, آخری روزے ہیں دل غمناک مضطر جان ہے - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

آخری روزے ہیں دل غمناک مضطر جان ہے Lyrics In اردو

(آخری روزے ہیں دل غمناک مضطر جان ہے, حسرت و حسرت! اب چل دیا رمضان ہے)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: آخری روزے ہیں دل غمناک مضطر جان ہے

زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)

شامل کیا گیا: 18 Apr, 2023 08:36 PM IST

دیکھا گیا: 339

Time to read: 2 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

آخری روزے ہیں، دل غمناک، مضطر جان ہے،
حسرت و حسرت! اب چل دیا رمضان ہے۔

عاشقانِ ماہِ رمضان رو رہے ہیں پھوٹ پھوٹ کر،
دل بڑا بےچین ہے، افسردہ روح و جان ہے۔

درد و رقت سے پچھاڑ کھا کے روتا ہے کوئی،
تو کوئی تصویرِ غم بن کر کھڑا حیران ہے۔

الفراق، آہ! الفراق، اے رب کے مہمان! الفراق،
الوداع اب چل دیا تُو، اے ماہِ رمضان! ہے۔

داستانِ غم سنائیں کس کو جا کر آہ! ہم،
یا رسول اللہ! دیکھو چل دیا رمضان ہے۔

خوب روتا ہے، تڑپتا ہے غمِ رمضان میں،
جو مسلمان قدر دانوں عاشقِ رمضان ہے۔

وقتِ افطار و سحر کی رونقیں ہوں گی کہاں!
چند دن کے بعد یہ سارا سماں سنسان ہے۔

ہائے! صد افسوس! رمضان کی نہ ہم نے قدر کی،
بےسبب ہی بخش دے، یا رب! کہ تُو رحمان ہے۔

کر رہے ہیں تجھ کو رو رو کر مسلمان الوداع،
آہ! اب تُو چند گھڑیوں کا فقط مہمان ہے۔

السلام، اے ماہِ رمضان! تجھ پہ ہو لاکھوں سلام،
ہجر میں اب تیرا ہر عاشق ہوا بےجان ہے۔

دست‌بستہ التّجا ہے، ہم سے راضی ہو کے جا،
بخشوانا حشر میں، ہاں! تُو ماہِ غفران ہے۔

کاش! آتے سال ہو عطار کو رمضان نصیب،
یا نبی! میٹھے مدینہ میں، بڑا ارمان ہے۔

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ ماہِ مبارک رمضان کی رخصتی پر لکھی گئی ایک نہایت ہی رقت آمیز، درد بھری اور سوز و گداز سے لبریز 'الوداعی نظم' ہے، جس میں برکتوں والے مہینے کے جانے پر مسلمانوں کی دلی تڑپ اور روحانی بے چینی کو بیان کیا گیا ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

ان اشعار کا مطلب یہ ہے کہ رمضان المبارک کے آخری روزے چل رہے ہیں، جس کی وجہ سے ہر سچے مسلمان کا دل غمی سے چور اور جان بے قرار ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ رحمتوں، برکتوں اور رونقوں سے بھرا یہ الٰہی مہمان اب ہم سے جدا ہو رہا ہے، اور اس کی جدائی کے غم میں رمضان کے قدردان اور عاشق پھوٹ پھوٹ کر رو رہے ہیں۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

لفظ (Word)معنی (Meaning)
غمناک / مضطرغم زدہ یا اداس / بے چین اور بے قرار
افسردہ / ہجرمایوس یا مرجھایا ہوا / جدائی یا فراق
رقت / پچھاڑآنسوؤں کا بہنا یا گریہ طاری ہونا / بے خود ہو کر گرنا
الفراق / فقطجدائی (عربی لفظ) / صرف یا محض
ماہِ غفرانمغفرت اور گناہوں کی معافی کا مہینہ
دست‌بستہ / التّجاہاتھ باندھ کر (عاجزی سے) / گزارش یا دعا
عطارشاعر کا تخلص (مولانا الیاس عطار قادری)

خلاصہ (Summary)

اس کلام کا بنیادی لبِ لباب یہ ہے کہ رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کا ایک عظیم الشان مہمان تھا، جس کے چلے جانے سے سحر و افطار کی وہ نورانی رونقیں ختم ہو جائیں گی اور ہر طرف ایک اداسی اور سنسان سماں چھا جائے گا۔ شاعر اپنی کوتاہیوں پر افسوس کا اظہار کرتا ہے کہ ہم اس پاک مہینے کا حق ادا نہ کر سکے، اس لیے وہ اللہ کی بارگاہ میں اس کے 'رحمان' ہونے کے ناطے بنا کسی سبب کے بخشش کی بھیک مانگتا ہے۔ آخر میں، شاعر 'عطار' عاجزی سے ہاتھ باندھ کر رمضان سے راضی ہو کر جانے کی گزارش کرتا ہے تاکہ وہ روزِ حشر ان کی شفاعت کرے، اور دل کی یہ تڑپ ظاہر کرتا ہے کہ کاش! زندگی کا اگلا رمضان اسے میٹھے مدینہ پاک کی مقدس زمین پر نصیب ہو۔

لیرکس کے مطابق، شاعر 'عطار' اگلا رمضان کہاں گزارنے کا ارمان جتا رہا ہے؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں: