मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 3 ہفتے پہلے fiber_manual_record 302 بار دیکھا گیا
,
عنوان: اے صبا مصطفیٰ سے کہہ دینا
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم
نعت خوان/ فنکار: مختلف/نامعلوم
شامل کیا گیا: 25 Mar, 2023 09:11 AM IST
دیکھا گیا: 1.4K
Time to read: 1 min read
اے صبا مصطفیٰ سے کہہ دینا
گم کے مارے سلام کہتے ہیں
یاد کرتے ہے تم کو شام و شہر
بیسہارے سلام کہتے ہیں
الله الله حضور کی باتیں
مرحبا رنگ و نور کی باتیں
چاند جن کی بلائیں لیتا ہے
اور تاریں سلام کہتے ہیں
اے صبا مصطفیٰ سے کہہ دینا
گم کے مارے سلام کہتے ہیں
جب محمّد کا نام آتا ہے
رحمتوں کا پیام آتا ہے
لب ہمارے درود پڑھتے ہیں
دل ہمارے سلام کہتے ہیں
اے صبا مصطفیٰ سے کہہ دینا
گم کے مارے سلام کہتے ہیں
الله الله حضور کے گیسو
بھینی بھینی مہکتی وہ خوشبوں
جنسے مامور ہے فضا ہر سو
وہ نظارے سلام کہتے ہیں
اے صبا مصطفیٰ سے کہہ دینا
گم کے مارے سلام کہتے ہیں
زیرے طیبہ تو مدینے میں
پیارے آقا سے اتنا کہہ دینا
آپ کی گردے راہ کو آقا
بیسہارے سلام کرتے ہیں
اے صبا مصطفیٰ سے کہہ دینا
گم کے مارے سلام کہتے ہیں
ذکر تھا آخری مہینے کا
تزکرا چھيڑ گیا مدینے کا
حاجیوں مصطفیٰ سے کہہ دینا
گم کے مارے سلام کہتے ہیں
اے صبا مصطفیٰ سے کہہ دینا
گم کے مارے سلام کہتے ہیں
اے خدا کے حبیب پیارے رسول
یہ ہمارا سلام کیجئے قبول
آج محفل میں جتنے حاضر ہیں
مل کے سارے سلام کہتے ہیں
اے صبا مصطفیٰ سے کہہ دینا
گم کے مارے سلام کہتے ہیں
یاد کرتے ہے تم کو شام و شہر
بیسہارے سلام کہتے ہیں
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ اردو ادب کی ایک انتہائی مقبول، رقت آمیز اور دلکش نعتِ پاک ہے، جس میں ایک عاشقِ رسول ﷺ صبح کی ٹھنڈی ہوا (صبا) اور حج و زیارت پر جانے والے مسافروں کے ذریعے بارگاہِ رسالت میں اپنے دل کا حال اور سلامِ عقیدت پیش کرتا ہے۔
ان پُر سوز اشعار کا مطلب ہے کہ "اے صبح کی ٹھنڈی ہوا (صبا)! تو مدینہ منورہ جا کر ہمارے پیارے آقا مصطفیٰ ﷺ کی بارگاہ میں عرض کرنا کہ دنیا کے ستائے ہوئے، غم کے مارے اور بے سہارا لوگ آپ ﷺ کو صبح و شام یاد کرتے ہیں اور سلام بھیجتے ہیں۔" جب بھی زبان پر محمد ﷺ کا مبارک نام آتا ہے، تو دل و جان میں رحمتوں کا نزول ہونے لگتا ہے، لبوں پر درود جاری ہو جاتا ہے اور دل عقیدت سے جھک جاتا ہے۔
| الفاظ | معنی (Meanings) |
|---|---|
| صبا | صبح کی ٹھنڈی اور لطیف ہوا |
| شام و سحر (شہر) | صبح اور شام / دن رات |
| بلائیں لینا | قربان جانا / صدقے جانا یا گہری محبت کا اظہار |
| پیام | پیغام یا سندیسہ |
| گیسو / ہر سو | حضور ﷺ کے مبارک بال / ہر طرف یا چاروں طرف |
| مامور | بھری ہوئی یا معطر و خوشبودار |
| زائرِ طیبہ (زیرے طیبہ) | مدینہ منورہ کی زیارت کرنے والا مسافر |
| گردِ راہ | راستے کی دھول یا مٹی |
اس کلامِ بلاغت نظام کا لبِ لباب یہ ہے کہ دنیا کے پریشان حال اور غم زدہ امتی حضور ﷺ کے درِ پاک کے سوا کسی کو اپنا ملجا و ماویٰ نہیں سمجھتے۔ شاعر آپ ﷺ کی بے مثل شان، معطر زلفوں اور بلند رتبے کی تعریف کرتا ہے جس کے آگے چاند تارے بھی سرِ تسلیم خم کرتے ہیں۔ آخر میں، نعت کی محفل میں شریک تمام حاضرین کی طرف سے اجتماعی طور پر عاجزانہ سلام پیش کرتے ہوئے یہ التجا کی گئی ہے کہ اے خدا کے حبیب ﷺ! ہم گنہگاروں کا یہ نذرانۂ سلام قبول فرمائیے۔
شاعر کے مطابق، جب نبیِ کریم ﷺ کا مبارک نام لیا جاتا ہے، تو ہمارے لبوں اور دلوں پر اس کا کیا اثر ہوتا ہے؟