मेरे सरकार आए
- 9 مہینے پہلے fiber_manual_record 720 بار دیکھا گیا
,
عنوان: آئے ری مورے آنگنا معین الدین
زمرہ: قوّالی کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: صابری برادران
نعت خوان/ فنکار: صابری برادران
شامل کیا گیا: 19 May, 2023 07:55 AM IST
دیکھا گیا: 419
Time to read: 3 min read
صاحب جی سلطان جی تم بڑے غریب نواز،
اپنی کرکے رکھیو سو بانہ گہے کی لاج
آئے ہوئے ہیں مورے آنگنا، سب ولیوں کے راجا،
ہیں جو رسول اللہ کے پیارے، سب کہیں ان کو خواجہ
مورے آنگنا معین الدین آئے ری،
مورے آنگنا معین الدین آئے ری
مورے آنگنا، آنگنا
مورے آنگنا، آنگنا
آئے ری آئے، مورے بھاگ جگائے،
مورے آنگنا معین الدین
آئے ری آئے، مورے بھاگ جگائے
آئے ری آئے، مورے بھاگ جگائے
مورے بھاگ جگائے…
مورے بھاگ جگائے…
آؤ سَیّو رَل دیوو بدھائی،
میں ور پایا خواجہ ماہی،
آج دا روز مبارک چڑھیا،
خواجہ ساڈے ویڑے وڈھیا
مورے بھاگ جگائے…
مورے بھاگ جگائے…
جاگے بھاگ ہمارے سَجنی،
مورے بھاگ جگائے…
مورے بھاگ جگائے…
میں سو کر لیندا، پیر مناواں،
مورے آنگنا معین الدین آئے ری
سونے کا دیا را میں چومکھ وارو،
اپنے خواجہ پہ میں تن من وارو
آئے ری آئے، مورے بھاگ جگائے،
مورے آنگنا معین الدین آئے ری
من میں خوشی کے پھول کھلے ہیں،
آج موہے مورے خواجہ ملے ہیں،
خوشیاں مناؤ سکھیو، جھوم کے گاؤ
آئے ری آئے، مورے آنگنا معین الدین
آئے ری آئے، مورے آنگنا معین الدین
خواجہ پیا ہیں جگ اُجیارے،
جگ اُجیارے، جگت اُجیارے،
آلِ نبی زہراؑ کے دلارے،
جانِ علیؑ ہیں خواجہ، ابنِ سخی ہیں
خواجہ قطب ہیں آج یہاں پر،
جھوم رہے ہیں سارے قلندر،
بابا فرید بھی آئے ہوئے ہیں،
مورے آنگنا معین الدین آئے ری
آج مورے گھر دھوم مچی ہے،
خواجہ پیا کی شادی رچی ہے
خواجہ پیا کی شادی رچی ہے…
خواجہ پیا کی شادی رچی ہے…
خواجہ عثمان مہندی لائے،
خواجہ قطب ہیں جھنڈا اٹھائے،
شیخ فرید بھی وجد میں آئے،
بابا فرید بھی وجد میں آئے،
نظام الدین اور صابر گائیں
خواجہ پیا کی شادی رچی ہے…
خواجہ پیا کی شادی رچی ہے…
خواجہ پیا… مورے خواجہ پیا کی،
خواجہ پیا… مورے خواجہ پیا،
پیا پیا پیا پیا……
آؤ سَخی مِل چَوسَر کھیلیں،
خواجہ اپنے سنگ،
جیت گئی تو خواجہ ملیں گے
جیت گئی تو خواجہ ملیں گے،
خواجہ ملیں گے… مہاراجا ملیں گے
جیت گئی تو خواجہ ملیں گے،
ہاری تو خواجہ سنگ…
آج مورے گھر دھوم مچی ہے،
خواجہ پیا کی شادی رچی ہے،
دُولہا بنے خواجہ عثمان کے پیارے
مورے آنگنا معین الدین آئے ری
دھمال کھیلیں سرمست آ کر،
(دھمال بجتا ہے…)
دھمال کھیلیں سرمست آ کر
مستی میں ہیں بو علی شاہ قلندر،
خسرو بَدھاوا لائے ری
مورے آنگنا معین الدین،
مورے آنگنا معین الدین
مورے آنگنا وہ آئے…
مورے آنگنا وہ آئے…
ہمارے گھر کو یہ رونق کہاں میسر تھی،
حضور آپ کے قدموں کی مہربانی ہے
وہ آئے مورے آنگنا…
وہ آئے مورے آنگنا…
اپنے خواجہ پہ میں جُبنا لُٹاؤں،
اپنے خواجہ پہ میں واری جاؤں
واری جاؤں، بَلیہاری جاؤں،
