اندھیری رات ہے غم کی گھٹا عصیاں کی کالی ہے
- 1 مہینہ پہلے fiber_manual_record 117 بار دیکھا گیا
,
عنوان: آقا کا بدن نورانی بدن
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: اسد اقبال کلکتوی
نعت خوان/ فنکار: اسد اقبال کلکتوی
شامل کیا گیا: 01 Sep, 2025 03:59 PM IST
دیکھا گیا: 295
Time to read: 1 min read
آقا کا بدن نورانی بدن،
نورانی بدن لاثانی بدن،
آقا کا بدن نورانی بدن،
نورانی بدن لاثانی بدن
لاثانی بدن، نورانی بدن،
لاثانی بدن، نورانی بدن
آقا کا بدن...، آقا کا بدن...،
آقا کا بدن، آقا کا بدن...
نبی ہیں نوری دہن والے،
نبی ہیں نوری سخن والے،
نبی ہیں نوری ذکن والے،
نبی ہیں نوری بدن والے...
آقا کا بدن نورانی بدن،
نورانی بدن لاثانی بدن
انمول نگینہ کہتے ہیں،
رحمت کا دافینا کہتے ہیں،
عالم کا خزینا کہتے ہیں،
جیسے لوگ مدینہ کہتے ہیں،
وہ شہرِ نبی ہے شہرِ نبی،
رحمت کا جہاں برسے ساون
آقا کا بدن نورانی بدن،
نورانی بدن لاثانی بدن
دل کا گلدان مہکتا ہے،
ہر وقت ہر آن مہکتا ہے،
تو مانے نا مان مہکتا ہے،
جس سے ایمان مہکتا ہے...
ایسا ہے پسینہ آقا کا،
پائے تو مہک جاتی ہے دلہن...
آقا کا بدن نورانی بدن،
نورانی بدن لاثانی بدن
ہر سُن٘ی کی ہے شان رضا،
ہر عاشق کی ہے جان رضا،
ہے ایمانی چٹ٘ان رضا،
ماريہرہ کی پہچان رضا،
ہے اہل سنن کی جان رضا،
اُس پیارے نبی کے عاشق پہ،
قربان ہے اپنا تن من دھن
آقا کا بدن نورانی بدن،
نورانی بدن لاثانی بدن
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ نعت حضور ﷺ کے جسدِ اطہر کی نورانیت اور آپ ﷺ کی بے مثل صفات کی تعریف میں لکھا گیا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ آپ ﷺ کا بدنِ مبارک سراپا نور ہے اور آپ ﷺ سے منسوب ہر چیز کائنات کے لیے باعثِ برکت ہے۔
شاعر ان اشعار میں حضور ﷺ کے نورانی دہن، سخن اور بے مثال جسم کا ذکر کر رہا ہے، جس کی خوشبو سے ایمان مہک اٹھتا ہے۔ ساتھ ہی مدینہ منورہ کو رحمت کا خزانہ اور امام احمد رضا خان (اعلیٰ حضرت) کو عشقِ رسول ﷺ کی وہ مضبوط چٹان قرار دیا گیا ہے جس نے امت کو صحیح پہچان عطا کی۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| لاثانی | بے مثال / جس کی دوسری کوئی مانند نہ ہو |
| دہن / سخن | منہ / کلام (بات چیت) |
| ذکن | تھوڑی (Chin) |
| دفینہ / خزینہ | چھپا ہوا خزانہ / دولت کا مرکز |
| اہلِ سنن | سنت پر عمل کرنے والے / اہل سنت |
| تن من دھن | جان، دل اور مال (سب کچھ) |
اس نعت کا لبِ لباب یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کا وجودِ مسعود نورِ الٰہی کا مظہر ہے اور آپ ﷺ کا پسینہ مبارک خوشبوؤں کا منبع ہے۔ مدینہ کی گلیوں سے لے کر عشقِ رضا کی منزلوں تک، ہر جگہ حضور ﷺ کی عظمت کا چرچا ہے، جو ہر عاشقِ رسول کے ایمان کی اصل بنیاد ہے۔
نعت کے آخر میں شاعر نے "رضا" (امام احمد رضا خان) کے لیے کن الفاظ کا استعمال کیا ہے، اور ان کے اوپر کیا قربان کرنے کی بات کی گئی ہے؟