मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 64 بار دیکھا گیا
,
عنوان: آخری روزے ہیں دل غمناک مضطر جان ہے
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: مولانا محمد الیاس عطار قادری رضوی
نعت خوان/ فنکار: اویس رضا قادری
شامل کیا گیا: 18 Apr, 2023 08:36 PM IST
دیکھا گیا: 339
Time to read: 2 min read
آخری روزے ہیں، دل غمناک، مضطر جان ہے،
حسرت و حسرت! اب چل دیا رمضان ہے۔
عاشقانِ ماہِ رمضان رو رہے ہیں پھوٹ پھوٹ کر،
دل بڑا بےچین ہے، افسردہ روح و جان ہے۔
درد و رقت سے پچھاڑ کھا کے روتا ہے کوئی،
تو کوئی تصویرِ غم بن کر کھڑا حیران ہے۔
الفراق، آہ! الفراق، اے رب کے مہمان! الفراق،
الوداع اب چل دیا تُو، اے ماہِ رمضان! ہے۔
داستانِ غم سنائیں کس کو جا کر آہ! ہم،
یا رسول اللہ! دیکھو چل دیا رمضان ہے۔
خوب روتا ہے، تڑپتا ہے غمِ رمضان میں،
جو مسلمان قدر دانوں عاشقِ رمضان ہے۔
وقتِ افطار و سحر کی رونقیں ہوں گی کہاں!
چند دن کے بعد یہ سارا سماں سنسان ہے۔
ہائے! صد افسوس! رمضان کی نہ ہم نے قدر کی،
بےسبب ہی بخش دے، یا رب! کہ تُو رحمان ہے۔
کر رہے ہیں تجھ کو رو رو کر مسلمان الوداع،
آہ! اب تُو چند گھڑیوں کا فقط مہمان ہے۔
السلام، اے ماہِ رمضان! تجھ پہ ہو لاکھوں سلام،
ہجر میں اب تیرا ہر عاشق ہوا بےجان ہے۔
دستبستہ التّجا ہے، ہم سے راضی ہو کے جا،
بخشوانا حشر میں، ہاں! تُو ماہِ غفران ہے۔
کاش! آتے سال ہو عطار کو رمضان نصیب،
یا نبی! میٹھے مدینہ میں، بڑا ارمان ہے۔
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ ماہِ مبارک رمضان کی رخصتی پر لکھی گئی ایک نہایت ہی رقت آمیز، درد بھری اور سوز و گداز سے لبریز 'الوداعی نظم' ہے، جس میں برکتوں والے مہینے کے جانے پر مسلمانوں کی دلی تڑپ اور روحانی بے چینی کو بیان کیا گیا ہے۔
ان اشعار کا مطلب یہ ہے کہ رمضان المبارک کے آخری روزے چل رہے ہیں، جس کی وجہ سے ہر سچے مسلمان کا دل غمی سے چور اور جان بے قرار ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ رحمتوں، برکتوں اور رونقوں سے بھرا یہ الٰہی مہمان اب ہم سے جدا ہو رہا ہے، اور اس کی جدائی کے غم میں رمضان کے قدردان اور عاشق پھوٹ پھوٹ کر رو رہے ہیں۔
| لفظ (Word) | معنی (Meaning) |
|---|---|
| غمناک / مضطر | غم زدہ یا اداس / بے چین اور بے قرار |
| افسردہ / ہجر | مایوس یا مرجھایا ہوا / جدائی یا فراق |
| رقت / پچھاڑ | آنسوؤں کا بہنا یا گریہ طاری ہونا / بے خود ہو کر گرنا |
| الفراق / فقط | جدائی (عربی لفظ) / صرف یا محض |
| ماہِ غفران | مغفرت اور گناہوں کی معافی کا مہینہ |
| دستبستہ / التّجا | ہاتھ باندھ کر (عاجزی سے) / گزارش یا دعا |
| عطار | شاعر کا تخلص (مولانا الیاس عطار قادری) |
اس کلام کا بنیادی لبِ لباب یہ ہے کہ رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کا ایک عظیم الشان مہمان تھا، جس کے چلے جانے سے سحر و افطار کی وہ نورانی رونقیں ختم ہو جائیں گی اور ہر طرف ایک اداسی اور سنسان سماں چھا جائے گا۔ شاعر اپنی کوتاہیوں پر افسوس کا اظہار کرتا ہے کہ ہم اس پاک مہینے کا حق ادا نہ کر سکے، اس لیے وہ اللہ کی بارگاہ میں اس کے 'رحمان' ہونے کے ناطے بنا کسی سبب کے بخشش کی بھیک مانگتا ہے۔ آخر میں، شاعر 'عطار' عاجزی سے ہاتھ باندھ کر رمضان سے راضی ہو کر جانے کی گزارش کرتا ہے تاکہ وہ روزِ حشر ان کی شفاعت کرے، اور دل کی یہ تڑپ ظاہر کرتا ہے کہ کاش! زندگی کا اگلا رمضان اسے میٹھے مدینہ پاک کی مقدس زمین پر نصیب ہو۔
لیرکس کے مطابق، شاعر 'عطار' اگلا رمضان کہاں گزارنے کا ارمان جتا رہا ہے؟