मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 66 بار دیکھا گیا
,
عنوان: الودا طیبہ کو کرتا ہوں نانا
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: ندیم رضا فیضی
نعت خوان/ فنکار: ندیم رضا فیضی
شامل کیا گیا: 13 Oct, 2022 12:36 PM IST
دیکھا گیا: 2.5K
Time to read: 1 min read
الودا طیبہ کو کرتا ہوں نانا،
کربل کے میداں میں جاتا ہوں نانا،
بچپن کا وعدہ نبھاتا ہوں نانا
دینِ نبی کے خاطر سر کو ہم کٹائنگے،
مذہبِ اسلام کا پرچم ہر سُو ہم لہرائنگے،
باندھے کفن سر پے جاتا ہوں نانا،
بچپن کا وعدہ نبھاتا ہوں نانا
سہما سہما چاند و سورج آسماں بھی لگتا ہے،
میدانِ کربلا میں آکر میرا اکبر کہتا ہے،
سب کچھ تمہی پے لٹاتا ہوں نانا،
بچپن کا وعدہ نبھاتا ہوں نانا
آلِ نبی کی کیا ہے شان ہم بتائنگے،
نامِ یزیدیت اِس دنیا سے مٹائنگے،
لئینوں کی ہستی کو ہم تو مٹائنگے،
باطل کے آگے ہرگز نہ سر کو جھکائنگے،
راہِ خُدا میں سر کٹاتا ہوں نانا،
بچپن کا وعدہ نبھاتا ہوں نانا
الودا طیبہ کو کرتا ہوں نانا،
کربل کے میداں میں جاتا ہوں نانا
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلام نواسۂ رسول، حضرت امام حسین (ر.ع) کا مدینہ منورہ (طیبہ) چھوڑتے وقت اپنے نانا حضور پاک ﷺ کے روضۂ انور پر الوداعی حاضری اور معرکۂ کربلا میں اسلام کی بقا کے لیے اپنی عظیم قربانی پیش کرنے کا ایک نہایت رقت آمیز اور پرجوش بیاں ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ حضرت امام حسین (ر.ع) اپنے نانا کے دین کی حفاظت اور حق کو زندہ رکھنے کے لیے سر پر کفن باندھ کر کربلا کے میدان کی طرف روانہ ہو رہے ہیں۔ وہ اپنے بچپن کے عہد کو پورا کرنے کے لیے باطل کے سامنے سر جھکانے سے انکار کرتے ہوئے راہِ خدا میں اپنا سب کچھ قربان کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔
| لفظ | معنی (Urdu) |
|---|---|
| طیبہ | مدینہ منورہ کا پاکیزہ نام |
| ہر سُو | ہر طرف / چاروں جانب |
| پرچم | جھنڈا / علم |
| آلِ نبی | حضور ﷺ کا پاک گھرانہ (اہلِ بیت) |
| یزیدیت | ظلم، ناانصافی اور آمریت کا نظام |
| لئینوں | ملعون لوگ / جن پر لعنت ہو (مراد یزیدی فوج) |
| باطل | جھوٹ / ناحق / کفر |
| راہِ خدا | اللہ کے راستے میں |
حضرت امام حسین (ر.ع) اسلام کے پرچم کو سر بلند کرنے کے لیے یزید جیسے جابر حکمران کے سامنے جھکنے کے بجائے سر کٹانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ کربلا کے تپتے میدان میں ان کے بیٹے حضرت علی اکبر (ر.ع) سمیت پورا خاندان اللہ کی راہ میں جان نثار کر کے ہمیشہ کے لیے یزیدیت کا نام و نشان مٹا دیتا ہے اور حق کو دوام بخشتا ہے۔
شاعر کے مطابق، حضرت امام حسینؓ کس کے آگے 'ہرگز سر نہ جھکانے' اور کس نظام کو دنیا سے مٹانے کا اعلان کرتے ہیں؟