, بل بل جاؤں تورے میں تو ہے بئریا - Shan E Nabi
search
لاگ ان

بل بل جاؤں تورے میں تو ہے بئریا Lyrics In اردو

(بل بل جاؤں تورے میں تو ہے بئریا, ذرا ٹھہر ٹھہر جگمگاتی یہ نگرذرا دیکھن دے)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: بل بل جاؤں تورے میں تو ہے بئریا

زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)

مصنف/گیتکار: انجم

نعت خوان/ فنکار: انجم

شامل کیا گیا: 07 Sep, 2025 09:30 AM IST

دیکھا گیا: 308

Time to read: 2 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

بل بل جاؤں تورے میں تو ہے بئریا،
ذرا ٹھہر ٹھہر، جگمگاتی یہ نگر،
ذرا دیکھن دے... دیکھن دے...

بل بل جاؤں تورے میں تو ہے بئریا...

سورگ لگے اشرف کی نگرِیا،
یہ من بھاون رات ہو،
نیند کے ایک نِردوش فرشتے،
چھوڑ دے میرا ساتھ ہو،
بِنتی کروں تورے، پئیا پڑت ہوں،
مان لے موری بات ہو،
ابھی تو پیاسی ہے نظریا،
ذرا ٹھہر ٹھہر، جگمگاتی یہ نگر،
ذرا دیکھن دے... دیکھن دے...

بل بل جاؤں تورے میں تو ہے بئریا... بل بل...

سیمنا والے مخدوم اشرف، جن کا ہے اشرف نام ہو،
جن کے چرن ماں ویاکل منوا، پائے سدا آرام ہو،
انت سمے درشن کرنے دو، سنو اے خاش و عام ہو،
ابھی نہ ڈالو مورے منہ پہ چدریا،
ذرا ٹھہر ٹھہر، جگمگاتی یہ نگر،
ذرا دیکھن دے... دیکھن دے...

بل بل جاؤں تورے میں تو ہے بئریا... بل بل...

بڑا ہی پَاون پَوِتر جل ہے،
بڑی پیاری نیر ہو،
سانجھ سویرے بنتی ہے تقدیر ہو،
اشرف کی گلیوں میں لگی ہے،
دیوانوں کی بھیڑ ہو،
رحمت کی سب پہ برسے دیکھو رے بدریا،
ذرا ٹھہر ٹھہر، جگمگاتی یہ نگر،
ذرا دیکھن دے... دیکھن دے...

بل بل جاؤں تورے میں تو ہے بئریا... بل بل...

شاہ علاء الحق کے تَصدُق ٹل جاتی آفات ہو،
حضرت نور العین کے صدقے بٹتی ہے خیرات ہو،
انجمِ خستہ کو بھی ملی ہے نُورانی سوغات ہو،
جگ سے نِیاری مخدوم اشرف کی دُوریا،
ذرا ٹھہر ٹھہر، جگمگاتی یہ نگر،
ذرا دیکھن دے... دیکھن دے...

بل بل جاؤں تورے میں تو ہے بئریا... بل بل...

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ منقبت مخدومِ سمنان، حضرت سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی (RA) (کچھوچھہ شریف) کی بارگاہ میں ہندی، برج اور اردو کے خوبصورت آمیزے کے ساتھ پیش کی گئی ہے، جو عقیدت اور محبت کا ایک انوکھا اظہار ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

شاعر کچھوچھہ کی ہواؤں (بئریا) سے التجا کرتا ہے کہ اے ہوا! ذرا تھم تھم کر چل تاکہ میں اس جگمگاتی بستی کا نظارہ جی بھر کر کر سکوں۔ وہ موت کے فرشتے سے بھی مہلت مانگتا ہے کہ ابھی میرے چہرے پر کفن کی چادر نہ ڈالو، کیونکہ میری پیاسی آنکھیں ابھی اپنے پیر و مرشد کے دیدار میں محو ہیں۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

لفظمعنی
بل بل جاؤںقربان جاؤں / صدقے جاؤں
بئریاٹھنڈی اور لطیف ہوا
سورگجنت / بہشت
پئیا پڑتپیروں میں گرنا / منت کرنا
ویاکل منوابے چین دل
چدریاکفن / موت کی چادر
نیرپانی (آبِ شفا)
دُوریاچوکھٹ / آستانہ

خلاصہ (Summary)

اس کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ مخدومِ سمنان کا آستانہ ہر خاص و عام کے لیے رحمت اور سکون کا مرکز ہے، جہاں آنے والا ہر بے چین دل آرام پاتا ہے۔ شاعر مخدوم پاک کی نوری سوغات اور وہاں بٹنے والی خیرات کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنی زندگی کے آخری لمحے تک ان کی گلیوں کے نظارے کی تمنا کرتا ہے، کیونکہ اس کے نزدیک یہ نگر دنیا سے نیارا اور جنت نشان ہے۔

"ابھی نہ ڈالو مورے منہ پہ چدریا" — کیا یہ مصرعہ ایک سچے مرید کی اپنے مرشد کے دیدار کے لیے اس آخری بے قراری کو بیان نہیں کرتا جو لفظوں سے ماورا ہے؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں:

نمایاں آرٹسٹ/گیت نگار

سبھی دیکھیں