मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 56 بار دیکھا گیا
,
عنوان: اے نسیمِ سحر میرے سرکار کو میرے بارے میں اتنا بتا دیجئے
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
شامل کیا گیا: 24 Sep, 2022 12:03 PM IST
دیکھا گیا: 2.4K
Time to read: 2 min read
اے نسیمِ سحر میرے سرکار کو میرے بارے میں اتنا بتا دیجئے،
اے نسیمِ سحر میرے سرکار کو میرے بارے میں اتنا بتا دیجئے،
یا تو مجھ کو مدینہ بلا لیجئے یا تو دل کو مدینہ بنا دیجئے
کام تو خوب کرتی ہے میری نظر،
پھر بھی بیچین رہتا ہوں یہ سوچ کر،
بجھ نہ جائے کہی آنکھ کی روشنی،
گمبدِ خضرا جلدی دکھا دیجیے
یا تو مجھ کو مدینہ بلا لیجئے یا تو دل کو مدینہ بنا دیجئے
چڑھ کے نیزے کے سینے پے شبّیر نے،
پڑھ کے قرآن اعلان یہ کردیا،
چاہتے ہو کے زندگی ہمیشہ رہے،
نام پے ان کے گردن کٹا دیجئے
یا تو مجھ کو مدینہ بلا لیجئے یا تو دل کو مدینہ بنا دیجئے
جلنے والے جو ہے وہ دھل جائنگے،
چاہنے والے فورن مچل جائنگے،
دونو ہے کون پہچاننا ہو اگر،
نارا احمد رضا کا لگا دیجئے
یا تو مجھ کو مدینہ بلا لیجئے یا تو دل کو مدینہ بنا دیجئے
چاند کو دیکھنا ہو زمین پر جسے،
اس سے کچھ مت کہو، اس سے کچھ مت کہو،
اس کو لے کر بریلی چلے جائیے
یا تو مجھ کو مدینہ بلا لیجئے یا تو دل کو مدینہ بنا دیجئے
تھانوی قبر میں جب ليٹایا گیا،
سارے کيڈے مکوڈے نے مل کر کہا،
یہ بھی گشتاکھ ہے میرے سرکار کا،
اس کو اوقات اس کی دکھا دیجئے
یا تو مجھ کو مدینہ بلا لیجئے یا تو دل کو مدینہ بنا دیجئے
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ محبت اور گہری عقیدت سے لبریز ایک مشہور نعت و منقبت ہے، جس میں صبا کے جھونکوں کے ذریعے بارگاہِ رسالت میں حاضری کی التجا، پیغامِ کربلا اور مسلکِ اعلیٰ حضرت سے دلی وابستگی کا اظہار کیا گیا ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ اے صبح کی ٹھنڈی ہوا (نسیمِ سحر), میرے آقا ﷺ کی بارگاہ میں جا کر میری یہ عرض پیش کر دو کہ یا تو مجھے جلد مدینہ منورہ بلا لیں، یا پھر میرے اس بے چین دل کو ہی مدینہ بنا دیں۔ شاعر تڑپ کر کہتا ہے کہ اس سے پہلے کہ میری آنکھوں کی بینائی چلی جائے، مجھے گنبدِ خضرا کا دیدار کرا دیجیے، اور حق کی خاطر امام حسین (شبیر) کی طرح جان قربان کرنے کا جذبہ عطا فرمائیے۔
| لفظ | معنی (Urdu) |
|---|---|
| نسیمِ سحر | صبح کی ٹھنڈی اور لطیف ہوا / صبا |
| گنبدِ خضرا | سبز گنبد (حضور ﷺ کا روضہ مبارک) |
| شبّیر | حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا نام |
| دھل (دہل) | خوفزدہ ہونا / کانپ اٹھنا |
| احمد رضا | اعلیٰ حضرت، امام احمد رضا خان بریلویؒ |
| گشتاکھ (گستاخ) | بے ادب / بے حرمتی کرنے والا |
شاعر اپنی اندرونی بے چینی کو حضور ﷺ تک پہنچانے کے لیے نسیمِ سحر کا سہارا لیتا ہے۔ کلام میں معرکۂ کربلا کا حوالہ دے کر بتایا گیا ہے کہ اصل اور لافانی زندگی وہی ہے جو دینِ مصطفیٰ ﷺ کے نام پر قربان ہو جائے۔ اس کے ساتھ ہی، بریلی شریف کے بزرگوں سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سچے عاشق اور حاسد کی پہچان امام احمد رضا کے نعرے سے ہوتی ہے، اور بارگاہِ رسالت میں گستاخی کرنے والوں کا انجام آخرت میں انتہائی عبرتناک ہوتا ہے۔
شاعر کے مطابق، اگر زمین پر ہی چاند کا دیدار کرنا ہو، تو انسان کو کہاں جا کر کس کا چہرہ دیکھنا چاہیے؟