मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 72 بار دیکھا گیا
,
عنوان: میرا بادشاہ حسین ہے
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم
نعت خوان/ فنکار: میلاد رضا قادری
شامل کیا گیا: 29 Jul, 2023 04:51 PM IST
دیکھا گیا: 894
Time to read: 2 min read
میرا بادشاہ حسین ہے،
میرا بادشاہ حسین ہے۔
یہ بات کس قدر حسیں،
جو کہہ گئے معین الدین،
کہ دین کی پناہ حسین ہے۔
حق حسین یا حسین،
حق حسین یا حسین۔
میرا بادشاہ حسین ہے،
میرا بادشاہ حسین ہے۔
کرے جو کوئی ہمسری،
کسی کی کیا مجال ہے،
حسین ہر لحاظ سے،
حسین بے مثال ہے۔
یہ ہو چکا ہے فیصلہ،
نہ کوئی دوسرا حسن،
نہ کوئی دوسرا حسین ہے۔
حق حسین یا حسین،
حق حسین یا حسین۔
ہے جس کی فکر کربلا،
حسین وہ دماغ ہے،
یہ پنجتن کی انجمن،
کا پانچواں چراغ ہے۔
حسن کا پہلا ہمسفر،
علی کا دوسرا پسر،
امام تیسرا حسین ہے۔
حق حسین یا حسین،
حق حسین یا حسین۔
میرا بادشاہ حسین ہے،
میرا بادشاہ حسین ہے۔
ہدایتِ حسین پر،
عمل کرو اے مؤمنو،
رہیں گے ہم بہشت میں،
یقین رکھو اے مؤمنو۔
قبول ہوگی ہر دعا،
کسی سے کیوں ڈرے بھلا،
ہمارا واسطہ حسین ہے۔
حق حسین یا حسین،
حق حسین یا حسین۔
میرا بادشاہ حسین ہے،
میرا بادشاہ حسین ہے۔
قضا کے بعد پھر ادا،
نئی حیات مل گئی،
عذاب سے، عتاب سے،
مجھے نجات مل گئی۔
سوال جب کیا گیا،
ہے کون تیرا پیشوا؟
تو میں نے کہہ دیا حسین ہے۔
حق حسین یا حسین،
حق حسین یا حسین۔
میرا بادشاہ حسین ہے،
میرا بادشاہ حسین ہے۔
شہیدِ کربلا کا غم،
جسے بھی نہ گوارا ہے،
وہ بدعمل، وہ بدنسب،
اسی پہ بےشمار ہے۔
ارے او دشمنِ ازل،
تو مر، ذرا قبر میں چل،
پتا چلے گا کیا حسین ہے۔
حق حسین یا حسین،
حق حسین یا حسین۔
میرا بادشاہ حسین ہے،
میرا بادشاہ حسین ہے۔
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ عقیدت اور جوش سے لبریز انتہائی مقبول منقبت (امام عالی مقام حضرت امام حسین علیہ السلام کی شان میں) سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ کے تاریخی قول پر مبنی ہے، جو دینِ اسلام کے محافظ کی لازوال عظمت کو سلام پیش کرتی ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ ہمارے حقیقی بادشاہ اور آقا حضرت امام حسین (ع) ہیں، جنہوں نے میدانِ کربلا میں اپنا سب کچھ قربان کر کے دینِ اسلام کو نئی زندگی دی اور اسے پناہ فراہم کی۔ شاعر کہتا ہے کہ امام حسین (ع) ہر مروجہ پہلو سے بے مثال ہیں اور کائنات میں ان کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ یہاں تک کہ موت کے بعد قبر میں جب منکر نکیر رہبر و پیشوا کے متعلق سوال کریں گے، تو مومن کا بے خوف جواب یہی ہوگا کہ "میرا بادشاہ حسین ہے"۔
| لفظ (Word) | معنی (Meaning) |
|---|---|
| پناہ | امان / سایہ یا حفاظت |
| ہمسری | برابری / مقابلہ یا مماثلت |
| انجمن | محفل / مجلس (مراد: پنجتن پاک کا پاکیزہ گروہ) |
| پسر | بیٹا / فرزند (حضرت علی کے دوسرے بیٹے) |
| بہشت | جنت / فردوس |
| پیشوا | رہنما / مقتدا یا امام |
| دشمنِ ازل | ازلی دشمن / پیدائشی مخالف |
اس منقبت کا بنیادی لبِ لباب یہ ہے کہ حضرت امام حسین (ع) پنجتن پاک کی نورانی محفل کے پانچویں چراغ اور اسلام کے تیسرے امام ہیں جنہوں نے باطل کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ شاعر مومنین کو تلقین کرتا ہے کہ حسینی تعلیمات اور ان کی ہدایت پر عمل کر کے ہی ہم جنت کے حقدار بن سکتے ہیں اور عذاب و عتاب الٰہی سے نجات پا سکتے ہیں کیونکہ ہمارا وسیلہ امام حسین (ع) ہیں۔ جو لوگ شہیدِ کربلا کے غم سے دور ہیں، انہیں قبر کے اندھیرے میں اترتے ہی امام حسین (ع) کے رتبے اور ان کی طاقت کا اندازہ ہو جائے گا۔
لیرکس کی شروعات میں خواجہ معین الدین چشتی کا کون سا مشہور قول (بات) بیان کیا گیا ہے؟