मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 57 بار دیکھا گیا
,
عنوان: بندہ ملنے کو قریب حضرتِ قادر گیا
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: کلام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا
نعت خوان/ فنکار: اویس رضا قادری
شامل کیا گیا: 03 Aug, 2023 03:23 PM IST
دیکھا گیا: 189
Time to read: 2 min read
بندہ ملنے کو قریب حضرتِ قادر گیا،
لمحۂ باطن میں گم تے، جلوۂ ظاہر گیا۔
تری مرضی پا گیا سورج بھی پھیرا اُلٹے قدم،
تری اُنگلی اُٹھ گئی، ماہ کا کلیجہ چِیر گیا۔
بڑھ چلی تیری ضیا، اندھیرِ عالم سے گھٹا،
کھل گیا دَیسو ترا، رحمت کا بادل سَجا گیا۔
بندھ گئی تیری ہوا، سَواں میں خاک اُڑنے لگی،
بڑھ چلی تیری ضیا، آتش پہ پانی پھِر گیا۔
تری رحمت سے صفیُ اللہ کا بیڑا پار تھا،
ترے صدقے سے نجیُ اللہ کا بجارہ تَر گیا۔
تری آمد تھی کہ بیتُ اللہ مزارے کو جھُکا،
تری ہیبت تھی کہ ہر بُت تھر تھرا کر گِر گیا۔
مومن اُس کا کیا ہوا، اللہ اُس کا ہو گیا،
کافر اُن سے کیا پھرا، اللہ ہی سے پھِر گیا۔
وہ کہ اس دَر کا ہوا، خَلقِ خدا اُس کی ہوئی،
وہ کہ اس دَر سے پھِرا، اللہ اُس سے پھِر گیا۔
مجھ کو دیوانہ بتاتے ہو، میں تو ہوشیار ہوں،
پاؤں جب طائفِ حرم میں تھک گئے، سَر پھِر گیا۔
رحمۃٌ للعٰلمین! آفت میں ہوں، کیسی کروں،
مرے مولا! میں تو اس دِل میں بَلا سے گِھر گیا۔
میں ترے ہاتھوں کے صدقے، کیسی قادریہ تھی وہ،
جِن سے اتنے کافروں کا دَفعَۃً مُنہ پھِر گیا۔
کیوں جنابِ ابو ہریرہ! تھا وہ کیسا جامِ شیر،
جس سے ستر صاحِبوں کا ایک گھونٹ میں مُنہ پھِر گیا۔
واسطہ پیارے کا ایسا ہو کہ جو سُنّی مرے،
یوں نہ فرما کہ ترے شاہد کی وہ فاجر گیا۔
عرش پر دھومیں مچیں، وہ مومنِ صالح ملا،
فرش سے ماتم اُٹھے، وہ طیب و طاہر گیا۔
اللہ اللہ یہ عُروجِ خاصِ عبودیت، رضا!
بندہ ملنے کو قریب حضرتِ قادر گیا۔
ٹھوکریں کھاتے پھرو گے اُن کے دَر پر پڑ رہو،
قافلہ تو اے رضا! اوّل گیا، آخر گیا۔
بندہ ملنے کو قریب حضرتِ قادر گیا،
لمحۂ باطن میں گم تے، جلوۂ ظاہر گیا۔
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ شاہکار نعتِ پاک (امامِ اہل سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمتہ اللہ علیہ کی لکھی ہوئی) واقعۂ معراج، حضور ﷺ کے عظیم معجزات، کائنات پر ان کی حکمرانی اور ان کی بارگاہ کی لازوال خصوصیات کا گہرا رُوحانی احاطہ کرتی ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ معراج کی رات اللہ کے محبوب ﷺ ربِ ذوالجلال کے اتنے قریب ہوئے کہ عبودیت اور بندگی کا اعلیٰ ترین عروج ظاہر ہو گیا۔ آپ ﷺ کو اللہ نے وہ تصرف عطا فرمایا ہے کہ آپ کی مرضی پا کر ڈوبا ہوا سورج الٹے قدم لوٹ آیا اور آپ کی مبارک انگلی کے اشارے سے چاند کا کلیجہ دو ٹکڑے ہو گیا۔
| لفظ (Word) | معنی (Meaning) |
|---|---|
| حضرتِ قادر | اللہ تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ |
| ماہ | چاند / قمر |
| ضیا | روشنی / نور |
| صفیُ اللہ | حضرت آدم علیہ السلام کا لقب |
| نجیُ اللہ | حضرت نوح علیہ السلام کا لقب |
| بیتُ اللہ | اللہ کا گھر (کعبہ شریف) |
| خَلقِ خدا | اللہ کی مخلوق / دنیا والے |
| جامِ شیر | دودھ کا پیالہ |
| فاجر | گناہ گار / نافرمان |
اس کلام کا بنیادی لبِ لباب یہ ہے کہ حضور پاک ﷺ کی آمد سے کعبہ بھی تعظیم میں جھک گیا اور کفر کے سارے بت تھرتھرا کر گر گئے۔ جو سچے دل سے نبی کا ہو جاتا ہے، اللہ اس کا حامی و ناصر بن جاتا ہے اور جو ان کے در سے منہ موڑتا ہے، وہ حقیقت میں خدا ہی سے پھر جاتا ہے۔ آخر میں شاعر 'رضا' دنیا کو نصیحت کرتے ہیں کہ دنیا بھر کی ٹھوکریں کھانے سے بہتر ہے کہ انسان ہمیشہ کے لیے حضور ﷺ کی چوکھٹ کا ہو کر رہ جائے۔
لیرکس کے مطابق، جب نبی کریم ﷺ کی انگلی اٹھی تو آسمان کے کس جرمِ فلکی (چاند یا سورج) کا کلیجہ چیر گیا؟