجات ملی۔ شاعر 'اُجاگر' تاکید کرتے ہیں کہ اس عظیم نعمت پر گھروں کو سجانا، چراغاں کرنا اور صبح و شام اللہ کا شکر ادا کرنا ہر عاشقِ رسول ﷺ کا شیوہ ہونا چاہیے۔
حضور ﷺ کی آمد پر شاعر نے 'ظلمتوں کے باب' (اندھیرے کے دروازوں) کے بارے میں کیا کہا ہے؟