اپنے خواجہ پہ میں واری جاؤں
آیا بنا آیا…
ہر یالا بنا آیا
حیدر کا پوت آیا، زہراؑ کا جایا آیا،
یہ دن خدا دکھایا، میرا خواجہ بنا آیا
آیا بنا آیا…
آیا بنا آیا…
حیدر کا پوت آیا، زہراؑ کا جایا آیا،
یہ دن خدا دکھایا، میرا خواجہ بنا آیا
رے… آیا بنا آیا…
آیا بنا آیا…
میں تو نظر کے ڈر سے، دیکھی نہ آنکھ بھر کے،
موہن مُکھ پایا، میرا خواجہ بنا آیا
دیکھو وقار کیسی مُکھڑے پہ ہے تجلی،
جگ سارا جگمگایا، میرا خواجہ بنا
مورے آنگنا وہ آئے،
مورے آنگنا وہ آئے
مورے آنگنا معین الدین آئے ری،
مورے آنگنا معین الدین…
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ صوفیانہ رنگ، اودھی، پنجابی اور اردو زبان کا ایک سحر انگیز اور تاریخی کلام ہے، جس میں شہنشاہِ ہندوستان حضرت خواجہ معین الدین چشتی (خواجہ غریب نواز) کے عرس مبارک (روحانی وصال و جش نِ شادی) اور ان کی بارگاہ سے ملنے والے فیضان کو امیر خسرو کی روایتی صوفیانہ زبان میں پیش کیا گیا ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ مرید کے مقدر (بھاگ) جاگ اٹھے ہیں کیونکہ اس کے دل و جان کے آنگن میں تمام ولیوں کے راجا خواجہ غریب نواز کی روحانی آمد ہوئی ہے۔ آج ان کے وصالِ الٰہی کا جشنِ شادی ہے، جس کی خوشی میں مرید اپنی سہیلیوں (سکھیوں) کے ساتھ مل کر مبارکباد (بدھاوا) گا رہا ہے اور اپنا تن من اپنے مرشد پر قربان کر رہا ہے۔
| لفظ (Word) | معنی (Meaning) |
|---|---|
| بانہ گہے کی لاج | جس کا ہاتھ تھام لیا جائے اس کی آبرو اور حفاظت کرنا |
| رَل دیوو بدھائی | سب مل کر مبارکباد دو |
| ویڑے وڈھیا | آنگن میں داخل ہوئے / گھر آئے |
| چوسر | ایک قدیم پانسے کا کھیل (یہاں مراد عشق کی بازی) |
| بَنا / ہریالا بنا | دولہا / وہ دولہا جس کے سر پر ہریالی یا برکت کا سہرا ہو |
| پوت / جایا | بیٹا / اولاد (مراد اولادِ علی و فاطمہ) |
| موہن مُکھ | انتہائی خوبصورت اور دل موہ لینے والا چہرہ |
اس لازوال صوفیانہ کلام کا بنیادی لبِ لباب یہ ہے کہ خواجہ غریب نواز کا دربار وہ مرکزِ انوار ہے جہاں ان کے عرس کے موقع پر چشتیہ اور قلندریہ سلسلے کے تمام جلیل القدر بزرگ (جیسے خواجہ عثمان ہارونی، خواجہ قطب الدین بختیار کاکی، بابا فرید، نظام الدین اولیاء، صابر پیا، بو علی شاہ قلندر اور امیر خسرو) روحانی طور پر جمع ہو کر معرفت کے رنگ بکھیر رہے ہیں۔ مرید اس رقت آمیز اور وجدانی کیفیت میں چوسر کی بازی کی طرح اپنا سب کچھ داؤ پر لگا کر اپنے 'مہاراجا' کو پا لینا چاہتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جیت ہو یا ہار، وہ اپنے خواجہ کے ہی سنگ رہے گا۔ کلام کے آخر میں خواجہ صاحب کے نورانی چہرے (موہن مکھ) کی الٰہی تجلی کو ایک دلنشین دولہے سے تشبیہ دی گئی ہے جس کے قدموں کی برکت سے مرید کا پورا گھرانہ اور کائنات جگمگا اٹھی ہے۔
لیرکس کے مطابق، چوسر کے کھیل میں اگر مرید جیت جائے یا ہار جائے، تو دونوں ہی صورتوں میں اسے کیا ملے گا؟