اندھیری رات ہے غم کی گھٹا عصیاں کی کالی ہے
- 1 مہینہ پہلے fiber_manual_record 117 بار دیکھا گیا
,
عنوان: بل بل جاؤں تورے میں تو ہے بئریا
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
شامل کیا گیا: 07 Sep, 2025 09:30 AM IST
دیکھا گیا: 308
Time to read: 2 min read
بل بل جاؤں تورے میں تو ہے بئریا،
ذرا ٹھہر ٹھہر، جگمگاتی یہ نگر،
ذرا دیکھن دے... دیکھن دے...
بل بل جاؤں تورے میں تو ہے بئریا...
سورگ لگے اشرف کی نگرِیا،
یہ من بھاون رات ہو،
نیند کے ایک نِردوش فرشتے،
چھوڑ دے میرا ساتھ ہو،
بِنتی کروں تورے، پئیا پڑت ہوں،
مان لے موری بات ہو،
ابھی تو پیاسی ہے نظریا،
ذرا ٹھہر ٹھہر، جگمگاتی یہ نگر،
ذرا دیکھن دے... دیکھن دے...
بل بل جاؤں تورے میں تو ہے بئریا... بل بل...
سیمنا والے مخدوم اشرف، جن کا ہے اشرف نام ہو،
جن کے چرن ماں ویاکل منوا، پائے سدا آرام ہو،
انت سمے درشن کرنے دو، سنو اے خاش و عام ہو،
ابھی نہ ڈالو مورے منہ پہ چدریا،
ذرا ٹھہر ٹھہر، جگمگاتی یہ نگر،
ذرا دیکھن دے... دیکھن دے...
بل بل جاؤں تورے میں تو ہے بئریا... بل بل...
بڑا ہی پَاون پَوِتر جل ہے،
بڑی پیاری نیر ہو،
سانجھ سویرے بنتی ہے تقدیر ہو،
اشرف کی گلیوں میں لگی ہے،
دیوانوں کی بھیڑ ہو،
رحمت کی سب پہ برسے دیکھو رے بدریا،
ذرا ٹھہر ٹھہر، جگمگاتی یہ نگر،
ذرا دیکھن دے... دیکھن دے...
بل بل جاؤں تورے میں تو ہے بئریا... بل بل...
شاہ علاء الحق کے تَصدُق ٹل جاتی آفات ہو،
حضرت نور العین کے صدقے بٹتی ہے خیرات ہو،
انجمِ خستہ کو بھی ملی ہے نُورانی سوغات ہو،
جگ سے نِیاری مخدوم اشرف کی دُوریا،
ذرا ٹھہر ٹھہر، جگمگاتی یہ نگر،
ذرا دیکھن دے... دیکھن دے...
بل بل جاؤں تورے میں تو ہے بئریا... بل بل...
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ منقبت مخدومِ سمنان، حضرت سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی (RA) (کچھوچھہ شریف) کی بارگاہ میں ہندی، برج اور اردو کے خوبصورت آمیزے کے ساتھ پیش کی گئی ہے، جو عقیدت اور محبت کا ایک انوکھا اظہار ہے۔
شاعر کچھوچھہ کی ہواؤں (بئریا) سے التجا کرتا ہے کہ اے ہوا! ذرا تھم تھم کر چل تاکہ میں اس جگمگاتی بستی کا نظارہ جی بھر کر کر سکوں۔ وہ موت کے فرشتے سے بھی مہلت مانگتا ہے کہ ابھی میرے چہرے پر کفن کی چادر نہ ڈالو، کیونکہ میری پیاسی آنکھیں ابھی اپنے پیر و مرشد کے دیدار میں محو ہیں۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| بل بل جاؤں | قربان جاؤں / صدقے جاؤں |
| بئریا | ٹھنڈی اور لطیف ہوا |
| سورگ | جنت / بہشت |
| پئیا پڑت | پیروں میں گرنا / منت کرنا |
| ویاکل منوا | بے چین دل |
| چدریا | کفن / موت کی چادر |
| نیر | پانی (آبِ شفا) |
| دُوریا | چوکھٹ / آستانہ |
اس کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ مخدومِ سمنان کا آستانہ ہر خاص و عام کے لیے رحمت اور سکون کا مرکز ہے، جہاں آنے والا ہر بے چین دل آرام پاتا ہے۔ شاعر مخدوم پاک کی نوری سوغات اور وہاں بٹنے والی خیرات کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنی زندگی کے آخری لمحے تک ان کی گلیوں کے نظارے کی تمنا کرتا ہے، کیونکہ اس کے نزدیک یہ نگر دنیا سے نیارا اور جنت نشان ہے۔
"ابھی نہ ڈالو مورے منہ پہ چدریا" — کیا یہ مصرعہ ایک سچے مرید کی اپنے مرشد کے دیدار کے لیے اس آخری بے قراری کو بیان نہیں کرتا جو لفظوں سے ماورا ہے؟